منگل 20 ذو القعدہ 1445 - 28 مئی 2024
اردو

معاہدوں میں جرمانے کی شق کب جائز ہے اور کب جائز نہیں ہے؟

سوال

میری امپورٹ ایکسپورٹ کمپنی ہے۔ میں بیرون ملک سے سامان درآمد کرتا ہوں اور اپنے ملک کے ڈیلرز کو فروخت کرتا ہوں۔ کاروباری معاہدے میں جرمانے کی ایسی شق کا کیا حکم ہے جو گاہک کو شے کی قیمت تاخیر سے ادا کرنے پر جرمانہ ادا کرنے پر مجبور کرتی ہے، اور بعض صورتوں میں تو اس سے متوقع منافع کا جرمانہ ادا کرنے کا تقاضا کیا جاتا ہے؟ اگر میں جرمانے کی اس شق کی تعمیل کرنے پر مجبور ہوں تو کیا میرے لیے یہ جائز ہے کہ میں اپنے صارفین کے لیے بھی یہ شرط لگاؤں؟

جواب کا متن

الحمد للہ.

تجارتی معاہدوں میں جرمانے کی شق جائز ہے، تاہم ان معاہدوں میں جرمانے کی شق جائز نہیں ہے جن میں لین دین ادھار کی شکل میں ہو؛ مثال کے طور پر یہ شرط لگانا جائز نہیں ہے کہ جو شخص قسطوں میں سامان خریدتا ہے اگر وہ ادائیگی میں تاخیر کرے تو اسے متفقہ قیمت سے کچھ اضافی ادا کرنا ہو گا، کیونکہ یہ اضافی قیمت اس پر واجب الادا قرض پر ہے اور قرض پر اضافی ادائیگی کا مطالبہ صریح سود ہے۔ لہذا ادھار لین دین کے علاوہ حقوق اور وعدوں کی تکمیل کے سلسلے میں جرمانے کی شق شامل کرنا جائز ہے جس میں ہونے والے حقیقی نقصان کا معاوضہ لیا جائے۔ چنانچہ اسلامی فقہ کونسل کی معاہدوں میں جرمانے کی شق کے حوالے سے قرار داد ہے کہ:

"اول: قانون میں جرمانے کی شق: دو معاہدہ کرنے والوں کے درمیان ایک ایسا متفقہ معاملہ ہے جو طرفین کو اپنے وعدوں کی خلاف ورزی یا نفاذ میں تاخیر کی وجہ سے ہونے والے نقصان کا معاوضہ ادا کرنے کا پابند بناتا ہے۔

دوم: کونسل جرمانے سے متعلقہ اپنی سابقہ قرار دادوں کی مزید تاکید کرتی ہے جن میں سے ایک بیع سلم کے حوالے سے قرار داد نمبر 85 ( 2 / 9 )، اس میں ہے کہ: "بیع سلم میں اگر چیز کی ادائیگی میں تاخیر ہوتی ہے تو اس میں جرمانے کی شق شامل کرنا جائز نہیں ہے؛ کیونکہ سلم ادھار کی صورت ہے، اور ادھار کی ادائیگی میں تاخیر ہونے پر اضافی ادائیگی کی شرط شامل کرنا جائز نہیں ہے۔" اور دوسری قرار داد عقدِ استصناع کے حوالے سے قرار داد نمبر: 65 ( 3/ 7)، اس میں ہے کہ: "اگر حالات معمول کے مطابق ہوں قدرتی آفات وغیرہ کا سامنا نہ ہو تو عقدِ استصناع میں طرفین کی باہمی رضا مندی سے جرمانے کی شق شامل کرنا جائز ہے۔" اور تیسری قرار داد قسطوں میں بیع کے حوالے سے قرار داد نمبر: 51 ( 6/ 2)، اس میں ہے کہ: "اگر قسطوں میں چیز خریدنے والا مقررہ وقت تک قسطیں ادا نہ کر پائے تو اس سے کسی قسم کی اضافی ادائیگی کا مطالبہ نہ کیا جائے۔ چاہے اس چیز کو پہلے سے مشروط کیا گیا ہو یا نہ کیا گیا ہو، کیونکہ یہ حرام سود ہے۔"

سوم: جرمانے کی شق اصلی معاہدے کے ساتھ بھی شامل کی جا سکتی ہے اور بعد میں بھی، لیکن نقصان رونما ہونے سے پہلے پہلے ہو۔

چہارم: تمام مالیاتی معاہدوں میں جرمانے کی شق شامل کرنا جائز ہے ما سوائے ایسے معاہدوں کے جن کا تعلق ادھار سے ہے؛ کیونکہ ادھار معاملات میں اضافی رقم کا مطالبہ کرنا صریح سود ہے۔

اس بنا پر: جرمانے کی شق ٹھیکیداروں کے ساتھ ٹھیکہ طے کرتے ہوئے، یا درآمد کنندہ سے کوئی چیز درآمد کرواتے ہوئے، اور عقدِ استصناع میں مینوفیکچررز کے لیے پروڈکشن آرڈرز میں تاخیر یا متفقہ امور کی خلاف ورزی کی صورت میں جرمانے کی شق شامل کی جا سکتی ہے۔

لیکن قسطوں کی بیع میں اگر خریدار بقیہ اقساط کی ادائیگی میں تاخیر کا شکار ہو جائے چاہے اس کی وجہ تنگ دستی ہو یا خواہ مخواہ کی تاخیر اس میں جرمانے کی شق شامل نہیں کی جا سکتی۔ اسی طرح عقدِ استصناع میں خریدار اگر قیمت کی ادائیگی میں تاخیر کا شکار ہو تو اس پر بھی جرمانے کی شق نہیں لگائی جا سکتی۔

پنجم: جس نقصان کا معاوضہ لینا جائز ہے وہ ایسا نقصان ہے جس میں حقیقی مالی نقصان ہو چاہے نقصان یقینی طور پر ملنے والے نفع نہ ملنے کی صورت میں ہو۔ لیکن اس میں معنوی اور غیر حقیقی نقصانات کا معاوضہ شامل نہیں ہے۔

ششم: جرمانے کی شق پر اس وقت عمل نہیں کیا جائے گا جب یہ بات واضح ہو جائے کہ متعلقہ شخص کی طرف سے پیدا ہونے والا نقصان غیر ارادی اور اس کے اختیارات سے باہر تھا، یا یہ معلوم ہو جائے کہ معاہدے میں خلل کے باوجود دوسرے فریق کو نقصان نہیں ہوا۔

ہفتم: عدالت طرفین میں سے کسی کی طرف سے درخواست آنے پر معاوضے کی مقدار میں کمی بیشی کر سکتی ہے، بشرطیکہ کا اس کا کوئی ٹھوس جواز موجود ہو، یا مقدار میں بہت زیادہ مبالغہ کیا گیا ہو۔" ختم شد
وزارت اوقاف قطر کی جانب سے طبع شدہ: "قرارات المجمع" (ص371)

یہی موقف مملکت سعودی عرب کی سپریم علماء کونسل کی جانب سے بیان کیا گیا ہے، چنانچہ مجلة البحوث الإسلامية (2/143) میں جرمانے کی شق پر پیش کی جانے والی تحقیقات پر مناقشہ کرنے کے بعد انہوں نے کہا:
"کونسل بالاجماع یہ قرار داد جاری کرتی ہے کہ: معاہدوں میں لگائی جانے والی جرمانے کی شق صحیح اور معتبر ہے ان پر عمل کرنا لازم ہو گا، بشرطیکہ جس وجہ سے جرمانہ لاگو ہو رہا ہے اس کے لیے کوئی معتبر شرعی عذر ہو، چنانچہ معتبر شرعی عذر کی بنا پر جب تک عذر قائم ہو گا جرمانہ نہیں لگے گا۔ اور اگر جرمانہ عرف کے مطابق بہت زیادہ ہو کہ اس کی ادائیگی سے مالی عدم استحکام کا خدشہ ہو ، نیز شرعی قواعد کی روشنی سے دور ہو تو اس کی درستگی کے لیے عدالت سے رجوع کیا جائے اور جرمانے کی مقدار نقصان کی تلافی کے برابر کی جائے یا یقینی منافع جو کہ نہیں حاصل ہو سکا اس کے برابر کی جائے۔ زرِ تلافی یا جرمانے کے لیے تجربہ کار لوگوں کے ہمراہ شرعی قاضی سے رجوع اللہ تعالی کے فرمان کی تعمیل میں کیا جائے، فرمانِ باری تعالی ہے:
وَإِذَا حَكَمْتُم بَيْنَ النَّاسِ أَن تَحْكُمُوا بِالْعَدْلِ یعنی: جب تم لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو عدل پر مبنی فیصلہ کرو۔
اسی طرح اللہ تعالی کا یہ بھی فرمان ہے: وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ عَلَى أَلَّا تَعْدِلُوا اعْدِلُوا هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَى یعنی: تمہیں کسی بھی قوم کی دشمنی اس بات پر مت ابھارے کہ تم عدل نہ کرو، تم عدل کرو یہ تقوی کے قریب تر ہے۔
اسی طرح حدیث مبارکہ میں آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا فرمان ہے: (اپنے آپ کو نقصان نہ پہنچاؤ، اور نہ ہی دوسروں کو نقصان دو)
اللہ تعالی عمل کی توفیق دے۔ اللہ تعالی ہمارے نبی ، آپ کی آل اور صحابہ کرام پر رحمت و سلامتی نازل فرمائے۔" ختم شد

مندرجہ بالا تفصیلات سے واضح ہوتا ہے کہ:
خریدار آپ پر جرمانے کی شرط لگا سکتا ہے کہ اگر آپ مقررہ اور متفقہ وقت پر مال اس کے سپرد نہیں کرتے تو جرمانہ ادا کرو گے۔ لیکن آپ خریدار پر جرمانے کی شرط نہیں لگا سکتے کہ اگر اس نے بقیہ رقم کی ادائیگی میں تاخیر کی تو وہ جرمانہ دے گا۔ البتہ آپ بیرون ملک جس سے خریداری کرتے ہیں اس پر یہ شرط لگا سکتے ہیں کہ اگر متفقہ معاہدے کی خلاف ورزی ہوئی تو وہ آپ کو جرمانہ ادا کرے۔

واللہ اعلم

ماخذ: الاسلام سوال و جواب