الحمد للہ.
شيخ محمد بن عثيمين رحمہ اللہ كا كہنا ہے:
" سال بعد فروخت ہونے والى عمارت اگر تو تجارت كے ليے تيار كردہ تھى تو اس كى قيمت فروخت ميں زكاۃ ہو گى، اگر اس كى نيت تجارت سے ليكر فروخت كرنے پر سال مكمل ہو چكا ہے تو اس ميں زكاۃ ہو گى، ليكن اگر وہ عمارت تجارت كے ليے نہ تھى، بلكہ اسے اس عمارت يا گھر كى ضرورت نہ رہى جس كى بنا پر اس نے اسے فروخت كر ديا، ليكن خريدار نہ ملنے كى بنا پر اسے فروخت كرنے ميں اتنى مدت صرف ہوئى تو اس كى قيمت ميں زكاۃ نہيں ہو گى، ليكن اس نے عمارت كى جو قيمت حاصل كى اور قرض كى ادائيگى كے بعد اس كے پاس بچ جانے والى رقم پر سال مكمل ہو گيا تو اس پر زكاۃ ہو گى ليكن اگر اس نے سال مكمل ہونے سے قبل ہى اسے كہيں صرف كر ديا تو اس ميں زكاۃ نہيں ہو گى.
خلاصہ يہ ہوا كہ:
اگر اس نے عمارت تجارت كے ليے تيار كى تھى تو نيت پر سال مكمل ہونے پر اس ميں زكاۃ ہو گى، چاہے فروخت كو ايك سال مكمل نہ بھى ہوا ہو ليكن اگر اس نے تجارت كى نيت نہ كى ہو ليكن اسے اس عمارت كى ضرورت نہ رہى اور اسے خريدنے والا بھى سال سے قبل نہ ملا تو اس كى قيمت ميں زكاۃ نہيں ہو گى، بلكہ اس كى وصول كردہ قيمت پر جب سال مكمل ہو تو اس ميں زكاۃ ہو گى.
اللہ تعالى ہى توفيق دينے والا ہے.