سوموار 20 ذو القعدہ 1440 - 22 جولائی 2019
اردو

کیا ہم شرکیہ افعال کے مرتکبین کوصرف توحید کی دعوت دیں

سوال

ایسی جگہیں جہاں پر قبے اورقبروں کی زيارت ہوتی ہو کیا ہم وہاں صرف توحید کی دعوت دیں ؟
یا کہ توحید باقی امور دین کی دعوت بھی دینی چاہیے مثلا نماز وغیرہ کی اصلاح وغیرہ ، اور اسی طرح اسے بھی جوکہ شرکیہ افعال کا مرتکب تونہیں ہوتا لیکن کچھ معاصی اورگناہ کا ارتکاب کرتا ہے ؟

جواب کا متن

الحمد للہ

یہ ضروری اورواجب ہے کہ دعوت میں مدعوین کے حالات کومد نظر رکھا جاۓ ، جو شرکیہ افعال کے مرتکب ہووہاں پرشرک سے روک کراورتوحید کا حکم دے کردعوت کی ابتدا کی جاۓ ۔

پھراس کے بعد انہیں باقی اموردین کی دعوت دی جاۓ ، اورجوشرک سے بچا ہوا اورسلیم ہے لیکن وہ کچھ معاصی اورگناہ کا مرتکب ہوتا ہے تواسے معاصی اورگناہوں سے روکا جاۓ اورتوبہ کرنے کا حکم دیا جاۓ ۔

واللہ تعالی اعلم .

ماخذ: دیکھیں فتاوی اللجنۃ الدائمۃ ( 12 / 245 ) ۔

تاثرات بھیجیں