اول:
آپ حضرات جو فقراء و مساکین کی کفالت کا فریضہ انجام دے رہے ہیں، یہ نہایت نیک اور باعثِ اجر عمل ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ آپ کے اس عمل کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور اسے آپ کے لیے باعثِ برکت بنائے۔
دوم:
صدقہ دو اقسام کا ہوتا ہے:
- واجب صدقہ (زکاۃ):
یہ صرف ان لوگوں کو دیا جا سکتا ہے جن کا ذکر اللہ تعالیٰ نے اس آیتِ مبارکہ میں فرمایا ہے:
إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغَارِمِينَ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ وَابْنِ السَّبِيلِ فَرِيضَةً مِنَ اللَّهِ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ (التوبۃ: 60)
ترجمہ: ’’صدقے تو صرف فقیروں، مساکین ، زکاۃ پر مقرر کارکنوں، تالیفِ قلب کے لیے، غلام آزاد کرانے، مقروض لوگوں، اللہ کے راستے میں ، اور مسافر کے لیے ہیں۔ یہ فریضہ ہے اللہ کی طرف سے، اور اللہ سب کچھ جاننے والا، حکمت والا ہے۔‘‘
اس بنا پر زکاۃ ایسے شخص کو دینا جائز نہیں جو محنت کر کے اپنی ضروریات پوری کرنے کی قدرت رکھتا ہو، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:
’’زکاۃ میں نہ کسی مالدار کا حصہ ہے، نہ ایسے شخص کا جو کمائی کی طاقت رکھتا ہو۔‘‘
سنن ابو داود: 1633، اور اسے البانی نے "إرواء الغلیل" 876 میں صحیح قرار دیا ہے۔
- مستحب صدقہ (نفلی صدقہ):
یہ وہ صدقہ ہے جو انسان زکاۃ کے علاوہ اپنی خوشی سے اللہ کی راہ میں دیتا ہے۔ اس قسم کا صدقہ فقیر اور مالدار دونوں کو دیا جا سکتا ہے، مگر بہتر یہ ہے کہ اسے ایسے شخص کو دیا جائے جو واقعی ضرورت مند ہو۔
چنانچہ اس بارے میں امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’نفلی صدقہ مالدار کو دینا جائز ہے، اس میں کوئی اختلاف نہیں۔ دینے والے کو اس پر اجر ملتا ہے، تاہم مستحق کو دینا افضل ہے۔ ہمارے فقہائے کرام کہتے ہیں: مالدار کے لیے بہتر ہے کہ وہ ایسے صدقے کو لینے سے بچے، اور بغیر ضرورت کے صدقے کا طلب گار بننا مکروہ ہے۔ اور اگر کوئی مالدار شخص جھوٹ موٹ کی غربت ظاہر کر کے نفلی صدقہ لے تو یہ حرام ہے۔‘‘ ختم شد
ماخوذ از: (المجموع: 6/236)
اس بنا پر: اگر آپ ان گھرانوں کو زکاۃ کی رقم دے رہے ہیں، تو وہ صرف انہی کے لیے جائز ہے جو واقعی فقراء ہیں اور اپنی محنت سے گزر بسر نہیں کر سکتے۔
لیکن اگر آپ کی دی ہوئی رقم نفلی صدقہ یا عام خیرات کی ہے، تو ایسے افراد کو دینا بھی جائز ہے، تاہم بہتر یہ ہے کہ اسے ان لوگوں پر خرچ کیا جائے جو حقیقی طور پر ضرورت مند ہیں، تاکہ ان کی حاجت پوری ہو سکے۔
اور اگر آپ ان لوگوں کو دینا بند کر دیں جو کام کر کے کما سکتے ہیں، تو آپ پر کوئی گناہ نہیں، کیونکہ وہ دراصل مستحق نہیں۔
اسی طرح اگر صدقہ دینے والے نے خاص طور پر یہ شرط لگائی ہو کہ اس کا مال صرف فقراء پر خرچ کیا جائے، تو پھر لازم ہے کہ وہ صرف فقراء ہی کو دیا جائے، اور ایسے لوگوں کو نہ دیا جائے جو غنی ہیں یا محنت مزدوری کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔
آپ کو چاہیے کہ جو افراد محنت کی استطاعت رکھتے ہیں، انہیں نرمی اور خیر خواہی سے سمجھائیں کہ دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلانے کے بجائے کوئی جائز کام اختیار کریں، تاکہ وہ عزتِ نفس کے ساتھ اپنی اور اپنے گھر والوں کی کفالت کر سکیں۔
واللہ اعلم