نماز کی ایک رکعت میں سورۃ الفاتحہ کو دوبارہ پڑھنا شرعاً ثابت نہیں۔ اگر کسی شخص کا سورۃ الفاتحہ پڑھتے وقت دل حاضر نہ ہو، اور بعد میں اُسے یہ بات یاد آئے، تو اُسے چاہیے کہ باقی نماز میں دل جمعی کے ساتھ خشوع اختیار کرے۔ اگر وہ ایسا کرتی رہے تو اُمید ہے کہ رفتہ رفتہ اسے خشوع کی عادت ہو جائے گی، ان شاء اللہ۔
لیکن محض خشوع حاصل کرنے کے لیے سورۃ الفاتحہ کو دہرانا درست نہیں، کیونکہ اس سے وسوسے جنم لیتے ہیں، اور انسان ہر نماز میں بار بار سورۃ الفاتحہ دہرانے لگتا ہے، یہاں تک کہ پوری نماز وسوسوں کا شکار ہو جاتی ہے، اور وسوسہ ایک بیماری اور خرابی ہے جس سے بچنا ضروری ہے۔
کتاب ’’الإنصاف‘‘ (2/99) میں ہے کہ :
’’سورۃ الفاتحہ کو دہرانا مکروہ ہے، یہی معتبر فقہی موقف ہے اور اکثر اہلِ علم کا اتفاق بھی اسی پر ہے، بلکہ بعض نے تو یہ بھی کہا ہے کہ اس سے نماز باطل ہو جاتی ہے۔‘‘
شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’سورۃ الفاتحہ کو دو یا زیادہ بار دہرانا مکروہ ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے ایسا کرنا ثابت نہیں۔ اگر کوئی شخص عبادت کے طور پر سورۃ الفاتحہ کو دہراتا ہے تو یہ بلاشبہ مکروہ ہے، کیونکہ اگر یہ عمل نیکی کا ذریعہ ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ضرور اسے اپناتے۔
البتہ اگر دہرانا عبادت کی نیت سے نہ ہو، بلکہ کسی مسنون وصف کے فوت ہو جانے کی وجہ سے ہو — جیسے کوئی شخص بھول کر جہری نماز میں سورۃ الفاتحہ آہستہ پڑھ دے — تو ایسی صورت میں ظاہر یہی ہوتا ہے کہ دوبارہ پڑھنے میں حرج نہیں، کیونکہ وہ بلند آواز سے پڑھنے کی سنت پوری کرنا چاہتا ہے۔ ایسا امامت کرواتے ہوئے ہو جاتا ہے، کہ سورت الفاتحہ سری پڑھ لیتا ہے ، تو ایسے میں ہم کہیں گے: کوئی بات نہیں یہ شخص دوبارہ بلند آواز سے سورت الفاتحہ پڑھ لے تا کہ جہری قراءت کی سنت بھی پوری ہو جائے۔
اسی طرح اگر کوئی شخص پہلی بار بغیر دل جمعی کے سورۃ الفاتحہ پڑھ لے، اور چاہے کہ پوری توجہ کے ساتھ دوبارہ پڑھے تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں، کیونکہ اس کا مقصد قلبی حضور کے ساتھ تلاوت ہے، اور یہ چیز شرعاً مطلوب ہے۔
البتہ اگر یہ عمل وسوسے پیدا کرنے لگے، تو پھر دوبارہ نہ پڑھے، کیونکہ بعض لوگ ایک بار بھی اگر غفلت میں آیت پڑھ لیں، تو دوبارہ پڑھتے ہیں، پھر دوسری بار بھی غفلت ہو جائے تو تیسری، چوتھی بار پڑھتے ہیں، حتیٰ کہ اتنا سختی کرنے لگتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ بھی ان پر سختی فرما دیتا ہے۔ اور ممکن ہے کہ پہلی بار صرف ایک آیت میں غفلت ہو، اور اگلی بار دو یا تین آیات میں غفلت ہو جائے۔‘‘ ختم شد
’’ الشرح الممتع ‘‘(3/331)
واللہ اعلم