اسلام سوال و جواب کو عطیات دیں

"براہ کرم ویب سائٹ کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لئے دل کھول کر تعاون کریں۔ "

دعائیں اور اذکار ایک دوسرے کے ساتھ ملانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔

02-06-2023

سوال 145952

کیا عربی زبان میں دعائیں کرنا جائز ہے؟ اسی طرح متعدد دعاؤں کو ایک دوسرے سے ملانا، اللہ تعالی کی تسبیح یا حمد بیان کرتے ہوئے انہیں درمیان میں استعمال کرنا صحیح ہے؟ مثلاً: { سُبْحَانَ اللهِ وَبِحَمْدِهِ ، عَدَدَ خَلْقِهِ ، وَرِضَا نَفْسِهِ ، وَزِنَةَ عَرْشِهِ ، وَمِدَادَ كَلِمَاتِهِ} کے بعد کہنا: { سُبْحَانَ اللهِ وَبِحَمْدِهِ ، سُبْحَانَ اللهِ الْعَظِيْمِ} اور اس کے بعد دیگر دعائیں ذکر کرنا۔

جواب کا متن

الحمد للہ.

اس میں کوئی حرج نہیں ہے کہ مسلمان اللہ تعالی کا ذکر متعدد دعائیہ اور اذکار کے کلمات کو آپس میں جوڑ کر کرے، اس کی کئی وجوہات ہیں:
متعدد شرعی دعاؤں کے جملوں کو آپس میں اس انداز سے ملانا کہ وہ شرعی دعائیہ کلمات سے باہر نہ ہوں تو استحباب اور مندوب کے حکم میں ہوں گے۔

نیز فرمانِ باری تعالی : يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اذْكُرُوا اللَّهَ ذِكْرًا كَثِيرًا ترجمہ: اے ایمان والو! اللہ کا بہت زیادہ ذکر کیا کرو۔ [الاحزاب: 41] میں اس بات کی طرف اشارہ موجود ہے کہ بہت زیادہ ذکر کا حکم بسا اوقات اس بات کا متقاضی ہو سکتا ہے کہ مختلف اذکار اور دعاؤں کے کلمات ایک دوسرے کے ساتھ جوڑے جائیں۔

واللہ اعلم

شرعی اذکار
اسلام سوال و جواب ویب سائٹ میں دکھائیں۔