10447: وصیت لکھنے کی کیفیت


میں نے وصیت لکھنے کی کیفیت معلوم کرنے کے لیے قرآن کریم کی ورق گردانی کی ، لیکن میرے لیے تومعاملہ پیچیدہ ہی رہا اورکوئي وضاحت نہ مل سکی اس لیے میں امید کرتا ہوں کہ آپ ان شاء اللہ میری مدد فرمائیں گے ، آپ سے گزارش ہے کہ میرے ساتھ شفقت کرتے ہوئے یہ بیان کریں کہ ایک مسلمان شادی شدہ عورت کےلیے اسلامی طریقہ پروصیت کس طرح لکھنی ممکن ہے اس عورت کی حالت مندرجہ ذيل ہے :
اس کا اپنا ذاتی مال اورحساب وکتاب ہے ۔
گھر اوراس کے علاوہ بھی تجارتی جائداد ہے جس میں اس کے خاوند کی بھی شراکت پائي جاتی ہے ۔
کچھ اورذاتی اشیاء مثلا طلائي زیورات وغیرہ کی شکل میں ۔
میرے خاندان کے مندرجہ ذیل افراد بھی ہیں :
خاوند ، والد ، بھائي اوربہنیں ، بیٹے وبیٹیاں ، بھانجے بھانجیاں ، کیا آپ یہ وضاحت کرسکتے ہیں کہ میں ہرچيز کس طرح تقسیم کرسکتی ہوں ؟
اورکیا میری ملکیت میں جتنی بھی اشیاء ہیں ان کی تقسیم میں حصوں کی ضرورت پڑے گی ؟
یا کہ یہ ممکن ہے کہ میں اپنے بہن بھائیوں کے بچوں کوکچھ اشیاء دے سکوں کیونکہ یہ میری خواہش بھی ہے اوروہ میرے مقرب بھی ہيں ؟
اورکیا ایسا کرنے میں کوئی عمل قرآن کریم کے مخالف تونہيں ؟

Published Date: 2007-05-12

الحمدللہ

آپ کومعلوم ہونا چاہیے کہ وصیت اورھبہ میں فرق ہے ، لھذا اپنی زندگي میں کسی دوسرے کومال وغیرہ دینا ھبہ شمار ہوتا ہے اور اس پر وصیت کے احکام لاگو نہيں ہوتے ، لیکن یہاں ایک چيز کی تنبیہ کرنا ضروری ہے کہ کسی بھی شخص کے لیے جائز نہيں کہ وہ اپنی اولاد میں سے کچھ کوتو کوئي چيز ھبہ وعطیہ کرے اورکچھ کو کچھ بھی نہ دے ، یا پھر ان میں سے کسی ایک بچے کودوسرے پرفضیلت دیتے ہوئے اسے زيادہ دے اورکسی کو کم بلکہ ساری اولاد کے مابین اسے عدل وانصاف اوربرابری کا مظاہرہ کرنا ہوگا ۔

اس کی دلیل مندجہ ذيل حدیث میں پائي جاتی ہے :

نعمان بن بشیر رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہيں کہ ان کے والد نے انہیں کوئي چيزبطور عطیہ دی تواس پرنبی صلی اللہ علیہ وسلم کو گواہ بنانے کے لیے مجھے اپنے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائے تونبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہيں پوچھا کیا تونے اپنے سارے بچوں کواسی طرح کا عطیہ دیا ہے ؟ تومیرے والد نے جواب نفی میں دیا ، لھذا نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے :

( اس عطیہ کوواپس لے لو ، پھر فرمانے لگے : اللہ تعالی کا ڈر اختیار کرو اوراپنی اولاد کے مابین عدل وانصاف اوربرابری کیا کرو ) صحیح بخاری حدیث نمبر کتاب الھبۃ ( 2398 ) ۔

لیکن وصیت کا تعلق توموت کے بعد سے ہوتا ہے کہ کوئي شخص وصیت کرے کہ میرے مرنے کے بعد اتنا مال فلاں کودے دیا جائے اسے وصیت کہا جائے گا ۔

وصیت کی مشروعیت پر کتاب وسنت اوراجماع میں دلائل موجود ہیں۔

کتاب اللہ میں اللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے :

{ تم پر فرض کردیا گيا ہے کہ جب تم میں سے کوئي مرنے لگے اورمال چھوڑے تواپنے ماں باپ اورقرابت داروں کے لیے اچھائی کے ساتھ وصیت کرجائے پرہیز گاروں پریہ حق اورثابت ہے } البقرۃ ( 180 ) ۔

اورایک دوسرے مقام پر اللہ تعالی کا فرمان ہے :

{ یہ حصے اس وصیت ( کی تکمیل ) کے بعد ہيں جومرنے والا کرگيا ہو یا قرض ادا کرنے کے بعد } النساء ( 11 ) ۔

اورسنت نبویہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے :

( یقینا اللہ تعالی نے تہماری موت کے وقت تمہارے مالوں کا ایک تہائي مال تم پر صدقہ کردیا ہے ، تمہارے مالوں میں زيادہ ہے ) ۔

سنن ابن ماجۃ کتاب الوصایا حدیث نمبر ( 2700 ) علامہ البانی رحمہ اللہ تعالی نے صحیح سنن ابن ماجۃ حدیث نمبر ( 2190 ) ۔

اورعلماء کرام نے اس کے جواز پراجماع کیا ہے ۔

وصیت اس صورت میں واجب ہوگي کہ انسان پرکسی کاکوئي حق ہو اوراس کاکوئي ثبوت نہ ہووصیت کرنا واجب ہے تا کہ وہ حق ضائع نہ ہوجائے کیونکہ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے :

( کسی مسلمان کےلائق نہيں کہ اس کے پاس وصیت کرنے والی کوئي چيز ہو اوروہ بغیر وصیت لکھے دوراتیں بسر کرلے ) صحیح بخاری حدیث نمبر ( 2533 ) ۔

اگر کوئي انسان یہ چاہتا ہے کہ موت کے بعد اسے اجروثواب ملے تووہ اپنے مال سے وصیت کرسکتا ہے کہ موت کے بعد اس کا اتنامال نیکی وبھلائي کے کام میں صرف کردیا جائے تواس صورت میں وصیت کرنا مستحب ہوگی اوراسے اللہ تعالی کی جانب سے صرف ایک تہائي مال کی وصیت کرنے کی اجازت ہے ۔

ایک تہائي یا اس سے کم مال میں وصیت کرنی جائز ہے ، اوربعض علماء کرام کہتے ہیں کہ مستحب یہ ہے کہ وصیت ایک تہائي تک نہیں پہنچنی چاہیے ، اوراسی طرح وارث کےلیے وصیت نہيں کی جاسکتی کیونکہ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے :

( وارث کے لیے وصیت نہيں ) سنن ترمذی کتاب الوصایا حدیث نمبر ( 2047 ) علامہ البانی رحمہ اللہ تعالی نے صحیح سنن ترمذی ( 1722 ) میں اس حدیث کوصحیح قرار دیا ہے ۔

اوراگر وصیت کرنے والا ورثاء کونقصان اورضرر دینا چاہے اوروصیت کرکے اسےتنگ کرنا چاہے توایسا کرنا اس کے لیے حرام ہے کیونکہ اللہ سبحانہ تعالی کا فرمایا ہے :

{ اس وصیت کے بعد جوکی جائے اورقرض کے بعد جب کہ اوروں کا نقصان نہ کیا گيا ہو } النساء ( 12 ) ۔

اوروصیت کا اعتبار موت کی حالت میں ہوگا ، وصیت کرنے والے کے لیے مکمل وصیت کوختم کرنے اورتوڑنے کا حق حاصل ہے اوراسی طرح وہ وصیت کا کچھ حصہ بھی ختم کرسکتا ہے ۔

وصیت کی تنفیذ کرنا بہت ہی اہم معاملہ ہے جسے اللہ تعالی نے بھی نافذ کرنے کی تاکید کی ہے اوراس کی اہمیت کے پیش نظر اللہ تعالی نے وصیت کا ذکر مقدم رکھا ہے اس کے بعد دوسری اشیاء کوذکر کیا ہے ، اسی طرح اس کی اہمیت کے پیش نظر وصیت کوبدلنے والے کے لیے بہت سخت اورشدید قسم کی وعیدبھی سنائي گئي ہے ۔

اوررہا مسئلہ شخصی ممتلکات کی تقسیم کا موت کے بعداسے اس کی تقسیم میں کوئي حق نہیں کیونکہ اللہ سبحانہ وتعالی نے ہروارث کا حصہ بیان کردیا ہے اوریہ بھی بیان کردیا ہے کہ کون وارث بنے گا اورکسے وراثت نہيں ملے گی ، اورکسی بھی شخص کےلیے جائز نہيں کہ وہ اللہ تعالی کی حدود میں زيادتی کرتا ہوا حدوداللہ سےتجاوز کرے کیونکہ اللہ سبحانہ وتعالی نے ایسا کرنے سے منع فرمایا ہے اوربچنے کا کہا ہے ۔

اللہ تعالی نے وراثت بیان کرتے ہوئے سورۃ النساء میں فرمایا :

{ اللہ تعالی تمہیں تمہاری اولاد کے بارہ میں حکم کرتا ہے کہ ایک لڑکے کا حصہ دو لڑکیوں کے برابر ہے ، اوراگر صرف لڑکیاں ہی ہوں اوردو سے زيادہ ہوں توانہيں مال متروکہ کا دوتہائي ملے گا ، اوراگر ایک ہی لڑکی ہوتو اس کے لیے آدھا ہے ، اورمیت کے ماں باپ میں سے ہرایک کے لیے اس کے چھوڑے ہوئے مال کا چھٹا حصہ ہے ، اگر اس میت کی اولاد ہو ، اوراگر اولاد نہ ہو اورماں باپ وارث بنتے ہوں تو اس کی ماں کا تیسرا حصہ ہے ، ہاں اگر میت کے کئي بھائي ہوں تواس کی ماں کا چھٹا حصہ ہے ، یہ حصے اس وصیت (کی تکمیل ) کے بعد ہیں جومرنے والا کرگيا ہو یا قرض ادا کرنے کے بعد ، تمہارے باپ ہوں یا تمہارے بیٹے تمہیں نہيں معلوم کہ ان میں کون تمہيں نفع پہنچانے میں زيادہ قریب ہے ، یہ حصے اللہ تعالی کی طرف سے مقرر کردہ ہیں بے شک اللہ تعالی پورے علم اورکامل حکمتوں والا ہے ۔

تمہاری بیویاں جوکچھ چھوڑکرمریں اوران کی اولاد نہ ہو تو تمہارے لیے آدھا مال ہے ، اوراگر ان کی اولاد ہو توان کے چھوڑے ہوئے مال میں سے تمہارے لیے ایک چوتھائي حصہ ہے ، اس وصیت کے بعد جو وہ کرگئي ہوں یا قرض کے بعد ، اورجو ( ترکہ ) تم چھوڑ جاؤ اس میں سے ان کے لیے چوتھائي حصہ ہے ، اگر تمہاری اولاد نہ ہو اوراگر تمہاری اولاد ہو تو پھرانہيں تمہارے ترکہ کا آٹھواں حصہ ملے گا ، اس وصیت کے بعد جوتم کرگئے ہو اورقرض کی ادائيگي کے بعد ، اورجن کی میراث لی جاتی ہے وہ مرد یا عورت کلالہ ہو ( یعنی اس کا باپ بیٹانہ ہو ) اوراس کا ایک بھائي یاایک بہن ہو توان دونوں میں سے ہر ایک کا چھٹا حصہ ہے اوراگر اس سے زيادہ ہوں توایک تہائي میں سب شریک ہونگے ، اس وصیت کےبعد جوکی جائے اورقرض کے بعد ، جب اوروں کا نقصان نہ کیا گيا ہو، یہ اللہ تعالی کی طرف سے مقرر کیا ہوا ہے ، اوراللہ تعالی بڑا دانا اوربردبارہے ۔

یہ حدیں اللہ تعالی کی مقرر کی ہوئي ہیں اورجو اللہ تعالی کی اوراس کے رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی اطاعت وفرمانبرداری کرے گا اسے اللہ تعالی جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے سے نہریں بہہ رہی ہیں جن میں وہ ہمیشہ کے لیےرہیں گے اوریہ بہت ہی بڑي کامیابی ہے ۔

اوجوشخص اللہ تعالی کی اوراس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کرے اوراس کی مقرر کردہ حدوں سے تجاوز کرے گا اللہ تعالی اسے جہنم میں ڈال دے گا جس میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے ، ایسوں ہی کے لیے رسواکرنے والا عذاب ہے } النساء ( 11 - 14 ) ۔

واللہ تعالی اعلم ۔

مزيد تفصیل کےلیے دیکھیں کتاب : الملخص الفقھی تالیف صالح الفوزان ( 2 / 172 - 182 ) ۔

آپ کے لیے اپنی زندگی میں بھانجے بھانجیوں کومال میں سےکچھ دینے میں کوئي ممانعت نہیں ہے ، اور جب کہ وہ آپ کی اولاد میں شامل نہیں ہیں توانہیں کوئي چيز دیتے ہوئے آپ پرواجب نہيں کہ سب میں برابری کا سلوک کریں ، بلکہ یہ ممکن ہے کہ آپ جسے چاہیں دیں اورجسے چاہیں نہ دیں ، بلکہ یہ بھی ممکن ہے کہ آپ ان کو حسب ضرورت دیں ۔

ہماری آپ سے گزارش ہے کہ آپ مال دیتے وقت یہ کوشش کریں کہ مال نیک اورصالح شخص کودیں تا کہ وہ اس مال سے اللہ تعالی کی اطاعت وفرمانبرداری سے تعاون حاصل کرے ، اوراسی طرح آپ کے لیے ایک تہائي مال میں سے وصیت بھی کرسکتی ہیں کیونکہ وہ ورثاء میں شامل نہيں ۔

واللہ اعلم .

شیخ محمد صالح المنجد
Create Comments