محض ذاتی مطالعہ پر اکتفا کرنے کے منفی اثرات

سوال 10678

علم حاصل کرنے کے طریقے کیا ہیں؟ اور طالبِ علم کو کن رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے؟

جواب کا متن

ہمہ قسم کی حمد اللہ تعالی کے لیے، اور دورو و سلام ہوں اللہ کے رسول پر، بعد ازاں:

علم حاصل کرنے کے دو طریقے ہیں:

پہلا طریقہ:
یہ کہ علم ایسی معتبر کتابوں سے حاصل کیا جائے جنہیں ایسے علماء نے تألیف کیا ہو جو اپنے علم اور امانت کی بدولت بدعات و خرافات سے پاک عقیدے کے باعث معروف ہوں۔

کتب بینی سے علم حاصل کرنا ممکن تو ہے، لیکن اس کے سامنے دو بڑی رکاوٹیں ہیں:

پہلی رکاوٹ:
مدتِ طلب کا طویل ہونا۔ انسان کو اپنے مطلوبہ علم تک پہنچنے میں بہت زیادہ وقت، محنت اور سخت مشقت درکار ہوتی ہے۔ اور بہت سے لوگ اس کو برداشت نہیں کر پاتے، خاص طور پر اس دور میں جب وہ اپنے ارد گرد لوگوں کو وقت ضائع کرتے دیکھتے ہیں تو سستی و کاہلی طاری ہو جاتی ہے، وہ تھک کر بیٹھ جاتا ہے اور پھر مطلوبہ علم تک نہیں پہنچ پاتا۔

دوسری رکاوٹ:
جو شخص محض کتابوں سے علم حاصل کرتا ہے اس کا علم اکثر کمزور ہوتا ہے، مضبوط اصولوں اور واضح قواعد پر مبنی نہیں ہوتا۔ اسی وجہ سے ایسے لوگوں سے بہت غلطیاں سر زد ہوتی ہیں، کیونکہ ان کے پاس وہ بنیادی اصول نہیں ہوتے جن کی بنیاد پر کتاب و سنت کے فروعی مسائل کی صحیح تفہیم ممکن ہوتی ہے۔ بعض لوگ کسی ایسی حدیث پر گزر جاتے ہیں جو صحاح، سنن یا مسانید جیسی معتبر کتبِ حدیث میں مذکور نہیں ہوتی، اور جو اصولِ دین کے بھی خلاف ہوتی ہے، پھر بھی اس پر اپنا عقیدہ قائم کر لیتے ہیں، حالانکہ یہ واضح طور پر غلط ہے۔ کتاب و سنت کے لیے اصول و قواعد ہیں جن پر فروعی مسائل کو پرکھا جاتا ہے، لہٰذا اگر کوئی جزوی مسئلہ ان اصولِ کلیہ کے خلاف ہو، اور اس میں تطبیق کی کوئی صورت نہ نکلے، تو اس جزوی روایت کو چھوڑ دیا جاتا ہے۔

دوسرا طریقہ:
علم حاصل کرنے کا دوسرا ذریعہ یہ ہے کہ انسان کسی ایسے معتمد و دیندار استاد سے براہِ راست سیکھے جو اپنے علم میں مضبوط ہو۔ یہ طریقہ زیادہ تیز، زیادہ واضح اور زیادہ پختہ نتائج دیتا ہے۔ پہلی صورت میں طالبِ علم اکثر غلط فہمی، کم علم ہونے یا دیگر اسباب کی بنا پر بھٹک جاتا ہے، جبکہ استاد سے پڑھنے میں گفتگو، سوال و جواب، تحقیق، فہم میں گہرائی، درست بات کی مضبوطی اور غلط قول کی پہچان جیسی بے شمار خوبیاں پیدا ہوتی ہیں۔

اور اگر طالبِ علم دونوں طریقوں کو جمع کر لے تو یہ سب سے کامل طریقہ ہے۔ چاہیے کہ طالبِ علم اہم مضامین سے آغاز کرے، اور مختصر کتب سے پڑھائی شروع کرے، پھر آہستہ آہستہ طویل کتابوں تک پہنچے، یوں نہ ہو کہ ایک مرحلہ مکمل کیے بغیر دوسرے مرحلے میں منتقل ہو جائے، بلکہ ہر مرحلے میں پختگی حاصل کر کے اگلے درجے کی طرف بڑھے، تاکہ اس کا سفرِ علم مضبوط بنیادوں پر قائم ہو۔

فتاوی الشیخ محمد بن صالح عثیمین ، کتاب العلم صفحہ: 68- 70

حوالہ جات

حصول علم

ماخذ

الاسلام سوال و جواب

Previous
آگے
at email

ایمیل خبرنامہ

اسلام سوال و جواب کی میلنگ لسٹ میں شامل ہوں

phone

اسلام سوال و جواب ایپ

مواد تک فوری رسائی اور آف لائن مطالعہ کے لیے

download iosdownload android