93027: کن چیزوں سے غسل واجب ہوتا ہے


کن چیزوں سے غسل واجب ہوتا ہے؟

Published Date: 2014-04-12

الحمد للہ:

چھ چیزیں ایسی ہی کہ ان میں سے کسی ایک کی موجودگی میں مسلمان کیلئے غسل کرنا واجب ہوگا۔

1- منی کا اپنی جگہ سے نکل جانا، چاہے مرد ہو یا عورت، اسکی دو صورتیں ہوسکتی ہیں، نیند میں یا بیداری کی حالت میں چانچہ اگر بیداری کی حالت میں نکلے تو لذت کے ساتھ نکلنا شرط ہے، چنانچہ اگر بغیر لذت کے منی خارج ہو تو اس سے غسل واجب نہیں ہوتا، جیسے کہ بیماری کی وجہ سے بسا اوقات منی خارج ہو جاتی ہے۔

اور اگر نیند کی حالت میں منی خارج ہوتو اسی کو احتلام کہتے ہیں، اس سے مطلق طور پر [چاہے لذت محسوس ہو یا نا ہو]غسل واجب ہوجائے گا، کیونکہ نیند میں شعور نہیں ہوتا، اور کبھی کبھار لذت بھی محسوس نہیں ہوتی، لہذا سویا ہوا شخص بیداری کے بعد منی کے اثرات دیکھے تو اس پر غسل واجب ہے۔

اور اگر خواب تو دیکھا لیکن منی خارج نہیں ہوئی ، اور نہ ہی منی کے اثرات نظر آئے تو پھر غسل واجب نہیں ہوگا۔

2- آلہ تناسل کو عورت کی اندام نہانی میں داخل کرنے سے غسل واجب ہوجائے گا، چاہے انزال نہ بھی ہو، اسکی دلیل امام مسلم وغیرہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کی کہ آپ نے فرمایا: (جب کوئی مرد چارشاخوں میں بیٹھ جائے اور مرد و عورت کی شرمگاہیں آپس میں مل جائیں تو غسل واجب ہو جائے گا) اس حدیث کی وجہ سے ہمبستری میں دونوں پر آلہ تناسل داخل کرنے کی وجہ سے غسل واجب ہوجائے گا، چاہے انزال نہ بھی ہو، اہل علم کا اس پر اجماع ہے۔

3- متعدد علماء کے ہاں کسی کافر کے اسلام قبول کرنے پر بھی غسل واجب ہوجاتا ہے، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ نئے مسلمان ہونے والے افراد کو غسل کرنے کا حکم دیا، جبکہ بہت سے اہل علم کا خیال ہے کہ کسی کافر کے مسلمان ہونے پر غسل مستحب ہے، واجب نہیں؛ انکی دلیل یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ کسی نے بیان نہیں کیا کہ آپ ہر نو مسلم کو غسل کرنے کا حکم دیتے تھے، چنانچہ دلائل کو جمع کرتے ہوئے غسل کے حکم کو استحباب پر محمول کیا جائے گا۔

4- موت کی وجہ سے بھی میت کو غسل دینا واجب ہوجاتا ہے، ماسوائے معرکہ میں شہید ہونے والے شخص کے ، اسے غسل نہیں دیا جائے گا۔

5- اور 6- موجب غسل حیض اور نفاس ہے، اسکی دلیل فرمانِ رسالت: (جب تمہارا حیض ختم ہوجائے تو غسل کرو، اور نماز پڑھو) اور فرمانِ باری تعالی: (فَإِذَا تَطَهَّرْنَ) یعنی جب وہ حیض سے غسل کرنےکے بعد پاک ہوجائیں.

اقتباس ماخوذاز: "الملخص الفقهي" مؤلف: شيخ صالح الفوزان حفظہ الله
Create Comments