اول:
اگر یہ پرندے ایسے ہیں جن کا گوشت شریعت میں کھانا جائز ہے، جیسے چڑیاں، مرغی، بطخ وغیرہ، تو ان کی لید پاک ہے۔ یہی حکم ہر اس جانور کا ہے جس کا گوشت کھایا جاتا ہے، جیسے بکری، گائے، گھوڑے وغیرہ۔
جن کا گوشت کھایا جاتا ہے ایسے جانور کے پیشاب اور لید کے پاک ہونے پر متعدد دلائل دلالت کرتے ہیں ، ان میں سے چند یہ ہیں:
- اصل قاعدہ یہ ہے کہ چیزیں پاک ہوتی ہیں، اور کوئی صحیح شرعی دلیل ایسی وارد نہیں ہوئی جو ان چیزوں کے نجس ہونے پر دلالت کرے۔
- صحیحین میں یہ بات ثابت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے کچھ لوگوں کو، جو مدینہ آئے اور بیمار ہو گئے تھے، اونٹوں کا پیشاب اور دودھ پینے کا حکم دیا۔ اگر اونٹوں کا پیشاب نجس ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم انہیں اس کے پینے کا حکم نہ دیتے، کیونکہ حرام چیز سے علاج کرنا جائز نہیں۔
- صحیح مسلم میں ثابت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھنے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: (ان میں نماز پڑھو، کیونکہ بکریاں برکت ہیں)۔ اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے وہاں نماز پڑھنے والوں کو ان کے پیشاب اور لید سے بچنے کا حکم نہیں دیا، حالانکہ عموماً وہاں ان چیزوں کا لگ جانا متوقع ہوتا ہے۔
اس کے علاوہ بھی بہت سے دلائل ہیں، جن پر شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے تفصیلی بحث کی ہے، انہیں ’’مجموع الفتاوی‘‘ (21/542-586) میں دیکھا جا سکتا ہے۔
اور ابن قدامہ رحمہ اللہ ’’المغنی‘‘ (2/492) میں کہتے ہیں:
’’ہر اس جانور کا پیشاب اور لید پاک ہے جس کا گوشت کھایا جاتا ہے ۔۔۔امام مالک کہتے ہیں: اہلِ علم اس جانور کے پیشاب کو نجس نہیں سمجھتے جس کا گوشت کھایا جائے اور دودھ پیا جائے ۔۔۔اور ابن منذر کہتے ہیں: جن اہلِ علم سے ہمیں علم ملا ہے، ان سب کا اس بات پر اجماع ہے کہ بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھنا جائز ہے، سوائے امام شافعی کے، جنہوں نے یہ شرط لگائی ہے کہ وہ جگہ ان کے لید اور پیشاب سے پاک ہو۔‘‘ مختصراً ختم شد
اور ’’فتاویٰ اللجنۃ الدائمۃ‘‘ (6/414) میں ہے:
’’جس جانور کا گوشت کھایا جاتا ہے اس کا پیشاب پاک ہے، لہٰذا اگر کسی ضرورت کے تحت وہ بدن پر لگ جائے تو اس کے ساتھ نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں۔‘‘ ختم شد
البتہ اگر یہ پرندے ایسے ہوں جن کا گوشت نہیں کھایا جاتا، جیسے پنجوں والے پرندے، مثلاً باز، تو ان کی لید نجس ہے، اور اس بارے میں علماء کے درمیان کوئی اختلاف نہیں۔
دیکھیے: ’’المغنی‘‘ (2/490)۔
دوم:
جب یہ بات ثابت ہو گئی کہ ان پرندوں کی لید پاک ہے جن کا گوشت کھایا جاتا ہے، تو اگر وہ کپڑے، بدن یا قالین پر لگ جائے تو اسے دھونا واجب نہیں، اور نہ ہی ایسے کپڑے پہن کر یا اس قالین پر نماز پڑھنے میں کوئی حرج ہے۔
البتہ والدہ کو یہ نصیحت کرنی چاہیے کہ وہ ان پرندوں کے لیے الگ جگہ مقرر کریں، تاکہ گھر والوں کو اذیت نہ ہو، کیونکہ یہ لید اگرچہ پاک ہے، لیکن طبعاً لوگوں کو ناگوار محسوس ہوتی ہے۔
واللہ اعلم