اسلام سوال و جواب کو عطیات دیں

"براہ کرم ویب سائٹ کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لئے دل کھول کر تعاون کریں۔ "

مسجد سے عليحدہ كمرہ ميں اعتكاف كرنے كا حكم

03-09-2010

سوال 130984

ہمارى مسجد كے باہر دو جگہيں عليحدہ ہيں جہاں ہم نماز ادا كرنے كى عادت بنا چكے ہيں، جب سے ہم نے مسجد مكمل كى ہے ہم اس ميں نماز ادا كر كرہے ہيں كيا اس جگہوں پر اعتكاف كرنا جائز ہے ؟

جواب کا متن

الحمد للہ.

اعتكاف يہ ہے كہ اللہ كى اطاعت كے ليے مسجد كا التزام كيا جائے، اور يہ صرف مساجد كے ساتھ خاص ہے، اور كسى جگہ اعتكاف كرنا صحيح نہيں ہوگا.

ابن قدامہ رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" اگر مرد اعتكاف كرنا چاہے تو يہ مسجد كے علاوہ كہيں صحيح نہيں گا، ہمارے علم كے مطابق اس ميں اہل علم كا كوئى اختلاف نہيں ہے، اس كى دليل درج ذيل فرمان بارى تعالى ہے:

اور تم ان عورتوں سے مباشرت نہ كرو اس حال ميں كہ تم مساجد ميں اعتكاف كر رہے ہو .

چنانچہ يہاں اللہ سبحانہ و تعالى نے مساجد كو ہى اعتكاف كے ليے خاص كيا ہے، اور اگر مساجد كے علاوہ كہيں دوسرى جگہ اعتكاف صحيح ہوتا تو اس ميں مباشرت كرنے كى حرمت كى تختيصيص نہ ہوتى؛ كيونكہ اعتكاف ميں تو مباشرت مطلفا حرام ہے.

اور عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا كى حديث ميں ہے وہ بيان كرتى ہيں كہ:

" نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم مسجد ميں رہتے ہوئے اپنا سر ميرى طرف كرتے تو ميں آپ كو كنگھى كيا كرتى تھى، اور آپ صلى اللہ عليہ وسلم جب اعتكاف ميں ہوتے تو بغير كسى ضرورت كے گھر ميں داخل نہيں ہوتے تھے "

اور دارقطنى ميں امام زہرى عن عروۃ و سعيد بن المسيب سے مروى ہے وہ عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا سے بيان كرتے ہيں عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا بيان كرتى ہيں كہ:

" اعتكاف كرنے والے شخص كے ليے سنت يہ ہے كہ وہ انسانى ضرورت كے بغير باہر نہ نكلے، اور جماعت والى مسجد كے علاوہ كہيں اعتكاف صحيح نہيں ہے "

ديكھيں: المغنى ( 3 / 65 ).

ظاہر تو يہى ہوتا ہے كہ يہ عليحدہ جگہ مسجد ميں شمار نہيں ہوتى اس ليے اس ميں اعتكاف كرنا صحيح نہيں ہوگا.

مسجد ميں كيا داخل ہوگا اس قاعدہ اور اصول يہ ہے كہ:

1 ـ اگر كمرہ مسجد سے متصل تيار كيا گيا ہو اور اس ليے بنايا گيا ہو كہ يہ مسجد ہو، يعنى مسجد كو تيار كرنے والے شخص كى نيت ہو كہ يہ كمرہ مسجد كا حصہ ہو جہاں نماز كى جائے، تو اسے مسجد كے احكام ديے جائينگے، اس طرح اس ميں اعتكاف كرنا جائز ہوگا، اور وہاں حائضہ اور نفاس والى عورت نہيں جائيگا.

ليكن اگر يہ نيت ہو كہ يہ كمرہ تعليم وغيرہ كے ليے يا پھر ميٹنگ وغيرہ كے ليے استعمال كيا جائے، يا پھر امام يا مؤذن كى رہائش كے ليے ہو تو يہ نماز كى جگہ نہيں، اس ليے اس وقت يہ مسجد كے حكم ميں نہيں ہوگا.

2 ـ اور اگر مسجد كے بانى كى نيت كا علم نہ ہو، تو پھر اصل يہى ہے كہ جو مسجد كى چارديوارى ميں ہو اور اس كا مسجد ميں دروازہ ہو تو اسے مسجد كا حكم حاصل ہوگا.

ـ مسجد كے صحن اور ميدان جو مسجد كى چارديوارى ميں شامل ہوں اسے مسجد كا حكم حاصل ہے.

امام نووى رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" مسجد كى چارديوارى كو اندر اور باہر سے اس كى تعظيم اور خيال ركھنے كے اعتبار سے مسجد كا حكم حاصل ہے، اور اسى طرح مسجد كى چھت كو بھى، اور اس ميں موجود كنويں كو بھى وہى حكم حاصل ہوگا، اور اسى طرح اس كى كھلى جگہ كو بھى.

امام شافعى اور ان كے اصحاب نے بيان كيا ہے كہ مسجد كى چھت اور صحن ميں اعتكاف كرنا صحيح ہے اور چھت پر بھى اور مسجد ميں موجود افراد كى اقتداء كرتے ہوئے يہاں ادا كرنے والوں كى نماز بھى صحيح ہے " انتہى

ديكھيں: المجموع ( 2 / 207 ).

اور مطالب اولى النھى ميں درج ہے:

" مسجد كى چھت، اور چارديوارى كے اندر صحن بھى مسجد سے شامل ہے، قاضى رحمہ اللہ كہتے ہيں: اگر اس كى چارديوار اور دروازہ ہو تو يہ مسجد كى طرح ہى ہے، كيونكہ يہ مسجد كے ساتھ اور اس كے تابع ہے.

اور اگر وہ چار ديوارى ميں نہيں ت واسے مسجد كا حكم حاصل نہيں ہوگا، اور جو منارہ مسجد ميں يا پھر اس كاد روزاہ مسجد ميں ہو تو اسے بھى مسجد كا حكم حاصل ہوگا، اور اگر منارہ يا اس كا دروازہ مسجد سے باہر ہو چاہے قريب ہى ہو اور اعتكاف كرنے والا شخص اذان دينے وہان جائے تو اس كا اعتكاف باطل ہو جائيگا " انتہى

ديكھيں: مطالب اولى النھى ( 2 / 234 ).

شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ سے درج ذيل سوال كيا گيا:

كيا مسجد كے اندر كمرہ ميں اعتكاف كرنا جائز ہے ؟

شيخ رحمہ اللہ كا جواب تھا:

" اس ميں احتمال ہے: فقھاء كرام كى كلام پر مطلقا نظر دوڑانے والا شخص يہ كہےگا كہ يہ مسجد ميں داخل ہے، كيونكہ جو حجرہ اور كمرہ مسجد كى چارديوار ميں ہو وہ مسجد ميں شامل ہوگا.

اور جو اس پر نظر دوڑائے كہ وہ اصل ميں كس ليے بنايا گيا اس ليے نہيں كہ وہ مسجد ہو بلكہ وہ تو امام كے ليے حجرہ بنايا گيا ہے، جيسا كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے گھر تھے، نبى كريم صلى اللہ عيلہ وسلم كے گھروں كے دروازے مسجد كى جانب تھے ليكن اس كے باوجود وہ گھر تھے.

نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم اعتكاف كى حالت ميں گھر نہيں جاتے تھے، تو احتياط اسى ميں ہے كہ يہ كمرہ مسجد ميں شامل نہيں، ليكن لوگوں كے عرف ميں اب مسجدوں ميں جو حجرے ہيں وہ مسجد ميں شامل شمار كيے جاتے ہيں " انتہى

شرح الكافى.

مزيد آپ سوال نمبر ( 118685 ) اور نمبر ( 34499 ) كے جوابات كا مطالعہ ضرور كريں.

واللہ اعلم .

مساجد کے احکام اعتکاف
اسلام سوال و جواب ویب سائٹ میں دکھائیں۔