جمعہ 28 رمضان 1446 - 28 مارچ 2025
اردو

قریبی رشتہ داروں سے ملاقات کرنے پر حرام کام کا ارتکاب ہو تو ان سے ملنے کا حکم

105444

تاریخ اشاعت : 30-03-2025

مشاہدات : 32

سوال

میں جب بھی اپنی خالہ یا اپنی پھوپھو سے ملنے کے لیے جاتا ہوں تو ان کی بیٹیاں ہمارے ساتھ بیٹھ جاتی ہیں اور مجھے ان کے ساتھ مجبوری میں ہاتھ ملانا پڑتا ہے اگر میں ان سے ہاتھ نہ ملاؤں تو مجھے میری پھوپھو یا خالہ ڈانٹتی بھی ہے اور مجھ پر ناراض بھی ہوتی ہے تو کیا اس وجہ سے پھوپھو اور خالہ سے ملنا بند کر سکتا ہوں چاہے میری ایک ہی پھوپھو یا خالہ ہو؟

جواب کا متن

الحمد للہ.

"صلہ رحمی کرنا شرعی طور پر واجب عمل ہے؛ مزید یہ کہ  پھوپھو اور خالہ ایسے رشتے ہیں جن کے ساتھ صلہ رحمی کی تاکید کی گئی ہے لیکن اس کے لیے شرط یہ ہے کہ پھوپھو اور خالہ سے ملتے ہوئے کسی شرعی غلطی کا ارتکاب نہ ہو مثلاً  پھوپھو یا خالہ کی بیٹیاں وہاں نہ ہوں کیونکہ آپ ان کے محرم نہیں ہیں جیسے کہ سوال میں واضح ہے۔

چنانچہ اگر آپ ان کے شریعت سے متصادم اعمال کی تردید بھی نہ کر سکیں تو ایسی صورت میں آپ اپنی پھوپھو اور خالہ سے ملنے کے لیے ایسا وقت منتخب کریں جس میں آپ کی پھوپھو اور خالہ کے ساتھ کوئی بھی ایسی لڑکی نہ ہو جس کے آپ محرم نہیں ہیں اسی طرح آپ اپنی پھوپھو اور خالہ سمیت دیگر لڑکیوں کے لیے بھی شرعی حکم واضح کر دیں اور ان کو بتلائیں کہ مرد کے لیے کسی غیر محرم سے مصافحہ کرنا جائز نہیں ہے۔

اللہ تعالی عمل کی توفیق عطا فرمائے، درود و سلام ہوں ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ و سلم پر، اور آپ کی آل و صحابہ کرام پر۔" ختم شد

الشیخ عبد العزیز بن عبد اللہ بن باز     الشیخ عبد العزیز آل الشیخ الشیخ عبد اللہ غدیان   الشیخ صالح الفوزان  الشیخ بکر ابو زید۔

فتاوى اللجنة الدائمة للبحوث العلمية والإفتاء (25/342)

ماخذ: الاسلام سوال و جواب