110350: رمضان المبارك كى ابتدا اور انتہاء ميں رؤيت كا اعتبار ہو گا


كچھ لوگ يہ خيال كرتے ہيں كہ انہوں نے رمضان المبارك كا چاند ديكھا ہے، ليكن فلكيات والوں كا كہنا ہے كہ اس رات چاند نظر آنا ممكن نہيں تھا.
مجھے اس ميں اشكال نہيں كيونكہ حساب اور اندازہ غلط ہو سكتا ہے، ليكن مجھے اشكال يہ ہے كہ فلكيات والوں كا خيال ہے كہ ان كے پاس جو جديد آلات ہيں انہوں نے اس رات ان آلات كے ساتھ چاند ديكھا ہے ليكن انہيں نظر نہيں آيا تو پھر بغير آلات كے صرف آنكھ كے ساتھ كيسے ديكھا جا سكتا ہے ؟
حالانكہ اگر معاملہ اس كے برعكس ہوتا يعنى انہوں نے آلات كے ساتھ چاند ديكھ ليا ہوتا اور آنكھ سے نظر نہ آتا تو اختلاف ہو سكتا تھا كہ روزہ ركھا جائے يا نہيں، اور آيا لوگ عيد كريں يا نہيں ؟
ليكن مشكل يہ ہے كہ يہ كيسے ہو سكتا ہے كہ وہ آلات كے ساتھ چاند نہ ديكھ سكے اور لوگوں نے آنكھ كے ساتھ ہى ديكھ ليا، اس امر ميں ميں ا كيلا ہوں مجھے پريشانى ہے آپ اس كى شافى توضيح كريں تا كہ ميرا يہ اضطراب اور پريشانى ختم ہو سكے ؟

الحمد للہ:

رمضان المبارك كى ابتداء كے ليے قابل اعتماد چيز رؤيت ہلال ہے، يا پھر اگر چاند نظر نہيں آتا تو شعبان كے تيس يوم پورے ہونا، صحيح احاديث اسى پر دلالت كرتى ہيں،اور اہل علم بھى اسى پر متفق ہيں.

امام بخارى اور مسلم نے ابو ہريرہ رضى اللہ تعالى عنہ سے روايت كيا ہے كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" تم چاند ديكھ كر روزے ركھو، اور چاند ديكھ كر ہى عيد كرو، اور اگر چاند نظر نہ آئے تو پھر تم شعبان كے تيس يوم پورے كرو "

اور ايك روايت ميں ہے:

" اگر تم پر آسمان ابر آلود ہو جائے "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 1909 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 1081 ).

اس ميں فلكى حساب پر اعتماد نہيں كيا جائيگا، كيونكہ رؤيت ميں اصل يہى ہے كہ اسے آنكھ كے ساتھ ديكھا جائے، ليكن اگر جديد آلات كے ساتھ چاند ديكھا جائے تو پھر اس رؤيت پر عمل كيا جائيگا، جيسا كہ سوال نمبر ( 106489 ) كے جواب ميں بيان ہو چكا ہے.

ليكن يہ كہ: صرف آنكھ كے ساتھ چاند كيسے نظر آ گيا اور فلكيات والے جديد آلات كے ساتھ بھى اسے نہ ديكھ سكے ؟

يہ چيز جگہ اور وقت ميں اختلاف ہونے پر منحصر ہے كہ جہاں فلكيات والے تھے وہاں نظر نہيں آيا ليكن دوسرى جگہ اور مقام پر نظر آ گيا.

بہر حال حكم رؤيت ہلال پر معلق ہے، جب ثقہ اور باعتماد ايك يا دو مسلمانوں نے چاند ديكھا ہے تو اس رؤيت پر عمل كرنا واجب ہے.

سپريم قضاء كميٹى كے چئرمين جناب شيخ صالح بن محمد اللحيدان حفظہ اللہ كا كہنا ہے:

" ايك بھائى جس كا نام عبد اللہ ا لخضيرى ہے جو چاند ديكھنے ميں بہت شہرت ركھتے ہيں اور ان كو چاند كے بارہ ميں معلومات ہيں، چاہے نيا چاند نہ بھى ہو انہيں اس كے متعلق خبر ہے اور وہ اس كى منازل كو جانتے ہيں.

كچھ فلكيات والے ان كے پاس گئے اور منطقہ " حوطۃ سدير " ميں ان كے ساتھ ميٹنگ كى اور اس بھائى نے مجھے بتايا ہے كہ ان فلكيات والوں نے اندازہ لگايا كہ اس رات چاند فلاں جگہ نكلے گا ان كے حساب اور اندازے كے مطابق جو انہوں نے آلات پر لگايا تھا، ليكن اس نے انہيں بتايا كہ جس جگہ وہ كہہ رہے چاند اس جگہ نہيں نكلےگا، كيونكہ اس نے خود كل رات سے قبل چاند كو ديكھا تھا اور وہ چاند كى منزل كا علم ركھتا ہے كہ ہر رات كو وہ كہاں سے نكلےگا جہاں سے وہ پہلے گزرا ہے وہ اس كے بعد والى جگہ سے گزرتا ہے.

اور جب چاند نكلا تو وہ وہاں سے نكلا جہاں اس نے كہا تھا، نہ كہ اس جگہ سے جو فلكيات والوں نے متعين كى تھى، اور يہ چيز ان كو معذور كرتى ہے كہ انہوں نے مشاہدہ كے ساتھ اس كى تحديد نہيں كى تھى، بلكہ اپنے پاس موجود آلات كے ذريعہ تحديد كى تھى جو غلط ثابت ہوئى " انتہى

الرياض اخبار كو انٹرويو.

يہ انٹرويو آپ درج ذيل لنك پر ديكھ سكتے ہيں:

http://www.alriyadh.com/2007/10/12/article286271_s.html

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments