جمعرات 12 محرم 1446 - 18 جولائی 2024
اردو

بالغ افراد سے متعلق چند احکامات

سوال

میرے بھائی کی عمر 15 سال ہے، میں چاہتا ہوں کہ آپ ان کے لیے ایک پیغام لکھیں جس میں آپ اسے اس عمر سے متعلق شرعی احکامات سمجھائیں کہ بلوغت کیا ہے؟ طہارت اور احتلام کیا ہوتا ہے اور اسی طرح کی مردوں کے ساتھ تعلق رکھنے والی دیگر چیزیں بتلائیں۔ کیونکہ مجھے شک ہے کہ اسے کچھ باتوں کا علم ہے ، لیکن خدشہ ہے کہ وہ نماز طہارت کے بغیر ادا کرتا ہے۔ اسی طرح آپ اسے کچھ نصیحتیں بھی کر دیں، اور میں آپ سے اپنے بھائی کے لیے دعاؤں کی درخواست کرتا ہوں کہ انہیں اچھا دوست مہیا فرمائے۔ اللہ تعالی آپ کو جزائے خیر سے نوازے۔

جواب کا متن

الحمد للہ.

ہم اللہ تعالی سے دعا گو ہیں کہ اللہ تعالی آپ کے بھائی اور تمام مسلم نوجوانوں کو ہدایت دے، انہیں رشد و ہدایت عطا فرمائے، ان کی شرح صدر فرمائے اور نوجوانوں کے مسائل آسان فرمائے۔

لڑکپن کی عمر انسانی زندگی میں سب سے خطرناک مرحلہ ہوتا ہے؛ کیونکہ اس مرحلے میں جسمانی، عقلی، جذباتی اور جنسی تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں، اور اسی مرحلے میں شیطان بھی بھر پور زور لگاتا ہے کہ انسان کو گمراہ کیا جائے۔

ماہرینِ تربیت کی گفتگو کا مطالعہ کرنے کے بعد ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ وہ درج ذیل امور پر توجہ دینے کا کہتے ہیں:

-نوجوانوں کو اچھے دوستوں کے ساتھ جوڑیں؛ کیونکہ اچھی صحبت انسان کی بہتری کا باعث بنتی ہے؛ کیونکہ انسان دوست کے نظریات اپناتا ہے۔

یہ بھی کہا گیا ہے کہ:
{ عن المرء لا تسل وسل عن قرينه *** فكل قرين بالمقارن يقتدي}

یعنی: کسی کے بارے میں پوچھنے کی بجائے اس کے دوست کے متعلق پوچھو؛ کیونکہ انسان اپنے دوست کی راہ پر چلتا ہے۔

اس لیے آپ دیندار نوجوان تلاش کریں جس کی صحبت میں رہ کر اسی جیسا بن جائے، ان کے ساتھ مل کر اللہ کی عبادت کرے، نماز با جماعت ادا کرے اور ان کے ہمراہ علم نافع حاصل کرے۔

ہم اللہ تعالی سے دعا گو ہیں کہ اللہ تعالی آپ کے بھائی کو اچھے دوست میسر فرمائے، جو اسے خیر کے کاموں پر مدد فراہم کریں اور اچھے کاموں کی ترغیب دیں۔

- اپنے بھائی کے وقت کو دینی یا دنیاوی طور پر کسی بھی مفید سرگرمی میں مصروف رکھیں، اسے فارغ مت رہنے دیں؛ کیونکہ اس مرحلے میں فراغت انسان کو خراب کر دیتی ہے، مثلاً: آپ اسے اپنے ارد گرد کسی بھی با ہدف اجتماعی سرگرمی میں شامل کر دیں جہاں وہ خود بھی فائدہ حاصل کرے اور دوسروں کو فائدہ پہنچائے۔

-آسانی ہو تو جلد از جلد اس کی شادی کر دیں؛ کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا فرمان ہے: (اے نوجوانوں کی جماعت! تم میں سے جو شادی کی استطاعت رکھتا ہو تو وہ شادی کر لے؛ کیونکہ شادی نظر کو جھکا دیتی ہے اور شرمگاہ کو محفوظ بنا دیتی ہے، اور اگر کسی کے پاس شادی کی استطاعت نہ ہو تو وہ روزے رکھے؛ کیونکہ روزے اس کی شہوت توڑ دیں گے۔) اس حدیث کو امام بخاری: (5066) اور مسلم : (3464) نے روایت کیا ہے۔

-اپنے بھائی کے لیے کثرت سے خیر ، کامیابی اور راہ راست پر رہنے کی دعا کریں۔

-اچھے کام کرنے کی ترغیب دیتے رہیں، حرام ، مشکوک اور مکروہ کاموں سے دور رہنے کی تلقین کریں۔

-رابطے کے جدید ذرائع غلط طریقے سے استعمال نہ کرنے دیں، بلکہ ان ذرائع کو اس کی پہنچ سے دور رکھیں، صرف ضرورت کی حد تک استعمال کرنے کی اجازت دیں، اس لیے گھر میں الگ تھلگ یا بند کمرے میں رہتے ہوئے اسے انٹرنیٹ استعمال نہ کرنے دیں۔ اس کے لیے طریقہ کار یہ اپنائیں کہ کمپیوٹر وغیرہ کھلی جگہ رکھیں جہاں پر گھر کے سب افراد کا آنا جانا ہو، تا کہ بچہ کوئی بھی غیر مناسب چیز نہ دیکھ پائے۔

جبکہ بلوغت کے بعد جو شرعی احکامات اس پر واجب ہوتے ہیں انہیں صرف ایک فتوے یا سوال کے جواب میں بیان کرنا مشکل ہے، تاہم پھر بھی ہم ان میں سے اہم ترین واجبات کا ذکر کر دیتے ہیں اور ان کی تفصیلات کے لیے کچھ کتابوں کی طرف رہنمائی کرتے ہیں، جن سے استفادہ کیا جا سکتا ہے۔

اول: بلوغت کے بعد بالغ فرد پر تمام شرعی احکامات لازم ہو جاتے ہیں، لہذا تمام احکامات کی تعمیل کرے اور جن کاموں سے روکا گیا ہے ان سے بچے۔ اس لیے نماز، رمضان کے روزے اور مالدار ہونے کی صورت میں زکاۃ ادا کرنا اور اگر استطاعت ہو تو بیت اللہ کا حج کرنا اس پر لازم ہو جاتا ہے۔

اس کے بعد یہ بھی ہے کہ نماز وضو کے بغیر صحیح نہیں ہو سکتی اس لیے بالغ ہونے پر طہارت کے احکامات سیکھنا بھی اس پر لازم ہو جاتا ہے؛ کیونکہ اللہ تعالی کا فرمان ہے:
إِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلَاةِ فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ إِلَى الْمَرَافِقِ وَامْسَحُوا بِرُءُوسِكُمْ وَأَرْجُلِكُمْ إِلَى الْكَعْبَيْنِ
 ترجمہ: جب تم نماز کے لیے کھڑے ہو تو اپنے چہرے دھو لو، اور کہنیوں تک اپنے ہاتھ دھو لو، پھر اپنے سروں کا مسح کرو اور ٹخنوں تک اپنے پاؤں دھو لو۔[المائدہ: 6]

اسی طرح سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: (بے وضو شخص کی نماز اس وقت تک قبول نہیں کی جاتی جب تک وہ وضو نہ کر لے) تو اس پر ایک شخص نے کہا: وضو کس چیز سے ٹوٹتا ہے؟ تو آپ نے بتلایا: آواز کے ساتھ یا بغیر آواز کے ہوا خارج ہونے سے۔ اس حدیث کو بخاری: (135) نے روایت کیا ہے۔

ایسے ہی سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے ہوئے سنا: (بغیر وضو کے نماز قبول نہیں کی جاتی اور نہ ہی مالِ غنیمت کی خیانت سے صدقہ قبول کیا جاتا ہے۔) اس حدیث کو امام مسلم: (557) نے روایت کیا ہے۔

وضو کا طریقہ پہلے سوال نمبر: (11497 ) کے جواب میں گزر چکا ہے، اسی طرح غسل جنابت کے احکامات سوال نمبر: (10790 ) اور (2648 ) کے جوابات میں گزر چکے ہیں۔

جبکہ نواقض وضو کے بارے میں پڑھنے کے لیے آپ سوال نمبر: (14321 ) اور (11591 ) کا جواب ملاحظہ کریں۔

اسی طرح بلوغت کے بعد زیر ناف اور بغلوں میں بال اگ آتے ہیں، ان کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا سنت طریقہ کار یہ ہے کہ بغلوں کے بال نوچے جائیں جبکہ زیر ناف بال مونڈے جائیں، ان کی تفصیلات پہلے سوال نمبر: (26266 ) ، (9037 ) اور (1177 ) کے جواب میں گزر چکی ہے۔

دوم:

جب مکلف شخص کے لیے کوئی کام کرنا واجب ہو تو اس کے احکامات سیکھنا بھی مکلف شخص پر واجب ہو جاتے ہیں؛ کیونکہ احکامات اور طریقہ کار سیکھے بغیر کوئی بھی شخص کسی بھی کام کو سر انجام دینے کا اہل نہیں ہوتا، اس لیے متعلقہ کام اور اس کے احکامات کو سیکھنا ضروری ہوتا ہے۔

علامہ قرافی رحمہ اللہ "أنوار البروق" (2/148) میں کہتے ہیں:
"علامہ غزالی رحمہ اللہ نے "احیاء علوم الدین" میں اور امام شافعی رحمہ اللہ نے بھی اپنی کتاب "الرسالہ" میں ذکر کیا ہے کہ: مکلف شخص کو کوئی بھی کام کرنے کی اجازت اس وقت تک نہیں ہوتی جب تک اس کام کے بارے میں اللہ تعالی کا حکم نہ جان لے۔ لہذا اگر کوئی شخص خرید و فروخت کرے تو اس پر لازم ہے کہ تجارت کے حوالے سے اللہ تعالی کی طرف سے مقرر کردہ شرعی احکامات جانے، اگر کوئی شخص کسی کو مزدوری پر رکھتا ہے تو اس پر لازم ہے کہ مزدور رکھنے کے متعلق شرعی احکامات کا علم حاصل کرے، اگر کوئی شخص قرض فراہم کرتا ہے تو اس پر لازم ہے کہ قرض دینے کے احکامات سیکھے۔ اسی طرح نماز پڑھنے والے کے لیے نماز کے متعلق اللہ تعالی کے احکامات جاننا ضروری ہے، ایسے ہی طہارت سمیت تمام اقوال و افعال کے لوازمات جاننا ضروری ہے۔ لہذا اگر کوئی شخص حصولِ علم کے بعد اس پر عمل بھی کرے تو وہ شخص اللہ تعالی کی دہری اطاعت کرتا ہے، اور اس کے برعکس جو شخص علم بھی حاصل نہ کرے اور عمل بھی نہ کرے تو وہ اللہ تعالی کی دہری نافرمانی کرتا ہے، جبکہ کوئی علم تو حاصل کر لے لیکن علم کے مطابق عمل نہ کرے تو وہ اللہ تعالی کی ایک اطاعت اور ایک نافرمانی کرتا ہے۔" ختم شد

اللہ تعالی جسے شرعی احکامات سیکھنے کی توفیق دے دے تو اس کے لیے سیکھنا اس وقت بہت آسان ہے، اس لیے انسان کو علم نافع حاصل کرنے اور اس پر عمل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے، نیز اللہ تعالی سے کامیابی اور راہِ راست پر چلتے رہنے کا سوال بھی کرے۔

واللہ اعلم

ماخذ: الاسلام سوال و جواب