اتوار 16 شعبان 1440 - 21 اپریل 2019
اردو

مالدار خاتون اپنے خاوند کی طرف سے قربانی کرے؟

سوال

سوال: صاحب استطاعت بیوی استطاعت نہ رکھنے والے خاوند کی طرف سے قربانی کر سکتی ہے؟

جواب کا متن

الحمد للہ:

قربانی کرنا  مرد و خواتین دونوں کیلئے یکساں شرعی عمل ہے، چنانچہ جس کے پاس قربانی کرنے کی استطاعت ہو تو اس کیلئے قربانی کرنا اچھا عمل ہے۔

 اگر کوئی خاتون قربانی اپنی اور اپنے اہل خانہ کی طرف سے کرے تو اس میں  خاوند بھی شامل ہوگا۔

شیخ ابن باز رحمہ اللہ سے پوچھا گیا:
"قربانی پورے گھرانے  کی طرف سے ایک ہی ہوگی یا ہر بالغ فرد کی طرف سے الگ الگ ہوگی؟ نیز قربانی ذبح کرنے کا وقت کون سا ہے؟ اور کیا قربانی کیلئے بال اور ناخن قربانی ذبح ہونے سے پہلے نہ کاٹنا شرط ہے؟ ایسے ہی اگر قربانی  حائضہ عورت کی طرف سے ہو تو پھر کیا کرنا ہوگا؟ یہ بھی بتلا دیں کہ قربانی اور صدقہ میں کیا فرق ہے؟"
تو انہوں نے جواب دیا:
"قربانی سنت مؤکدہ ہے، شرعی طور پر مرد و خواتین سب قربانی کر سکتے ہیں ، چنانچہ ایک ہی قربانی سربراہ اور اس کے اہل  خانہ کی طرف سے کافی ہوگی، اور اسی طرح اگر کوئی عورت قربانی کرے تو بھی پورے گھرانے کی طرف سے کافی ہوگی؛ کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہر سال چتکبرے سینگوں والے دو مینڈھے قربان کیا کرتے تھے، ایک اپنی اور اہل خانہ کی طرف سے اور دوسرا اپنی امت میں سے موحد لوگوں کی طرف سے ، قربانی کا وقت ہر سال  یوم النحر [10 ذو الحجہ] اور ایام تشریق [11، 12، اور  13 ذو الحجہ] کے ایام ہیں ،  قربانی کرنے والے کیلئے اپنی قربانی کا گوشت کھانا سنت ہے، اس میں سے اپنے عزیز و اقارب اور رشتہ داروں کو  بھی دے، اس میں سے صدقہ بھی کرے۔

قربانی کا ارادہ رکھنے والے کیلئے ماہ ذو الحجہ کی ابتدا سے قربانی کر لینے تک اپنے بال ، ناخن اور جلد سے کسی بھی چیز کو کاٹنا جائز نہیں ہے؛ کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
(جب ماہ ذو الحجہ شروع ہو جائے اور تم میں سے کوئی قربانی  کا ارادہ رکھتا ہو تو وہ قربانی ذبح کر لینے تک اپنے بال، ناخن، یا جلد کا کوئی حصہ مت کاٹے ) امام مسلم نے اسے اپنی کتاب "صحیح مسلم" میں ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے۔

تاہم قربانی کرنے کیلئے کسی کی طرف سے نمائندگی کرنے والا شخص یا قربانی کرنے والے کسی ادارے پر مامور لوگوں کیلئے ناخن یا بال وغیرہ  نہ کاٹنے کی پابندی نہیں ہے؛ کیونکہ وہ اپنی طرف سے قربانی نہیں کر رہا، بلکہ اپنے موکل کی طرف سے قربانی کر رہا ہے، لہذا قربانی  موکل کی ہے، اس لیے اسی کو قربانی کرنے والا کہا جائے گا، نمائندگی کرنے والے کو  نہیں" انتہی
"مجموع فتاوى ابن باز" (18/38)

اور اگر خاتون  اپنے خاوند کی طرف سے قربانی کرنا چاہے تو خاوند کی اجازت ضروری ہے؛ کیونکہ کسی کی طرف سے عبادات اسی وقت کی جا سکتی ہیں جب اس کی طرف سے اجازت موجود ہو، چاہے عبادت کیلئے نمائندگی کرنے والا مرد ہو یا عورت؛  اس کی وجہ یہ ہے کہ عبادت کیلئے نیت کا ہونا شرط ہے، اور قربانی بھی ایک عبادت ہے۔

واللہ اعلم.

ماخذ: الاسلام سوال و جواب

تاثرات بھیجیں