اتوار 15 جمادی اولی 1440 - 20 جنوری 2019
اردو

نماز تراويح ڈيوٹى كے دوران آتى ہوں تو كيا كرنا چاہيے؟

12208

تاریخ اشاعت : 29-08-2009

مشاہدات : 5104

سوال

ميرى ڈيوٹى كا وقت نماز تراويح ختم ہونے سے قبل شروع ہو جاتا ہے جس كى بنا پر مجھے ڈيوٹى پر جانا پڑتا ہے، لہذا مجھے كيا كرنا چاہيے ؟

جواب کا متن

الحمد للہ:

آپ جتنى تراويح باجماعت ادا كر سكتے ہيں وہ امام كے ساتھ ادا كريں اور دو يا چار يا چھ ركعت كے بعد جانے ميں كوئى حرج نہيں، باقى تراويح آپ گھر ميں مكمل كر ليں، اور آخر ميں وتر ادا كرليں.

اور اگر كسى مسجد ميں نماز تروايح جلد ادا كى جاتى ہوں اور آپ امام كے ساتھ نماز تروايح مكمل كر كے ڈيوٹى پر جا سكتے ہوں تو يہ بہتر ہے كيونكہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" جس نے امام كے جانے تك امام كے ساتھ قيام كيا اس كے ليے پورى رات كے قيام كا اجروثواب لكھا جاتا ہے"

سنن ترمذى حديث نمبر ( 806 ) علامہ البانى رحمہ اللہ تعالى نے صحيح ترمذى ميں اسے صحيح قرار ديا ہے.

واللہ اعلم .

ماخذ: الاسلام سوال و جواب

تاثرات بھیجیں