واجبات میں کوتاہی کا خوف سائل کو اللہ سے ملاقات کی محبت میں تردد میں ڈال رہا ہے

سوال 125618

میں جانتا ہوں کہ عقلمند لوگ وہ ہیں جو ہمیشہ اپنے آپ کو موت کی یاد دلاتے رہتے ہیں، اور میں اپنے رب سے ملاقات کو پسند کرتا ہوں، لیکن واجبات میں اپنی کوتاہی کے خوف کی وجہ سے اس ملاقات کی محبت کے بارے میں میرے دل میں تردد پیدا ہو جاتا ہے، لہٰذا میں آپ سے اس بارے میں نصیحت کی درخواست کرتا ہوں۔

جواب کا متن

ہمہ قسم کی حمد اللہ تعالی کے لیے، اور دورو و سلام ہوں اللہ کے رسول پر، بعد ازاں:

اس معاملے میں ہماری آپ کے لیے نصیحت یہ ہے کہ آپ دو قسم کے خوف کے درمیان فرق کریں:

1- اللہ تعالیٰ کا وہ خوف جو انسان کو اپنے تمام اعمال میں تقویٰ اختیار کرنے پر آمادہ کرے، یعنی انسان نیکیوں کی پابندی کرے، حرام چیزوں سے بچے، نوافل عبادات کثرت سے کرے اور مخلوق کے ساتھ حسنِ سلوک کرے۔ یہ قابلِ تعریف خوف ہے اور ان شاء اللہ اس پر اجر بھی ملتا ہے۔

2- اللہ تعالیٰ سے ملاقات کا وہ خوف جو اللہ تعالی کی رحمت سے مایوسی اور اس کے عذاب سے ڈر کی صورت میں ہو، نیز اس خوف کا انسان کے اخلاق اور اعمال پر کوئی واضح اثر بھی ظاہر نہ ہو تو یہ مذموم خوف ہے، اس سے کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوتا، بلکہ یہ شیطان کی وسوسہ اندازی میں سے ہے جو اللہ کے بندوں کو اس کی رحمت سے مایوس کرتا ہے۔

لہذا محترم بھائی! غور کریں کہ آپ اللہ کے کس خوف میں مبتلا ہیں؟

اگرچہ مسلمان کو ہمیشہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہنے اور اس کے عذاب سے خوف رکھنے کا حکم دیا گیا ہے، لیکن اسی کے ساتھ اسے یہ بھی حکم دیا گیا ہے کہ اپنے دل میں اللہ تعالیٰ سے امید اور اس کے عفو و احسان کی بڑی گنجائش بھی باقی رکھے۔ ایسی امید جو انسان کو اللہ کی رحمت کی رغبت دلائے، لیکن یہی امید اسے نیک عمل سے سستی یا حرام کاموں میں پڑنے کا سبب نہ بننے دے۔ یہ نہایت باریک کیفیات ہیں جنہیں ہر مسلمان کے لیے سیکھنا اور انہی کے مطابق اللہ تعالیٰ کے ساتھ چلنا ضروری ہے۔

چنانچہ سیدنا جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو اپنی وفات سے تین دن پہلے یہ فرماتے ہوئے سنا: (تم میں سے کسی شخص کو موت آئے تو صرف اسی حالت میں کہ وہ اللہ تعالی کے بارے میں حسن ظن رکھتا ہو۔‘‘(صحیح مسلم، حدیث: 2877)

اور اللہ تعالیٰ کی رحمت ہر چیز سے وسیع ہے، اور وہ ہم پر ہماری ماؤں اور باپوں سے بھی زیادہ مہربان ہے۔ اسی لیے امام سفیان ثوری رحمہ اللہ کہتے ہیں:
’’مجھے یہ پسند نہیں کہ میرا حساب میرے والد کے سپرد کر دیا جائے؛ کیونکہ میرا رب میرے لیے میرے والد سے بھی بہتر ہے۔‘‘ ختم شد

امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’علمائے کرام کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں حسنِ ظن کا معنی یہ ہے کہ بندہ یہ گمان رکھے کہ اللہ تعالیٰ اس پر رحم فرمائے گا اور اسے معاف کر دے گا۔ علمائے کرام کا کہنا ہے کہ : صحت کی حالت میں انسان کو خوف اور امید دونوں کیفیتوں کے ساتھ ہونا چاہیے اور دونوں برابر ہوں، اور ایک قول یہ ہے کہ خوف غالب ہونا چاہیے۔ لیکن جب موت کی نشانیاں قریب ہو جائیں تو امید کو غالب کر دینا چاہیے یا صرف امید ہی ہونی چاہیے؛ کیونکہ خوف کا مقصد گناہوں اور برے کاموں سے رک جانا اور اطاعت و نیکی کے کاموں کی کثرت پر آمادہ ہونا ہے، جبکہ اس حالت میں یہ مقصد یا اس کا زیادہ حصول ممکن ہی نہیں رہتا۔ اس لیے حسنِ ظن کو مستحب قرار دیا گیا ہے، جس میں اللہ تعالیٰ کے سامنے محتاجی اور اس کے آگے جھکنا بھی شامل ہے۔ اس کی تائید اس حدیث سے بھی ہوتی ہے جو اس کے بعد مذکور ہے: (ہر بندہ اسی حالت پر اٹھایا جائے گا جس حالت پر وہ مرا ہو گا)۔ اسی لیے امام مسلم نے پہلی حدیث کے بعد یہ حدیث ذکر کی ہے۔ اسی لیے علمائے کرام کہتے ہیں کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ بندہ اسی حالت پر اٹھایا جائے گا جس حالت پر اس کی موت واقع ہوئی ہو گی۔ اسی طرح دوسری حدیث بھی ہے: (پھر لوگوں کو ان کی نیتوں پر اٹھایا جائے گا)۔‘‘ ختم شد
ماخوذ از: ’’شرح مسلم‘‘ (17/210)

امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی کتاب صحیح بخاری میں ایک باب قائم کیا ہے جس کا عنوان ہے: "باب ہے خوف کے ساتھ امید رکھنے کے بارے میں۔"

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ اس کی شرح کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

’’امام بخاری رحمہ اللہ کا کہنا کہ : ’’ باب ہے خوف کے ساتھ امید رکھنے کے بارے میں ‘‘یعنی اس بات کے استحباب کا بیان کہ امید کے ساتھ خوف بھی ہو۔ اس لیے امید کو خوف سے الگ نہیں کرنا چاہیے اور نہ خوف کو امید سے جدا کرنا چاہیے؛ کیونکہ اگر امید کو خوف سے بالکل الگ کر دیا جائے تو یہ اللہ کی پکڑ سے بے خوفی تک لے جاتی ہے، اور اگر خوف کو امید سے الگ کر دیا جائے تو یہ ناامیدی تک پہنچا دیتا ہے، اور یہ دونوں چیزیں مذموم ہیں۔

امید کا مقصد یہ ہے کہ جس شخص سے کوئی کوتاہی سرزد ہو جائے وہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں اچھا گمان رکھے اور امید کرے کہ اللہ اس کے گناہ کو مٹا دے گا۔ اسی طرح جس شخص سے کوئی نیکی سر زد ہو وہ اس کے قبول ہونے کی امید رکھے۔ لیکن جو شخص گناہوں میں ڈوبا ہوا ہو اور اس کے باوجود بغیر ندامت اور بغیر گناہ چھوڑے یہ امید رکھے کہ اس سے مواخذہ نہیں ہو گا، تو یہ محض دھوکا ہے۔

ابو عثمان الجیزی کا یہ قول بہت خوب ہے:
’’خوش بختی کی نشانی یہ ہے کہ آدمی اطاعت کرے اور پھر بھی ڈرتا رہے کہ شاید قبول نہ ہو۔ اور بدبختی کی نشانی یہ ہے کہ آدمی گناہ کرے اور پھر بھی بچ جانے کی امید رکھے۔‘‘

ابن ماجہ نے عبدالرحمن بن سعید بن وہب کے طریق سے ان کے والد کے واسطے سے عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے عرض کیا : ’’اے اللہ کے رسول! (جو لوگ دیتے ہیں جو کچھ دیتے ہیں اور ان کے دل ڈر رہے ہوتے ہیں) کیا اس سے مراد وہ شخص ہے جو چوری کرتا ہے اور زنا کرتا ہے؟‘‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ’’نہیں، بلکہ اس سے مراد وہ شخص ہے جو روزہ رکھتا ہے، صدقہ کرتا ہے اور نماز پڑھتا ہے، اور پھر بھی ڈرتا ہے کہ کہیں اس سے یہ نیکیاں مسترد نہ ہو جائیں ۔‘‘

یہ تمام باتیں صحت کی حالت میں مستحب ہونے پر اہل علم کے نزدیک متفق علیہ ہیں۔ بعض علماء نے کہا ہے کہ صحت کی حالت میں خوف زیادہ ہونا چاہیے اور بیماری میں اس کے برعکس۔ لیکن جب موت قریب آ جائے تو بعض اہل علم نے صرف امید کو غالب رکھنے کو مستحب قرار دیا ہے؛ کیونکہ اس میں اللہ تعالیٰ کے سامنے محتاجی اور عاجزی کا اظہار ہوتا ہے، اور اس وقت خوف کا مقصد — یعنی گناہوں سے رکنا — عملاً ممکن نہیں رہتا۔ لہٰذا ایسے وقت میں اللہ تعالیٰ کے بارے میں اچھا گمان رکھنا چاہیے اور اس کے عفو و مغفرت کی امید رکھنی چاہیے۔ اس کی تائید اس حدیث سے بھی ہوتی ہے کہ:
’’تم میں سے کوئی شخص اس حال میں نہ مرے کہ وہ اللہ کے بارے میں اچھا گمان نہ رکھتا ہو۔‘‘

اور بعض دیگر علماء نے کہا ہے کہ خوف کے پہلو کو یکسر ترک نہ کیا جائے، یہاں تک کہ آدمی یہ یقین نہ کر لے کہ وہ بالکل محفوظ ہے۔

اس کی تائید اس روایت سے بھی ہوتی ہے جسے ترمذی نے انس رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم ایک نوجوان کے پاس تشریف لائے جب وہ موت کے قریب تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے اس سے پوچھا:
’’تم اپنے دل کو کیسا پاتے ہو؟‘‘
اس نے عرض کیا: ’’میں اللہ سے امید رکھتا ہوں اور اپنے گناہوں سے ڈرتا ہوں۔‘‘
تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:
’’اس مقام پر جس بندے کے دل میں یہ دونوں چیزیں جمع ہو جائیں، اللہ اسے وہ عطا فرما دیتا ہے جس کی وہ امید رکھتا ہے اور اسے اس چیز سے امن دے دیتا ہے جس سے وہ ڈرتا ہے۔‘‘

ممکن ہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنے باب کے عنوان میں اسی کی طرف اشارہ کیا ہو، لیکن چونکہ یہ روایت ان کی شرط کے مطابق نہیں تھی، اس لیے انہوں نے ایسی روایت ذکر کی جس سے یہی مفہوم اخذ ہو جاتا ہے، اگرچہ وہ مقصد کو صراحت کے ساتھ بیان کرنے میں اس کے برابر نہیں۔‘‘ ختم شد

ماخوذ از: فتح الباری: (11/301)

ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

’’حسنِ ظن اور دھوکے کے درمیان فرق واضح ہو چکا ہے۔ حسنِ ظن اگر انسان کو عمل پر آمادہ کرے، اس کی ترغیب دے، اس کی مدد کرے اور اسے اس کی طرف لے جائے تو یہ درست ہے۔ لیکن اگر وہ انسان کو سستی اور گناہوں میں ڈوبے رہنے کی طرف لے جائے تو یہ محض دھوکا ہے۔

حسنِ ظن دراصل امید ہی ہے۔ پس جس کی امید اسے اطاعت کی طرف کھینچے اور گناہ سے روکے تو یہ صحیح امید ہے۔ اور جو اپنی سستی کو امید کا نام دے، اور اس کی امید دراصل سستی اور کوتاہی ہو تو وہ دھوکے میں مبتلا ہے۔‘‘ ختم شد
ماخوذ از: الجواب الكافي، ص 24۔

اور شیخ عبد العزیز بن باز رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا:

کیا مؤمن کے لیے یہ لازم ہے کہ وہ موت سے نہ ڈرے؟ اور اگر ایسا ہو تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اللہ سے ملاقات کا خواہش مند نہیں؟

انہوں نے جواب دیا:

’’مؤمن مرد اور مؤمن عورت دونوں پر لازم ہے کہ وہ اللہ سبحانہ سے ڈریں اور اسی سے امید بھی رکھیں؛ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی عظیم کتاب میں فرمایا ہے:

فَلَا تَخَافُوهُمْ وَخَافُونِ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ
ترجمہ:’’پس تم ان سے نہ ڈرو بلکہ مجھ سے ڈرو اگر تم مؤمن ہو۔‘‘ آل عمران: 175

اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
فَلَا تَخْشَوُا النَّاسَ وَاخْشَوْنِ
ترجمہ:’’لہٰذا لوگوں سے نہ ڈرو بلکہ مجھ سے ڈرو۔‘‘ المائدہ: 44

اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
وَإِيَّايَ فَارْهَبُونِ
ترجمہ:’’اور صرف مجھ ہی سے ڈرو۔‘‘ البقرہ: 40

اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هَاجَرُوا وَجَاهَدُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أُولَئِكَ يَرْجُونَ رَحْمَتَ اللَّهِ
ترجمہ:’’بلاشبہ جو لوگ ایمان لائے، اور جنہوں نے ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں جہاد کیا، یہی لوگ اللہ کی رحمت کی امید رکھتے ہیں۔‘‘ البقرہ: 218

اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
فَمَنْ كَانَ يَرْجُوا لِقَاءَ رَبِّهِ فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَلَا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهِ أَحَدًا
ترجمہ:’’پس جو اپنے رب سے ملاقات کی امید رکھتا ہے اسے چاہیے کہ نیک عمل کرے اور اپنے رب کی عبادت میں کسی کو شریک نہ کرے۔‘‘ الکہف: 110

اس مضمون کی بہت سی آیات ہیں۔

مؤمن مرد اور مؤمن عورت کے لیے نہ تو اللہ کی رحمت سے مایوس ہونا جائز ہے اور نہ اس کی گرفت سے بے خوف ہونا۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ
ترجمہ:’’کہہ دیجیے: اے میرے وہ بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے! اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو، یقیناً اللہ تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے، بے شک وہی بہت بخشنے والا نہایت رحم کرنے والا ہے۔‘‘ الزمر: 53

اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
وَلَا تَيْأَسُوا مِنْ رَوْحِ اللَّهِ إِنَّهُ لَا يَيْئَسُ مِنْ رَوْحِ اللَّهِ إِلَّا الْقَوْمُ الْكَافِرُونَ
ترجمہ:’’اور اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو، بے شک اللہ کی رحمت سے تو صرف کافر ہی ناامید ہوتے ہیں۔‘‘ یوسف: 87

اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
أَفَأَمِنُوا مَكْرَ اللَّهِ فَلَا يَأْمَنُ مَكْرَ اللَّهِ إِلَّا الْقَوْمُ الْخَاسِرُونَ
ترجمہ:’’کیا وہ اللہ کی تدبیر سے بے خوف ہو گئے ہیں؟ حالانکہ اللہ کی تدبیر سے وہی لوگ بے خوف ہوتے ہیں جو خسارہ اٹھانے والے ہیں۔‘‘ الأعراف: 99

مذکورہ آیات پر عمل کرنے کے لیے تمام مسلمان مردوں اور عورتوں پر لازم ہے کہ وہ موت کی تیاری کریں اور اس سے غفلت برتنے سے بچیں۔ اور اس لیے بھی کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ’’لذتوں کو ختم کر دینے والی چیز کو کثرت سے یاد کیا کرو‘‘ یعنی موت کو۔

نیز اس لیے کہ موت سے غفلت اور اس کے لیے تیاری نہ کرنا بُرے انجام کے اسباب میں سے ہے۔ اور عائشہ رضی اللہ عنہا سے ثابت ہے کہ انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ’’جو شخص اللہ سے ملاقات کو پسند کرتا ہے اللہ بھی اس سے ملاقات کو پسند کرتا ہے، اور جو شخص اللہ سے ملاقات کو ناپسند کرتا ہے اللہ بھی اس سے ملاقات کو ناپسند کرتا ہے۔‘‘ میں نے عرض کیا: ’’اے اللہ کے نبی! کیا اس سے مراد موت کو ناپسند کرنا ہے؟ کیونکہ ہم سب موت کو ناپسند کرتے ہیں۔‘‘
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’ایسا نہیں ہے، بلکہ مؤمن کو جب اللہ کی رحمت، اس کی رضا اور اس کی جنت کی خوش خبری دی جاتی ہے تو وہ اللہ سے ملاقات کو پسند کرنے لگتا ہے، اور اللہ بھی اس سے ملاقات کو پسند کرتا ہے۔ اور جب کافر کو اللہ کے عذاب اور اس کے غضب کی خبر دی جاتی ہے تو وہ اللہ سے ملاقات کو ناپسند کرنے لگتا ہے، اور اللہ بھی اس سے ملاقات کو ناپسند کرتا ہے۔‘‘ متفق علیہ

یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ موت کو ناپسند کرنا اور اس سے خوف محسوس کرنا قابلِ ملامت نہیں ہے، اور اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ انسان اللہ سے ملاقات کا خواہش مند نہیں۔ اس لیے کہ مؤمن جب موت کو ناپسند کرتا ہے یا اس کے آنے سے خوف محسوس کرتا ہے تو دراصل وہ اس لیے کہ وہ اللہ کی مزید اطاعت کرنا چاہتا ہے اور اس کی ملاقات کے لیے بہتر تیاری کرنا چاہتا ہے۔ اسی طرح مؤمنہ عورت بھی جب موت سے ڈرتی ہے اور اس کے آنے کو ناپسند کرتی ہے تو اس کا مقصد یہی ہوتا ہے کہ اسے مزید نیک اعمال کرنے اور اپنے رب سے ملاقات کی تیاری کا موقع مل جائے۔‘‘ ختم شد
ماخوذ از: فتاویٰ الشیخ ابن باز( 6/313)

خلاصۂ جواب : اللہ سے خوف اور اس سے ملاقات کے خوف کا سبب اگر اللہ کے حقوق میں کوتاہی کے اندیشے سے ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں، بلکہ یہ قابلِ تعریف بات ہے۔ بلکہ اسے اس دن کے لیے تیاری کا ذریعہ بننا چاہیے؛ اس کے لیے نیک اعمال کرے، سچی توبہ کرے اور گناہوں سے بچنے کی بھر پور کوشش کرے۔

واللہ اعلم

حوالہ جات

فضائل اعمال

ماخذ

الشیخ محمد صالح المنجد

Previous
آگے
at email

ایمیل خبرنامہ

اسلام سوال و جواب کی میلنگ لسٹ میں شامل ہوں

phone

اسلام سوال و جواب ایپ

مواد تک فوری رسائی اور آف لائن مطالعہ کے لیے

download iosdownload android