الحمد للہ.
اگر حقیقت ایسے ہی ہے کہ آپ ڈھلے ہوئے سونے کی خرید وفروخت مذکورہ طریقہ پر کرتے ہیں یعنی: اس خریدے ہوئے سونے کی قیمت سونا یا چاندی یا اس کے قائم مقام نوٹوں کے ذریعہ قسطوں میں ادا کی جاتی ہے، تو یہ طریقہ حرام ہے، کیونکہ اس میں ادھار کاسود ہے۔
اور اس لین دین میں اگر خریدی ہوئی شے اور دی ہوئی قیمت دونوں ایک ہی ہوں، یعنی کہ: دونوں [قیمت اور خریدی ہوئی چیز]میں سے مثلا ہر ایک سونا ہو اور وزن میں دونوں مختلف ہوں اور قیمت قسطوں میں چکائی گئی ہو، تو اس میں ادھار اور زیادتی [دونوں ]کا سود ہے۔
اللہ تعالی ہے توفیق دینے والا ہے۔
وصلى الله على نبينا محمد وآله وصحبه وسلم" انتهى
دائمی کمیٹی برائے علمی بحوث و فتاوی
شيخ عبد العزيز بن عبد الله بن باز ، شيخ عبد الرزاق عفيفی ، شيخ عبد الله بن غديان ، شيخ عبد الله بن قعود .