منگل 22 ربیع الاول 1441 - 19 نومبر 2019
اردو

پانچوں نمازوں کی حکمِ الہی کے مطابق پابندی کرنے والے کی فضیلت ۔

سوال

کنزل الاعمال میں موجود درج ذیل احادیث کیا صحیح ہیں؟ اور کیا ان پر عمل کیا جا سکتا ہے؟
1- جو شخص قیامت کے دن پانچوں نمازیں لیکر آیا اس حال میں کہ اس نے ان کے وضو، اوقات، رکوع و سجود کا مکمل خیال کیا ہو، ان میں سے بالکل بھی کسی چیز کی کمی نہ کی ہو تو جب وہ آئے گا تو اس کے لئے اللہ تعالی کے ہاں عہد نامہ ہو گا کہ اللہ تعالی اسے عذاب نہ دے، اور جو اس حال میں آیا کہ ان میں سے کسی چیز کی کمی کی ہوئی ہوگی تو اس کے لئے اللہ تعالی کے ہاں کوئی پروانۂ امن نہیں، اللہ تعالی چاہے تو اس پر رحم کر دے اور چاہے تو عذاب دے دے۔ بحوالہ معجم الاوسط از طبرانی میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے۔

2- جو شخص پانچوں نمازیں مکمل انداز میں ان کے وقت میں پڑھے تو جب وہ اللہ تعالی کے پاس آئے گا تو اس کے لئے اللہ تعالی کے ہاں پروانہِ امن ہو گا کہ اسے عذاب نہ دے، اور جو شخص ان نمازوں کو نہ پڑھے اور نہ ہی انہیں قائم کرنے کا خیال کرے تو وہ جب اللہ تعالی کے پاس آئے گا تو اللہ تعالی کے ہاں اس کے لئے کوئی پروانہِ امن نہیں ہو گا، وہ چاہے تو انہیں بخش دے اور اگر چاہے تو عذاب دے دے۔ بحوالہ سنن سعید بن منصور میں سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے۔

3- اللہ تعالی کا فرمان ہے: بیشک میرے بندے کے لئے میرے پاس پروانہِ امن ہے کہ اگر وہ نماز وقت پر قائم کرے گا تو میں اسے عذاب نہیں دوں گا، اور میں اسے حساب کے بغیر ہی جنت میں داخل کروں گا۔ بحوالہ حاکم نے اسے اپنی تاریخ میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ذکر کیا ہے۔

جواب کا متن

الحمد للہ:

عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی روایت کو ابو داود: (1420) اور نسائی: (461) نے روایت کیا ہے کہ عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے انہوں نے سنا: (اللہ نے بندوں پر پانچ نمازیں فرض کی ہیں، جس نے انہیں ادا کیا اور ان کا حق ہلکا سمجھتے ہوئے انہیں ضائع نہ کیا تو ایسے شخص کے لیے اللہ کے ذمے جنت میں داخل کرنے کا عہد ہے ۔ اور جس نے ان کو ادا نہ کیا تو ایسے شخص کے لیے اللہ کے ہاں کوئی عہد نہیں ، چاہے تو اسے بخش دے اور چاہے تو اسے عذاب دے دے۔)
اس حدیث کو البانی نے "صحیح ابو داود" میں صحیح کہا ہے۔

اسی طرح سنن ابو داود: (425) اور مسند احمد: (22704) میں عبادہ رضی اللہ عنہ سے یہ روایت ان الفاظ میں بھی منقول ہے: (پانچ نمازیں اللہ تعالی نے فرض قرار دی ہیں، جو بھی ان کا وضو اچھی طرح کرے، اور ان کے اوقات میں نمازیں پڑھے، ان کا رکوع اور سجود کامل انداز میں کرے تو اس کے لئے اللہ تعالی کے ہاں پروانہ امان ہے کہ اسے معاف کر دے، اور جو شخص ایسا نہ کرے تو اس کے لئے اللہ تعالی کے ہاں کوئی پروانہ امان نہیں، وہ چاہے تو اسے معاف کر دے اور چاہے تو عذاب دے دے)۔
اس حدیث کو البانی نے "صحیح ابو داود" میں صحیح کہا ہے، اسی طرح مسند احمد کے محققین نے بھی اسے صحیح قرار دیا ہے۔

جبکہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت کو طبرانی نے اوسط : (4012) میں عبد اللہ بن ابو رومان اسکندرانی کی سند سے روایت کیا ہے، وہ کہتے ہیں کہ ہمیں عیسی بن واقد نے بیان کیا انہوں نے محمد بن عمرو لیثی سے اور انہوں نے ابو سلمہ سے اور انہوں نے سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: (جس شخص نے وتر نہیں پڑھے تو اس کی کوئی نماز نہیں) یہ حدیث سیدہ عائشہ تک پہنچی تو انہوں نے فرمایا: "یہ حدیث ابو القاسم صلی اللہ علیہ و سلم سے کس نے سنی ہے؟ اللہ کی قسم! ابھی تو اتنا وقت ہی نہیں گزرا اور نہ ہی مجھے بھول لگی ہے، ابو القاسم صلی اللہ علیہ و سلم نے تو یہ فرمایا تھا کہ: (جو شخص قیامت کے دن پانچوں نمازیں لے کر آیا اس حال میں کہ ان کے وضو، اوقات، رکوع و سجود کا مکمل خیال کیا ہو، ان میں سے بالکل بھی کسی چیز کی کمی نہ کی ہو تو جب وہ آئے گا تو اس کے لئے اللہ تعالی کے ہاں عہد نامہ ہو گا کہ اللہ تعالی اسے عذاب نہ دے، اور جو اس حال میں آیا کہ ان میں سے کسی چیز کی کمی کی ہوئی ہو گی تو اس کے لئے اللہ تعالی کے ہاں کوئی پروانۂ امن نہیں، اللہ تعالی چاہے تو اس پر رحم کر دے اور چاہے تو عذاب دے دے)"
امام طبرانی نے اس روایت کو ذکر کرنے کے بعد فرمایا:
"اس حدیث کو محمد بن عمرو سے صرف عیسی ہی بیان کرتا ہے، اور ان دونوں سے صرف عبد اللہ بیان کرتا ہے۔"

الشیخ البانی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"میں کہتا ہوں کہ: یہ عبداللہ بن ابو رومان اسکندرانی معافری ہے، اس کے بارے میں علامہ ذہبی کہتے ہیں کہ: اسے متعدد اہل علم نے ضعیف قرار دیا ہے، اور اس نے ایک موضوع روایت بھی بیان کی ہے۔
البانی رحمہ اللہ مزید کہتے ہیں کہ: وہ موضوع روایت مجھے لگتا ہے کہ یہی مذکورہ روایت ہے؛ کیونکہ اس میں جھوٹ گھڑنے کا اندیشہ بالکل واضح ہے۔
حافظ ابن حجر اس کے بارے میں کہتے ہیں کہ: دارقطنی نے اسے سخت ضعیف قرار دیا ہے۔
نیز ابن یونس کہتے ہیں کہ: عبدللہ ضعیف الحدیث ہے، اس نے منکر روایات بیان کی ہیں۔

البانی رحمہ اللہ کہتے ہیں: اس کے استاد عیسی بن واقد؛ کے حالات زندگی مجھے نہیں ملے، اسی بنا پر ہیثمی نے اس روایت کو "مجمع الزوائد" (1/ 293) میں معلول قرار دیا ہے۔" ختم شد

ماخوذ از: "سلسلة الأحاديث الضعيفة" (11/ 371)

اس روایت میں (جس شخص نے وتر نہیں پڑھے تو اس کی کوئی نماز نہیں) کے الفاظ منکر ہیں، بقیہ الفاظ کے لئے شواہد اور ہم معنی روایات موجود ہیں، جیسے کہ پہلے عبادہ رضی اللہ عنہ والی روایت اس کی ہم معنی ہے۔

اس حدیث کے شواہد میں مسند احمد : (18345) کی حنظلہ کاتب رضی اللہ عنہ کی روایت بھی ہے کہ وہ کہتے ہیں: "میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ: (جو شخص پانچوں نمازوں کو ان کے رکوع، سجدے، وضو کے ساتھ ان کے اوقات میں پابندی سے ادا کرتا ہے ، اور یہ جانتا ہے کہ یہ نمازیں اللہ کی طرف سے فرض ہیں، تو وہ جنت میں داخل ہو گیا) راوی کہتے ہیں کہ آپ نے یا پھر یہ فرمایا کہ: (اس کے لئے جنت واجب ہو گئی)"
مسند احمد کے محققین نے لکھا ہے کہ : "یہ روایت اپنے شواہد کی بنا پر صحیح ہے۔"

اسی طرح ابو داود: (429) میں سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: (پانچ چیزیں ہیں جس نے ان پر ایمان کے ساتھ عمل کیا وہ جنت میں داخل ہوا ، جس نے پانچ نمازوں کی ان کے وضو ، رکوع ، سجود کے ساتھ ان کے اوقات میں پابندی کی ، رمضان کے روزے رکھے ، بیت اللہ تک پہنچنے کی استطاعت رکھنے کی صورت میں حج کیا ، خوشی کے ساتھ زکاۃ دی اور امانت ادا کی ۔)
اس حدیث کو البانی رحمہ اللہ نے حسن قرار دیا ہے۔

جبکہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت: (بیشک میرے بندے کے لئے میری طرف سے مشروط پروانہِ امن ہے کہ اگر وہ نماز وقت پر قائم کرے گا تو میں اسے عذاب نہیں دوں گا، اور میں اسے حساب کے بغیر ہی جنت میں داخل کروں گا۔) اس حدیث کو کنزل العمال کے مؤلف متقی ھندی نے (7/312) پر امام حاکم کی تاریخ کی جانب منسوب کیا ہے۔

تاہم امام حاکم کی کتاب: "تاریخ نیشاپور" بہت عظیم کتاب ہے لیکن اس وقت تک ہمارے علم کے مطابق مفقود کتابوں میں ہے، البتہ تاریخ نیشاپور کا خلاصہ جو کہ احمد بن محمد الحسن المعروف خلیفہ نیشاپوری نے تیار کیا ہے، اس میں یہ روایت موجود نہیں ہے۔

مزید برآں یہ ہے کہ اس روایت کو صرف امام حاکم نے اپنی تاریخ میں نقل کیا ہے اور اس سے محسوس ہوتا ہے کہ یہ روایت صحیح ثابت نہیں ہے ضعیف ہے، خصوصاً یہ جملہ کہ: " اور میں اسے حساب کے بغیر ہی جنت میں داخل کروں گا " ہمیں اس جملے کی تائید میں شواہد نہیں ملے، نیز سیدنا عبادہ بن صامت کی پہلے گزر جانے والی حدیث کی موجودگی میں اس غیر ثابت حدیث کی ضرورت نہیں رہتی۔

اس بارے میں مزید کے لئے آپ سوال نمبر: (129240) اور (152359) کا مطالعہ کریں۔

واللہ اعلم

ماخذ: الاسلام سوال و جواب

تاثرات بھیجیں