اسلام سوال و جواب کو عطیات دیں

"براہ کرم ویب سائٹ کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لئے دل کھول کر تعاون کریں۔ "

اللہ تعالی کےنام " الحسیب " کامعنی ۔

28-04-2003

سوال 11278

اللہ تعالی کے نام " الحسیب " کا معنی کیا ہے ؟

جواب کا متن

الحمد للہ.

الحسیب ، کفایت کرنے والے کوکہتے ہیں ، وہ توکل کرنے والوں کو کافی ہے ، اور وہ گواہوں سے کافی ہے ۔

فرمان باری تعالی ہے :

بے شک اللہ تعالی ہرچیز ہرکا حساب لینے والا ہے النساء ( 86 )

اور الحسیب کی تفسیر الحفیظ کے ساتھ بھی کی گئ ہے ، کہ وہ اعمال کی حفاظت کرکے اس کا بدلہ دے گا ، تواللہ تعالی اپنے بندوں کے لۓ حسیب یعنی ان کے اعمال کا محاسبہ کرکے انہیں ان اعمال کا بدلہ عطافرماۓ گا ، تو اللہ تعالی اپنی حکمت اورعلم کے اعتبارسے ان کے چھوٹے اور بڑے اعمال پر انہیں جزا دے گا ، توان کا برائ اوربھلائ میں حساب ہوگا اگرچہ وہ ذرہ برابر ہی کیوں نہ ہو۔

اور اللہ تعالی کافی ہے ، اوراللہ تعالی کی یہ کفایت دو قسم کی ہے ، کفایت عامہ اور کفایت خاصہ ۔

کفایت عامہ :

یہ کفایت اللہ تعالی کے سب بندوں کوشامل ہے جوبھی ان کے دینی اور دنیاوی معاملات میں حصول نفع اور نقصان سے بچنے کے لۓ انہیں ضرورت ہو ۔

کفایت خاصہ :

یہ کفایت اللہ تعالی کے اس بندے کے ساتھ خاص ہے جوکہ متقی اورپرہیزگار اور اس پر توکل کرنے والا ہو ، یہ ایسی کفایت ہے جوکہ اس کے دین ودنیا کے لۓ درست ہو ، اللہ سبحانہ وتعالی کافرمان ہے :

اے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم ) آپ کو اللہ تعالی کافی ہے اور ان مومنوں کوبھی جوکہ آپ کی اتباع کررہے ہیں الانفال ( 64 )

یعنی اللہ تعالی آپ کواور آپ کے متبعین کوبھی کافی ہے ، اور اللہ تعالی اپنے بندے کی وہ اتباع نبی صلی اللہ علیہ وسلم جو کہ وہ ظاہری یا باطنی طریقے سے کر رہا ہو اسے محفوظ کررہا ہے ، اور پھر بندہ اللہ تعالی کی عبودیت کرتا ہے تو اس میں اس کے لۓ کفایت اور اس کی نصرت و عزت ہے ، تواکیلا اللہ سبحانہ و تعالی اپنے بندے کوکافی ہے ، اس لۓ کہ کفایت اور حسب یہ صرف اللہ تعالی کے لۓ ہی ہے جس طرح کہ توکل اور عبادت اورتقوی صرف اللہ تعالی کے لۓ ہے ، جیساکہ اللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے :

کیااللہ تعالی اپنے بندے کوکافی نہیں ہے الزمر ( 36 )

اوراللہ تبارک وتعالی سب حساب کرنے والوں میں سے زیادہ جلد حساب لینے والے ہيں تو جب سب بندے اللہ تعالی کی طرف لوٹاۓ جا‏‏‏ئيں گے تو ان کے حساب لینے میں اسے کوئ مشقت نہیں ہوگی ، کیونکہ اللہ تعالی ان کی تعداد اور ان کے اعمال اور ان کی عمروں اور سب کے سب معاملا ت کوجاننے والا ہے ، اور اللہ تبارک وتعالی نے اسے شمار کررکھا اوراس کی تقادیر اوران کے پہنچنےکی جگہ اس کے علم میں ہے ۔

اوراللہ تبارک وتعالی ھاتھ کے ساتھ نہیں گنتا لیکن اسے اس کا علم ہے اور اس پر کوئ بھی مخفی رہنے والی چيز بھی مخفی نہیں رہ سکتی ، اورنہ ہی اس سے ذرہ برابر اور نہ ہی اس سے چھوٹی اور نہ بڑي چيز غائب ہو سکتی ہے مگروہ تو کتاب مبین میں لکھی جاچکی ہے ۔

ابن قیم رحمہ اللہ تعالی کا قول ہے :

اوروہ اللہ تعالی کفایت وحمایت کے اعتبارسے کافی ہے ، اور اللہ تعالی بندے کو ہروقت کافی ہے ۔

اسماء و صفات
اسلام سوال و جواب ویب سائٹ میں دکھائیں۔