اول:
اس مقصد کو جان لینا جس کے لیے اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کیا ہے؛ ان بہت سے اشکالات اور شبہات کا جواب ہے جنہیں بہت سے ملحدین بار بار پیش کرتے ہیں، اور بعض مسلمان بھی ان سے متاثر ہو جاتے ہیں۔ انہی شبہات میں سے ایک یہ گمان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو اس لیے پیدا کیا ہے کہ بعض کو جنت میں داخل کرے اور بعض کو جہنم میں ڈال دے۔ یہ گمان ہی غلط ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو اس مقصد کے لیے پیدا نہیں کیا اور نہ اس غرض سے انہیں وجود بخشا ہے۔
سائل اور ہر وہ شخص جو حق کو جاننا چاہتا ہے، اسے معلوم ہونا چاہیے کہ انسان کی تخلیق اور آسمانوں اور زمین کی تخلیق کا مقصد یہ ہے کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کو پہچانا جائے، اس کی توحید کو مانا جائے اور اس کی اطاعت کی جائے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
وَمَا خَلَقْتُ الجِنَّ وَالإِنْسَ إِلاَّ لِيَعْبُدُونِ
ترجمہ:’’اور میں نے جنوں اور انسانوں کو صرف اس لیے پیدا کیا ہے کہ وہ صرف میری عبادت کریں۔‘‘ الذاريات: 56
اس آیت کی تفسیر میں ابن کثیر رحمہ اللہ کہتے ہیں:
’’یعنی میں نے انہیں اس لیے پیدا کیا ہے کہ میں انہیں اپنی عبادت کا حکم دوں، نہ کہ اس لیے کہ مجھے ان کی ضرورت ہے۔ اور علی بن ابی طلحہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے کہ: إِلَّا لِيَعْبُدُونِ کا مطلب یہ ہے کہ: ’’وہ میری عبادت کریں چاہے خوشی سے یا مجبوری سے۔‘‘ یہی قول ابن جریر نے بھی اختیار کیا ہے۔‘‘ ختم شد
ماخوذ از: "تفسیر ابن کثیر" (4/239)
اور بہت سے لوگوں کے ہاں اس بات میں خلط پایا جاتا ہے کہ بندوں سے مطلوب غایت کیا ہے؟ اور بندوں کے ذریعے مطلوب غایت کیا ہے؟
بندوں سے مطلوب غایت یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے اس شرعی حکم کو اختیار کریں جسے اللہ تعالیٰ نے پسند فرمایا ہے اور جس کی تعمیل کا انہیں حکم دیا ہے۔
اور بندوں کے ذریعے مطلوب غایت یہ ہے کہ اطاعت کرنے والے کو ثواب دیا جائے اور نافرمان کو سزا دی جائے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی تقدیرِ کونی کا حصہ ہے جسے نہ کوئی رد کر سکتا ہے اور نہ بدل سکتا ہے۔
ابن قیم رحمہ اللہ کہتے ہیں:
’’جہاں تک اس حق کا تعلق ہے جو مخلوقات کی تخلیق کی غایت ہے — یعنی آسمانوں، زمین اور ان کے درمیان جو کچھ ہے سب کی تخلیق کی— تو وہ دو طرح کی غایت ہے: ایک وہ جو بندوں سے مطلوب ہے، اور دوسری وہ جو بندوں کے ذریعے مطلوب ہے۔
جو غایت بندوں سے مطلوب ہے وہ یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کو پہچانیں، اس کی کامل صفات کو جانیں، اسی کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں۔ چنانچہ وہی تنہا ان کا معبود، ان کی عبادت کا مستحق ، ان کے لیے فرمانروا اور ان کا محبوب ہو؛ اس حوالے سے اللہ تعالی کا فرمان ہے:
اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ وَمِنَ الْأَرْضِ مِثْلَهُنَّ يَتَنَزَّلُ الْأَمْرُ بَيْنَهُنَّ لِتَعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ وَأَنَّ اللَّهَ قَدْ أَحَاطَ بِكُلِّ شَيْءٍ عِلْمًا
ترجمہ:’’اللہ وہ ہے جس نے سات آسمان پیدا کیے اور زمین میں بھی ان کی مانند، اس کے درمیان اس کا حکم نازل ہوتا رہتا ہے تاکہ تم جان لو کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے اور یہ کہ اللہ نے ہر چیز کو اپنے علم سے گھیر رکھا ہے۔ ‘‘ الطلاق: 12
تو یہاں اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ اس نے کائنات کو اس لیے پیدا کیا تاکہ اس کے بندے اس کی قدرتِ کاملہ اور اس کے علم کے احاطہ کو پہچانیں، اور یہ بات لازماً اس کی معرفت، اس کے اسماء و صفات کی معرفت اور اس کی وحدانیت کو پہچاننے سے ہی مکمل ہو سکتی ہے۔
اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ
ترجمہ:’’اور میں نے جنوں اور انسانوں کو صرف اس لیے پیدا کیا ہے کہ وہ صرف میری ہی عبادت کریں۔ ‘‘ الذاريات: 56
پس یہ وہ غایت ہے جو بندوں سے مطلوب ہے، یعنی وہ اپنے رب کو پہچانیں اور صرف اسی کی عبادت کریں۔
اور جو غایت بندوں کے ذریعے مطلوب ہے وہ عدل اور فضل کے ساتھ بدلہ دینا ہے، یعنی ثواب اور سزا دینا، اس حوالے سے فرمانِ باری تعالی ہے:
وَلِلَّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ لِيَجْزِيَ الَّذِينَ أَسَاءُوا بِمَا عَمِلُوا وَيَجْزِيَ الَّذِينَ أَحْسَنُوا بِالْحُسْنَى
ترجمہ:’’اور جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے سب اللہ ہی کا ہے، تاکہ وہ ان لوگوں کو ان کے اعمال کے مطابق بدلہ دے جنہوں نے برائی کی، اور جو نیکی کرنے والے ہیں انہیں بہترین بدلہ عطا کرے۔‘‘ النجم: 31
اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
إِنَّ السَّاعَةَ آتِيَةٌ أَكَادُ أُخْفِيهَا لِتُجْزَى كُلُّ نَفْسٍ بِمَا تَسْعَى
ترجمہ:’’بے شک قیامت آنے والی ہے، میں اسے قریب ہے کہ مخفی رکھوں تاکہ ہر نفس کو اس کی کوشش کے مطابق بدلہ دیا جائے۔ ‘‘ طہ: 15
ایک اور مقام پر فرمایا:
لِيُبَيِّنَ لَهُمُ الَّذِي يَخْتَلِفُونَ فِيهِ وَلِيَعْلَمَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنَّهُمْ كَانُوا كَاذِبِينَ
ترجمہ:’’تاکہ اللہ ان کے سامنے وہ بات واضح کر دے جس میں وہ اختلاف کرتے تھے، اور تاکہ کافر جان لیں کہ وہ جھوٹے تھے۔ ‘‘ النحل: 39
اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
إِنَّ رَبَّكُمُ اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوَى عَلَى الْعَرْشِ يُدَبِّرُ الْأَمْرَ مَا مِنْ شَفِيعٍ إِلَّا مِنْ بَعْدِ إِذْنِهِ ذَلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوهُ أَفَلَا تَذَكَّرُونَ * إِلَيْهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِيعًا وَعْدَ اللَّهِ حَقًّا إِنَّهُ يَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ لِيَجْزِيَ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ بِالْقِسْطِ وَالَّذِينَ كَفَرُوا لَهُمْ شَرَابٌ مِنْ حَمِيمٍ وَعَذَابٌ أَلِيمٌ بِمَا كَانُوا يَكْفُرُونَ
ترجمہ:’’بے شک تمہارا رب اللہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا، پھر عرش پر بلند ہوا، وہی تمام معاملات کا انتظام کرتا ہے، اس کی اجازت کے بغیر کوئی سفارش کرنے والا نہیں۔ یہی اللہ تمہارا رب ہے، پس اسی کی عبادت کرو، کیا تم نصیحت حاصل نہیں کرتے؟ اسی کی طرف تم سب کو لوٹ کر جانا ہے۔ اللہ کا وعدہ بر حق ہے۔ بے شک وہی پہلی بار پیدا کرتا ہے، پھر دوبارہ پیدا کرے گا تاکہ جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے انہیں انصاف کے ساتھ بدلہ دے، اور جنہوں نے کفر کیا ان کے لیے کھولتا ہوا پانی اور درد ناک عذاب ہے اس کفر کی وجہ سے جو وہ کرتے تھے۔ ‘‘ يونس: 3-4
ماخوذ از: ’’بدائع الفوائد‘‘ (4/971)
انسان کی تخلیق کی حکمت کو مزید سمجھنے کے لیے سوال نمبر (129343) کا جواب بھی ملاحظہ کیا جائے۔
دوم:
اللہ تعالیٰ لوگوں کو محض اس بنا پر جنت یا جہنم میں داخل نہیں کرے گا کہ اللہ تعالیٰ کو پہلے سے معلوم ہے کہ وہ اس کے مستحق ہیں؛ بلکہ اللہ تعالیٰ انہیں جنت یا جہنم میں ان کے ان اعمال کے بدلے داخل کرے گا جو انہوں نے دنیا میں حقیقتاً انجام دیے ہوں گے۔
اگر اللہ تعالیٰ مخلوق کو پیدا کرتا اور انہیں بغیر آزمائش کے جہنم میں داخل کر دیتا تو قریب تھا کہ وہ اللہ کے سامنے یہ حجت پیش کرتے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں آزمایا ہی نہیں اور ہمیں عمل کرنے کا موقع ہی نہیں دیا۔ اس حجت کو باطل کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے انہیں دنیا میں پیدا کیا، انہیں عقلیں عطا کیں، اپنی کتابیں نازل کیں اور اپنے رسول بھیجے؛ تاکہ قیامت کے دن ان لوگوں کے پاس اللہ کے مقابلے میں کوئی حجت باقی نہ رہے۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
رُسُلًا مُبَشِّرِينَ وَمُنْذِرِينَ لِئَلَّا يَكُونَ لِلنَّاسِ عَلَى اللَّهِ حُجَّةٌ بَعْدَ الرُّسُلِ وَكَانَ اللَّهُ عَزِيزًا حَكِيمًا
ترجمہ:’’ہم نے رسول بھیجے جو خوشخبری دینے والے اور ڈرانے والے تھے، تاکہ رسولوں کے بعد لوگوں کے لیے اللہ کے مقابلے میں کوئی حجت باقی نہ رہے، اور اللہ غالب اور حکمت والا ہے۔‘‘ النساء: 165
الشیخ محمد امین شنقیطی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
’’اس مبارک آیت میں صراحت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے کہ ہر شخص کی حجت کو ختم کرنے کے لیے رسولوں کا بھیجنا ضروری ہے، جو اطاعت کرنے والوں کو جنت کی خوشخبری دیتے ہیں اور نافرمانوں کو جہنم سے ڈراتے ہیں۔
اس حجت کو، جس کے ختم کرنے کا ذکر یہاں رسولوں کو خوشخبری دینے والے اور ڈرانے والے بنا کر بھیجنے کے ذریعے کیا گیا ہے، اللہ تعالیٰ نے سورۃ طہ کے آخر میں اس طرح بیان فرمائی ہے:
وَلَوْ أَنَّا أَهْلَكْنَاهُمْ بِعَذَابٍ مِن قَبْلِهِ لَقَالُوا رَبَّنَا لَوْلَا أَرْسَلْتَ إِلَيْنَا رَسُولًا فَنَتَّبِعَ آيَاتِكَ مِن قَبْلِ أَن نَّذِلَّ وَنَخْزَى
ترجمہ:’’اور اگر ہم انہیں اس (رسول کے بھیجنے) سے پہلے کسی عذاب کے ذریعے ہلاک کر دیتے تو وہ ضرور کہتے: اے ہمارے رب! تو نے ہماری طرف کوئی رسول کیوں نہ بھیجا کہ ہم تیری آیات کی پیروی کرتے، اس سے پہلے کہ ہم ذلیل اور رسوا ہوتے۔‘‘ (سورۃ طہ: 134)
اور اس کی طرف سورۃ القصص میں اس فرمان کے ذریعے اشارہ کیا ہے:
وَلَوْلَا أَن تُصِيبَهُم مُّصِيبَةٌ بِمَا قَدَّمَتْ أَيْدِيهِمْ فَيَقُولُوا رَبَّنَا لَوْلَا أَرْسَلْتَ إِلَيْنَا رَسُولًا فَنَتَّبِعَ آيَاتِكَ وَنَكُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ
ترجمہ:’’اور اگر یہ نہ ہوتا کہ انہیں ان کے اپنے ہاتھوں کے آگے بھیجے ہوئے اعمال کے سبب کوئی مصیبت پہنچتی، پھر وہ کہتے: اے ہمارے رب! تو نے ہماری طرف کوئی رسول کیوں نہ بھیجا کہ ہم تیری آیات کی پیروی کرتے اور ایمان لانے والوں میں سے ہو جاتے۔‘‘ (سورۃ القصص: 47)
اسی طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
ذَلِكَ أَن لَّمْ يَكُنْ رَبُّكَ مُهْلِكَ الْقُرَى بِظُلْمٍ وَأَهْلُهَا غَافِلُونَ
ترجمہ:’’یہ اس لیے کہ آپ کا رب بستیوں کو اس حال میں ظلم کر کے ہلاک کرنے والا نہیں کہ ان کے رہنے والے غافل ہوں۔‘‘ (سورۃ الأنعام: 131)
اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
يَا أَهْلَ الْكِتَابِ قَدْ جَاءَكُمْ رَسُولُنَا يُبَيِّنُ لَكُمْ عَلَى فَتْرَةٍ مِنَ الرُّسُلِ أَن تَقُولُوا مَا جَاءَنَا مِن بَشِيرٍ وَلَا نَذِيرٍ فَقَدْ جَاءَكُم بَشِيرٌ وَنَذِيرٌ
ترجمہ:’’اے اہلِ کتاب! تمہارے پاس ہمارا رسول آ گیا ہے، جو تمہارے لیے (دین کو) واضح کر رہا ہے، رسولوں کے ایک وقفے کے بعد، تاکہ تم یہ نہ کہو کہ ہمارے پاس کوئی خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا نہیں آیا؛ پس یقینا تمہارے پاس خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا آ چکا ہے۔‘‘ (سورۃ المائدہ: 19)
اور اسی طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
وَهَذَا كِتَابٌ أَنزَلْنَاهُ مُبَارَكٌ فَاتَّبِعُوهُ وَاتَّقُوا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ أَن تَقُولُوا إِنَّمَا أُنزِلَ الْكِتَابُ عَلَى طَائِفَتَيْنِ مِن قَبْلِنَا وَإِن كُنَّا عَن دِرَاسَتِهِمْ لَغَافِلِينَ أَوْ تَقُولُوا لَوْ أَنَّا أُنزِلَ عَلَيْنَا الْكِتَابُ لَكُنَّا أَهْدَى مِنْهُمْ فَقَدْ جَاءَكُم بَيِّنَةٌ مِّن رَّبِّكُمْ وَهُدًى وَرَحْمَةٌ
ترجمہ:’’اور یہ ایک بابرکت کتاب ہے جسے ہم نے نازل کیا ہے، پس اس کی پیروی کرو اور تقویٰ اختیار کرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔ (یہ اس لیے کہ) تم یہ نہ کہو کہ کتاب تو ہم سے پہلے صرف دو گروہوں پر نازل کی گئی تھی اور ہم تو ان کے پڑھنے پڑھانے سے بے خبر تھے، یا یہ کہو کہ اگر ہم پر کتاب نازل کی جاتی تو ہم ان سے زیادہ ہدایت یافتہ ہوتے؛ سو یقیناً تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے ایک روشن دلیل، ہدایت اور رحمت آ چکی ہے۔‘‘ (سورۃ الأنعام: 155-157) اور اس طرح کی بہت سی آیات ہیں۔
ان آیات اور ان جیسی دیگر آیات سے جو بات واضح ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی کو بھی اس وقت تک عذاب نہیں دیتا جب تک رسولوں کی زبان سے اسے خبردار نہ کروا دیا جائے اور اس پر حجت قائم نہ کر دی جائے۔ اس بات کی تصریح اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی بہت سی آیات میں فرمائی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کسی کو بھی جہنم میں داخل کیا تو اس سے پہلے رسولوں کے ذریعے اس پر حجت قائم کروائی گئی ہے۔
اس بات کی تائید میں اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے:
كُلَّمَا أُلْقِيَ فِيهَا فَوْجٌ سَأَلَهُمْ خَزَنَتُهَا أَلَمْ يَأْتِكُمْ نَذِيرٌ قَالُوا بَلَى قَدْ جَاءَنَا نَذِيرٌ فَكَذَّبْنَا وَقُلْنَا مَا نَزَّلَ اللَّهُ مِن شَيْءٍ
ترجمہ: ’’جب بھی اس میں کوئی گروہ ڈالا جائے گا تو اس کے داروغے ان سے پوچھیں گے: کیا تمہارے پاس کوئی ڈرانے والا نہیں آیا تھا؟ وہ کہیں گے: کیوں نہیں! ہمارے پاس یقیناً ڈرانے والا آیا تھا، مگر ہم نے اسے جھٹلایا اور کہا کہ اللہ تعالیٰ نے کچھ بھی نازل نہیں کیا۔‘‘ (سورۃ الملک: 8-9)
اور یہ معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فرمان: كُلَّمَا أُلْقِيَ فِيهَا فَوْجٌ میں جہنم کے اندر ڈالے جانے والے تمام گروہ شامل ہیں۔
چنانچہ علامہ ابو حیان ’’البحر المحيط‘‘ میں اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’لفظ (كُلَّمَا) جہنم میں ڈالے جانے کے تمام اوقات کو شامل ہے، لہٰذا یہ وہاں ڈالے جانے والے تمام لوگوں کو شامل ہے۔‘‘
اسی طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
وَسِيقَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِلَى جَهَنَّمَ زُمَرًا حَتَّى إِذَا جَاؤُوهَا فُتِحَتْ أَبْوَابُهَا وَقَالَ لَهُمْ خَزَنَتُهَا أَلَمْ يَأْتِكُمْ رُسُلٌ مِنكُمْ يَتْلُونَ عَلَيْكُمْ آيَاتِ رَبِّكُمْ وَيُنذِرُونَكُمْ لِقَاءَ يَوْمِكُمْ هَذَا قَالُوا بَلَى وَلَكِنْ حَقَّتْ كَلِمَةُ الْعَذَابِ عَلَى الْكَافِرِينَ
ترجمہ:’’اور جن لوگوں نے کفر کیا انہیں گروہ در گروہ جہنم کی طرف ہانکا جائے گا، یہاں تک کہ جب وہ اس کے پاس پہنچ جائیں گے تو اس کے دروازے کھول دیے جائیں گے، اور اس کے داروغے ان سے کہیں گے: کیا تمہارے پاس تم ہی میں سے رسول نہیں آئے تھے جو تم پر تمہارے رب کی آیات تلاوت کرتے اور تمہیں تمہارے اس دن کی ملاقات سے ڈراتے ؟ وہ کہیں گے: کیوں نہیں! (آئے تھے) لیکن کافروں پر عذاب کی بات ثابت ہو کر رہی۔‘‘ (سورۃ الزمر: 71)
تو اس آیت میں اللہ تعالیٰ کا فرمان: وَسِيقَ الَّذِينَ كَفَرُوا تمام کافروں کو شامل ہے۔۔۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ کا فرمان: وَسِيقَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِلَى جَهَنَّمَ زُمَرًا سے لے کر قَالُوا بَلَى تک تمام کافروں کے بارے میں عام ہے، اور یہ اس بات پر واضح دلالت کرتا ہے کہ جہنم میں جانے والے تمام لوگوں کو دنیا میں رسولوں کے ذریعے خبردار کیا گیا تھا، مگر انہوں نے اپنے رب کے حکم کی نافرمانی کی، جیسا کہ یہ بات بالکل واضح ہے۔ ‘‘ ختم شد
ماخوذ از: ’’أضواء البيان‘‘ (3/66-67)
ہمارے نزدیک جب انسان یہ جان لے کہ اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو کس مقصد کے لیے پیدا کیا ہے، اور انسان یہ بھی جان لے کہ اللہ تعالیٰ کسی کو اپنے سابق علم کی بنا پر عذاب نہیں دیتا بلکہ دنیا میں کیے گئے اعمال کے بدلے میں سزا یا جزا دیتا ہے، اور اس طرح بندوں کی حجت بھی ختم ہو جاتی ہے، تو اس سے سوال میں مذکور اشکال کا جواب واضح ہو جاتا ہے۔
سوم:
جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ ابلیس کو آدم اور اس کی اولاد کے ساتھ زمین پر کیوں اتارا گیا، تو آدم کے زمین پر آنے اور ابلیس کے زمین پر آنے میں فرق ہے۔
چنانچہ آدم علیہ السلام زمین پر اتارے گئے، حالانکہ انہوں نے اپنے رب اللہ تعالیٰ کے حضور توبہ کر لی تھی۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرمائی، انہیں ہدایت عطا کی، اور انہیں دنیا میں اتارا، اس حال میں کہ وہ معزز نبی تھے، ان کی خطا معاف ہو چکی تھی، اور وہ دنیا میں اس وقت تک رہنے والے تھے جب تک وہ مدت پوری نہ ہو جائے جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے مقرر فرمائی تھی۔
لیکن اللہ کا دشمن ابلیس، اس نے سرے سے توبہ ہی نہیں کی۔ نہ اپنے گناہ پر نادم ہوا، نہ رجوع کیا، نہ توبہ کی امید رکھی اور نہ اس کی طرف کوئی راستہ اختیار کیا۔ بلکہ اس نے ضد کی، تکبر کیا، سرکشی کی اور کفر اختیار کیا۔ اس نے اللہ تعالیٰ سے یہ درخواست کی کہ اسے فوراً ہلاک اور عذاب میں مبتلا نہ کیا جائے بلکہ اسے مقررہ وقت تک مہلت دی جائے۔
اس نے یہ مہلت اس لیے نہیں مانگی تھی کہ وہ توبہ کا موقع حاصل کرے اور اللہ کی طرف رجوع کر سکے، بلکہ اس لیے کہ وہ بدبختی کے راستے کو مکمل کرے اور گمراہی اختیار کرنے والوں کو اپنے ساتھ ہلاکت کے گھر کی طرف لے جائے۔
لہٰذا وہ اپنے گروہ کا پیشوا بن کر زمین پر اترا، یعنی شیطان کے اس گروہ کا جو خسارہ اٹھانے والا ہے، تاکہ اللہ تعالیٰ کی حکمت اپنی مخلوق کے بارے میں پوری ہو جائے اور انہیں آزمائے کہ وہ اللہ کی اطاعت کرتے ہیں یا اس کے دشمن کی اطاعت کرتے ہیں۔ اور تاکہ اس ملعون دشمن پر بدبختی مکمل ہو جائے، اس کی ضد اور فساد کی وجہ سے، اور وہ اپنے رب کی طرف سے کھلے خسارے کا مستحق بن جائے۔
واللہ اعلم