بدھ 4 ربیع الاول 1442 - 21 اکتوبر 2020
اردو

اگر خاوند اسلام قبول نہ كرے تو بيوى عليحدہ ہو جائے

109194

تاریخ اشاعت : 29-08-2009

مشاہدات : 5571

سوال

اگر بيوى مسلمان ہو جائے اور خاوند اسلام قبول نہ كرے تو كيا بيوى كے ليے كافر خاوند سے عليحدگى اختيار كرنا واجب ہے، اور اگر بيوى عليحدہ ہونے سے انكار كر دے تو كيا حكم ہو گا ؟

جواب کا متن

الحمد للہ.

" اگر بيوى مسلمان ہو جائے اور اس كا خاوند كافر ہو تو يہ نكاح فسخ ہو جاتا ہے، ليكن بيوى عدت پورى ہونے تك مہلت سے كام لے اگر دوران عدت خاوند اسلام قبول كر لے تو وہ اس كى بيوى ہے، اور اگر وہ اسلام قبول نہيں كرتا اور بيوى كى عدت گزر جائے تو جب سے وہ مسلمان ہوئى ہے اس وقت سے ہى اس كا نكاح فسخ ہو چكا ہے.

اور اگر خاوند بيوى كى عدت گزرنے كے بعد اسلام قبول كر لے تو كيا بيوى واپس جا سكتى ہے يا نہيں ؟

اس مسئلہ ميں علماء كرام كے دو قول ہيں، اور راجح يہى ہے كہ اگر بيوى موافقت كر لے تو وہ خاوند كے پاس واپس جا سكتى ہے، كيونكہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے اپنى بيٹى كو اسلام لانے كے كئى برس بعد جب ابو العاص بن ربيع مسلمان ہوئے تو واپس كيا تھا "

اور اگر بيوى اس خاوند سے عليحدہ ہونے سے انكار كر دے تو ان دونوں كے درميان عدالت كى جانب سے زبردستى عليحدگى كروائى جائيگى " انتہى

فضيلۃ الشيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ.

ماخذ: الاسلام سوال و جواب