کیا عید والے دن بیویوں کی تقسیم اورباری روکنی جائز ہے

6,062

سوال 12031

کیا خاوند کے لیے جائز ہے کہ وہ عید والے دن تقسیم اورباری ختم کرکے عید دونوں بیویوں کے پاس گزارے ؟

جواب کا متن

ہمہ قسم کی حمد اللہ تعالی کے لیے، اور دورو و سلام ہوں اللہ کے رسول پر، بعد ازاں:

ہم نے یہ سوال فضیلۃ الشیخ محمد بن صالح عثیمین رحمہ اللہ تعالی کے سامنے رکھا توان کا جواب تھا :

جب وہ دونوں اس پر راضي ہوجائيں تواس میں کوئي حرج نہیں ، اوراگر باری والی بیوی نے اپنے باری کورکھنا چاہا تووہ دن اسی کا رہے گا ، لیکن میں عورتوں کومشورہ دونگا کہ وہ اس معاملہ میں نرمی اورتساہل سے کام لیں ۔

اس لیے کہ جوبھی نرمی اختیار کرتا ہے اللہ تعالی اس پر بھی نرمی کرتا ہے ، اورعید والا دن ضروری ہے کہ سب کے لیے اجتماع اورجمع ہونے کا دن ہو تا کہ سب لوگ خوشی اورفرحت حاصل کرسکیں ۔

واللہ تعالی اعلم

حوالہ جات

ایک سے زائد بیویاں اور ان میں عدل

ماخذ

الشيخ محمد بن صالح العثيمين

at email

ایمیل خبرنامہ

اسلام سوال و جواب کی میلنگ لسٹ میں شامل ہوں

phone

اسلام سوال و جواب ایپ

مواد تک فوری رسائی اور آف لائن مطالعہ کے لیے

download iosdownload android