ہفتہ 20 صفر 1441 - 19 اکتوبر 2019
اردو

نفاس والى عورتوں سے جماع كرنے كا كفارہ

105642

تاریخ اشاعت : 23-09-2016

مشاہدات : 3164

سوال

نفاس كے دوران بيوى سے جماع كرنے كا كفارہ كيا ہے ؟
يہ علم ميں رہے كہ سوال نمبر ( 36722 ) كے جواب ميں بيان نہيں كيا گيا كہ اگر بالفعل جماع كر ليا جائے تو اس كا كفارہ كيا ہے، اس ميں صرف يہ بيان ہوا ہے كہ يہ حرام ہے يہ تو معلوم ہے كہ يہ غلطى ہے ليكن ہم اس كا كفارہ معلوم كرنا چاہتے ہيں ؟

جواب کا متن

الحمد للہ:

اول:

حيض يا نفاس والى عورت سے جماع كرنے پر كفارہ واجب ہونے ميں اہل علم كا اختلاف پايا جاتا ہے، اور اس علماء كرام كے تين اقوال ہيں:

پہلا قول:

كفارہ واجب ہے، اسے ابن منذر نے ابن عباس رضى اللہ تعالى عنہما اور قتادہ سے بيان كيا ہے، اور بعض شافعى حضرات نے بيان كيا ہے كہ امام شافعى كا قديم قول يہى ہے، ليكن بعض شافعى حضرات اس سے انكار كرتے ہيں، اور امام احمد سے بھى ايك روايت ہے، جمہور حنابلہ اسى روايت پر ہيں، جيسا كہ مرداوى رحمہ اللہ نے الانصاف ( 1 / 351 ) ميں بيان كيا ہے.

اور بعض حنابلہ نے امام احمد سے بيان كيا ہے كہ نفاس والى عورت كے ساتھ جماع كرنے سے كفارہ واجب ہوتا ہے اور اس ميں ايك ہى روايت ہے بخلاف حيض كے.

ديكھيں: المجموع ( 2 / 391 ) اور الانصاف ( 1 / 349 ).

اس كے ليے انہوں نے مقسم عن ابن عباس كے طريق سے مروى روايت سے استدلال كيا ہے كہ حيض كى حالت ميں بيوى سے جماع كرنے والے شخص كے بارہ ميں نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" وہ ايك يا نصف دينار صدقہ كرے "

اسے ابو داود نے سنن ابو داود حديث نمبر ( 264 ) ميں روايت كيا ہے، اس حديث كى سند اور متن ميں بہت وجہ سے اختلاف ہے، اور اسى طرح اسے صحيح اور ضعيف قرار دينے ميں بھى بہت زيادہ اختلاف ہے.

ديكھيں: التلخيص الحبير ( 1 / 292 - 293 ) اور سنن ترمذى پر شيخ احمد شاكر كى تعليق ( 1 / 264 - 254 ).

دوسرا قول:

كفارہ مستحب ہے واجب نہيں:

امام نووى رحمہ اللہ المجموع  ( 2 / 391 ) ميں رقمطراز ہيں:

" اسے ابو سليمان خطابى رحمہ اللہ نے اكثر علماء اور ابن منذر نے عطاء اور ابن ابى مليكہ، اور شعبى، نخعى، مكحول، زہرى، ايوب سختيانى، ابو زناد، ربيعہ، حماد بن ابى سليمان، سفيان ثورى، ليث اور سعد رحمہم اللہ سے بيان كيا ہے " انتہى

حنفيہ اور شافعيہ كا بھى يہى قول ہے:

الدر المختار ميں درج ہے:

" ايك يا نصف دينار صدقہ كرنا مندوب ہے " انتہى

ديكھيں: الدر المختار ( 1 / 298 ) اور الفتاوى الھنديۃ ( 1 / 39 ) كا بھى مطالعہ كريں.

اور امام نووى رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" اگر معلوم ہو كہ عورت حيض كى حالت ميں ہے اور اس سے جماع كرنا حرام ہے تو خاوند اختيار كى حالت ميں بيوى سے جماع كر لے تو اس ميں دو قول ہيں:

صحيح قول جديد ہے كہ اس پر كفارہ لازم نہيں، بلكہ اسے تعزير لگائى جائيگى، اور وہ توبہ و استغفار كريگا، اور قديم قول ميں جو واجب تھا اس كے ليے كفارہ دينا مستحب ہے.

دوسرا قول:

يہ قديم قول ہے كہ اس پر كفارہ لازم ہے...

پھر انہوں نے امام شافعى رحمہ اللہ سے وجوب كا قديم قول بيان كرتے ہوئے اختلاف بيان كيا ہے " انتہى

ديكھيں: المجموع ( 2 / 390 ).

تيسرا قول:

اس ميں كفارہ نہيں بلكہ توبہ و استغفار واجب ہے، يہ مالكي حضرات كا قول ہے.

ديكھيں: الموسوعۃ الفقھيۃ ( 18 / 325 ).

اور محلى ميں ابن حزم كا بھى يہى قول ہے:

ديكھيں: محلى ( 2 / 187 ).

بلاشك و شبہ صدقہ كرنے كا قول جو كہ حديث ميں بھى مذكور ہے يہى زيادہ احتياط والا ہے اور برى الذمہ ہونے كے ليے صحيح ہے، اور اس معصيت و نافرمانى سے ركنے كے ليے اور اللہ كى حرمات كى تعظيم اور اس كى حدود سے تجاوز نہ كرنے كے ليے قابل عمل ہے، خاص كر جب يہ حديث صحيح نہ ہو تو ابن عباس رضى اللہ تعالى عنہ كا قول ہے.

شيخ محمد بن ابراہيم رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" حيض كى حالت ميں بيوى سے جماع كرنا كتاب و سنت كى نصوص سے حرام ہے.

اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

آپ سے حيض كے بارہ ميں دريافت كرتے ہيں، آپ كہہ ديجئے كہ يہ گندگى ہے حيض كے دوران عورتوں سے دور رہو البقرۃ ( 222 ).

حيض كى حالت ميں بيوى سے جماع كرنا سے منع كرنا مراد ہے، يعنى حيض والى جگہ كو استعمال مت كيا جائے كيونكہ حيض والى جگہ شرمگاہ ہے، اس ليے اگر كوئى شخص ايسى جرات كرتا اور وطئ كر ليتا ہے تو اسے توبہ و استغفار كرتے ہوئے آئندہ ايسا نہ كرنے كا عزم كرنا چاہيے، اور اس پر ايك يا نصف دينار بطور كفارہ صدقہ كرنا لازم ہے، ابن عباس رضى اللہ تعالى عنہما كى مرفوع حديث كى بنا پر اختيار ہے.

اور دينار سے مراد سونے كا ايك مثقال ہے، اور اگر سونا نہ پائے تو پھر چاندى كى قيمت كافى ہوگى " انتہى

ديكھيں: رسائل الشيخ محمد بن ابراہيم ( 2 / 98 ).

اور شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" كفارہ واجب ہونا حنابلہ كے مذہب كے مفردات ميں شامل ہوتا ہے، اور آئمہ ثلاثۃ كى رائے ہے كہ كفارہ تو نہيں ليكن وہ گنہگار ہوگا.

اور حديث صحيح ہے، كيونكہ اس كے سارے رجال ثقات ہيں، اور جب حديث صحيح ہوئى تو پھر امام احمد كو اس قول ميں منفرد كہنے كا كوئى نقصان نہيں.

لہذا صحيح يہى ہوا كہ كفارہ واجب ہے، اور كم از كم ہم يہ كہہ سكتے ہيں كہ بطور احتياط واجب ہے " انتہى

ديكھيں: الشرح الممتع ( 1 / 255 ) طبع مصريۃ

اسى طرح مستقل فتوى كميٹى كے علماء كرام نے بھى وجوب كا فتوى ديا ہے.

ديكھيں: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 6 / 93 - 112 ).

تنبيہ:

دينار كى قيمت وزن كے حساب سے ( 4.25 ) گرام تقريبا بنتى ہے، اس ليے اس پر واجب ہے كہ وہ اس كى پورى يا نصف قيمت صدقہ كرے.

واللہ اعلم.

ماخذ: الاسلام سوال و جواب

تاثرات بھیجیں