بدھ 4 ربیع الاول 1442 - 21 اکتوبر 2020
اردو

ملک سے باہر جانے کی اجازت نہیں ہے، تو کیا کسی کو اپنی طرف سے حج کیلئے وکیل بنایا جاسکتا ہے؟

111788

تاریخ اشاعت : 12-10-2013

مشاہدات : 1938

سوال

ایسا شخص کیا کرے جس نے پہلے حج نہیں کیا ہوالیکن اب حج کرنا چاہتا ہے، لیکن اسے ملک سے باہر جانے کی اجازت نہیں ، کیا وہ کسی کو اپنی طرف سے حج کیلئے وکیل مقرر کر سکتا ہے؟

جواب کا متن

الحمد للہ.

سنت نبویہ میں کسی کی طرف سے حج کرنے کی دو صورتیں بیان ہوئی ہیں:

پہلی صورت: کسی فوت شدہ کی طرف سے حج کیا جائے

اسکی دلیل صحیح مسلم (1149) کی روایت ہےکہ ایک عورت نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی فوت شدہ والدہ کے بارے میں پوچھا ، اور کہا: "اللہ کے رسول! میری والدہ نے کبھی حج نہیں کیا، تو کیا میں اسکی طرف سے حج کروں؟ " آپ نے فرمایا؛ (اسکی طرف سے حج کرو)

دوسری صورت: جو بدنی طور پر حج کرنے سے عاجز ہو، مثلاً: انتہائی بوڑھا شخص جو سفر نہیں کرسکتا، اور حج میں پیش آنے والی صعوبتیں برداشت نہیں کرسکتا، یا دائمی مریض جس کے شفا یاب ہونےکی امید نہ ہو۔

اسکی دلیل یہ ہے کہ ایک خاتون نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اللہ کے رسول: "اللہ کی جانب سے اسکے بندوں پر عائد فریضہ حج میرے والد پر ابھی باقی ہے، وہ سواری پر بیٹھ ہی نہیں سکتا، تو کیا میں اسکی طرف سے حج کروں؟" آپ نے فرمایا: (ہاں) بخاری (1513) و مسلم (1334)

اور جو شخص حج کرنے سے صرف اس لئے عاجز ہے کہ وہ ملک سے باہر نہیں جاسکتا، تو یہ ایسا معاملہ جس کے ختم ہونے کی امید کی جاسکتی ہے، اور بہت سے لوگ جن کیلئے ملک سے باہر جانا ممنوع تھا ،کچھ مدت کے بعد حکومت کی تبدیلی کی وجہ سے یا کسی اور وجہ سے انہیں باہر جانے کی اجازت مل گئی۔

دائمی فتوی کمیٹی کے فتاوی میں ہے (11/51):

"ایسا مسلمان جس نے اپنا حج ادا کر لیا ہے وہ کسی دوسرے کی طرف سے حج کر سکتا ہے، مثال کے طور پر وہ شخص عمر رسیدہ ہے ، یا ایسی بیماری میں مبتلا ہے جس سے شفا یاب ہونے کی امید نہیں، یا وہ فوت ہوچکا ہے؛ اس بارے میں صحیح احادیث موجود ہیں، اور اگر جس کی طرف سے حج کا ارادہ ہے وہ کسی عارضی رکاوٹ کی وجہ سے حج کی ادائیگی نہیں کرسکتا مثلاً: ایسی بیماری اسے لاحق ہے جس سے شفا یابی کی امیدہے، یا کوئی سیاسی عذر ہے، یا سفر کیلئے راستہ پر امن نہیں وغیرہ ؛ تو ایسی شکل میں اس کی جانب سے حج کرنا درست نہیں ہوگا"

شيخ عبد العزيز بن عبد الله بن باز.... شيخ عبد الرزاق عفيفي...شيخ عبد الله بن قعود.

اس بنا پر؛ ملک سے باہر جانے پر پابندی کی وجہ سے اُسے حج کیلئے کسی کو وکیل بنانے کی اجازت نہیں ہے، بلکہ حکمِ ممانعت ختم ہونے کا انتظار کرے ، اور پھر خود حج کرے.

ماخذ: الاسلام سوال و جواب