بدھ 24 صفر 1441 - 23 اکتوبر 2019
اردو

میڈیکل کی ایک طالبہ ہے جس کی درسی کتب میں مردوں کی تصاویر ٹریننگ اور تعلیم کی غرض سے ہوتی ہیں، اس کا خاوند ان درسی کتب کے مطالعہ سے روکتا ہے کہ یہ شریعت سے متصادم ہیں۔

223485

تاریخ اشاعت : 19-07-2015

مشاہدات : 7341

سوال

سوال: میرا سوال شعبہ طب سے تعلق رکھنے والی کتب کے بارے میں ہے کہ ان کتب میں انسانی جسم کی تصاویر تفصیل اور وضاحت بیان کرنے کیلئے استعمال کی جاتی ہیں، جس کی وجہ سے مجھے انسانی جسم کی طرف بھی دیکھنا پڑتا ہے، جو کہ عموما مردانہ مجسمے کی شکل میں ہوتا ہے؛ تا کہ بیماری یا ادویات سے متاثرہ اعضاء کی تعیین میں آسانی ہو، اور اعضاء کی انسانی جسم میں جگہوں کی تعیین ہو سکے، میرا خاوند اس طریقہ تدریس سے منع کرتا ہے، ان کے مطابق اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ انداز نظر نیچا رکھنے کا جو شرعی حکم ہے ، اس کے مخالف و متصادم ہے، تو اب اس طریقہ تدریس کا کیا حکم ہے، اور ایسی تصاویر کی طرف تعلیمی نقطہ نظر سے دیکھنا کیسا ہے؟

جواب کا متن

الحمد للہ:

علوم طب اور اس سے متعلقہ علوم میں  مجسمات اور تصاویر کا استعمال ضرورت یا مفادِ عامہ کی بنا پر جائز ہے ، اس چیز کے متعلق تفصیل پہلے فتوی نمبر: (40054) میں گزر چکی ہے۔

آپ اپنے خاوند کو بتلائیں کہ  شرعی طور پر ان تصاویر کو دیکھنے  میں کوئی حرج نہیں ہے، کیونکہ  انہیں دیکھنے کا مقصد  طبی مہارت، اور مریضوں کے علاج معالجہ کیلئے  ٹریننگ ہے، اسی طرح مسلم خواتین کو بھی طبی مہارت حاصل کرنے کی ضرورت ہے، کیونکہ  مسلم خواتین کے علاج  کیلئے  انکی اشد ضرورت ہے، مسلم خواتین اگر طبی مہارت حاصل کرینگی تو علاج معالجے کے وقت مرد ڈاکٹروں کو  خواتین  کے مخصوص اعضاء پر نظر ڈالنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔

حنفی فقہاء کی کتب میں ایسی عبارتیں موجود ہیں جن سے یہ سمجھ میں آتا ہے کہ زچگی  کی مہارت حاصل کرنا خواتین کیلئے فرض کفایہ ہے۔
دیکھیں: "البحر الرائق شرح كنز الدقائق " (4 / 212)

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں  خواتین طبی خدمات فراہم کرتی تھیں، چنانچہ صحیح مسلم : (1810) میں انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ : "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ام سلیم  اور انصار کی دیگر خواتین کو غزوات میں اپنے ساتھ رکھتے تھے، یہ خواتین پانی پلاتی، اور زخمیوں کی دیکھ بھال کرتی تھیں"

امام نووی رحمہ اللہ  شرح مسلم: (12 / 188) میں کہتے ہیں:
"اس حدیث میں خواتین کیلئے جنگوں میں  شامل ہونے کی اجازت ہے، اورجنگوں میں ان خواتین سے پانی پلانے، اور علاج معالجے کی خدمات لی جائیں گی، تاہم یہ خواتین اپنے محرم اور  خاوندوں کا علاج کرینگی، جبکہ انکے علاوہ دیگر  لوگوں کا علاج  ہاتھ لگائے بغیر کریں گی، الّا کہ جہاں ہاتھ لگائے بغیر علاج ممکن نہ ہو"انتہی

صحیح مسلم : (1812) میں ہی ہے کہ:
"نجدہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کی طرف خط لکھاجس میں اس نے پانچ چیزوں کے بارے میں سوال کیا۔
تو ابن عباس رضی اللہ عنہما  نے کہا: اگرعلم چھپانے کے الزام کا خوف نہ ہوتا  تو میں اسے جواب مت دیتا۔
نجدہ نے اپنے سوالات میں لکھا تھا:
1- مجھے بتلاؤ کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خواتین کو لیکر جہاد کیلئے جاتے تھے؟
2- کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کیلئے مالِ غنیمت میں سے حصہ بھی نکالتے تھے؟
3- کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم بچوں کو قتل کرتے تھے؟
4- ایک یتیم  کی یتیمی کب ختم ہو جاتی ہے؟
5- خمس کے بارے میں بتلاؤ کہ یہ کس کیلئے ہے؟

تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب لکھا:
مجھ سے تم نے سوال کیا ہے کہ: مجھے بتلاؤ کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خواتین کو لیکر جہاد کیلئے جاتے تھے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خواتین کو اپنے ساتھ غزوے میں لیکر جاتے، یہ خواتین  زخمیوں  کی مرہم پٹی کرتیں، اور انہیں  غنیمت کے مال میں سے دیا جاتا تھا، لیکن ان کیلئے مستقل حصہ  مقرر نہیں تھا"انتہی

صحیح مسلم ہی میں ام عطیہ انصاری رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: "میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سات غزوات میں شرکت کی، میں دوران جنگ انکے خیموں میں رہتی، انکے لئےکھانا تیار کرتی، زخمیوں کی مرہم پٹی اور بیماروں کا خیال کرتی تھی"

اور سنن ابو داود : (2531) میں انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ: "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ام سلیم اور  انصار کی دیگر خواتین کو اپنے ساتھ غزوہ میں لے جاتے، یہ خواتین پانی پلانے اور زخمیوں کی دیکھ بھال کا کام کرتی تھیں" البانی نے اسے صحیح کہا ہے۔

ہم آپکو یہ نصیحت کرتے ہیں کہ اس معاملے میں اپنے خاوند کیساتھ اچھے انداز سے گفتگو کریں، افہام و تفہیم کے ساتھ اپنے معاملات سنواریں، اختلاف مت کھڑا کریں، آسانی پیدا کریں، سختی مت کریں، اور آپکو خصوصی طور پر  یہ کہیں گے کہ اپنے خاوند  کا خصوصی طور پر اہتمام کریں، اور ان کی ان باتوں کو مثبت نظر سے دیکھیں، آپ کو اپنے خاوند کی غیرت پر داد دینی چاہیے کہ وہ آپ کے بارے میں اجنبی مردوں  کی تصاویر دیکھنے پر بھی  غیرت کا اظہار کرتا ہے۔

واللہ اعلم.

ماخذ: الاسلام سوال و جواب

تاثرات بھیجیں