بدھ 17 رمضان 1440 - 22 مئی 2019
اردو

غیر مسلموں کے قبرستان کے قریب مسجد بنانے کا حکم

126907

تاریخ اشاعت : 05-11-2014

مشاہدات : 2132

سوال

سوال: کیا یہ جائز ہے کہ ہم غیر مسلموں کے قبرستان کے پاس مسجد بنائیں، یا مسجد [کیلئے زمین] خریدیں؟

جواب کا متن

الحمد للہ:

اول:

جن شرعی احکامات کے ذریعے شرک کے فتنہ کی بیخ کنی اور غلو کے تمام دروازے بند کئے گئے ہیں ان میں : قبروں کو عبادت گاہ بنانے، قبروں کی طرف منہ کرکے نماز پڑھنے، یا قبرستان کو نماز کی جگہ بنانے سے ممانعت شامل ہے۔

اور اس کیلئے مسلمانوں کی قبروں اور مشرکوں کی قبروں میں کوئی فرق نہیں ہے، بلکہ مسلمانوں اور ان میں سے خصوصی طور پر نیک لوگوں کی قبروں سے [ان معاملات میں ]دور رہنا زیادہ ضروری ہے؛ کیونکہ یہ شرک کا ذریعہ بن سکتی ہیں۔

چنانچہ بخاری: (436) اور مسلم: (531) میں ہے کہ عائشہ اور عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہم دونوں کہتے ہیں کہ جس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر سکرات الموت جاری تھیں تو آپ نے اپنے چہرے مبارک پر اپنی چادر ڈال لی ، اور جس وقت کچھ افاقہ ہوا تو اپنے چہرے سے چادر ہٹائی، آپ ابھی انہی [سکرات کی] حالت میں تھے، آپ نے فرمایا: (اللہ تعالی یہود ونصاری پر لعنت فرمائے، انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو عبادت گاہ بنا لیا) آپ انکے اس عمل سے دور رہنے کی تلقین کر رہے تھے۔

اور ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (قبرستان اور حمّام کے علاوہ ساری کی ساری زمین مسجد ہے)

اس روایت کو امام احمد (11379) ، ابو داود (492) اور ترمذی (317) نے روایت کیا ہے، اور حاكم نے اسے صحیح قرار دیا ہے، ذہبی نے امام حاکم کی موافقت کی ہے، اور شيخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے اسکی سند کو اقتضاء الصراط (232) میں "جید" کہا ہے، اور البانی و مسند احمد کے محققین نے اسے صحیح کہا ہے، لیکن دارقطنی اور امام ترمذی نے اس حدیث کے مرسل ہونے کو راجح قرار دیا ہے۔

جبکہ اس مفہوم کی متعدد احادیث مشہور اور معلوم ہیں۔

ابن قیم رحمہ اللہ نے غزوہ تبوک کے فوائد بیان کرتے ہوئے مسجد ضرار کا ذکر بھی کیا ، جس میں نماز پڑھنے سے اللہ تعالی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو منع بھی فرمایا، انہوں نے مزید کہا کہ:

"ان فوائد میں یہ بھی ہے کہ: نیکی اور عبادت سے ہٹ کر کسی اور مقصد کیلئے وقف درست نہیں ہے، جیسے کہ منافقین کا اس مسجد [ضرار] کو وقف کرنے کا عمل درست نہیں ، چنانچہ اسی بنیاد پر اگر کوئی مسجد قبر پر بنائی گئی تو اس مسجد کو گرا دیا جائے گا، بالکل اسی طرح اگر کسی میت کو مسجد میں دفن کیا گیا تو قبر کھود کر میت نکال دی جائے گی، اس بارے میں امام احمد وغیرہ نے واضح الفاظ میں صراحت کی ہے۔

لہذا اسلام میں مسجد اور قبر دونوں اکٹھے نہیں ہوسکتے، بلکہ ان دونوں میں سے جو بعد میں ہوگا اسے ختم کر دیا جائے گا، اور جو پہلے موجود تھا اسکے حق میں فیصلہ ہوگا[یعنی: اگر مسجد پہلے بنائی گئی بعد میں وہاں قبر بنائی گئی تو قبر اکھاڑ دی جائے گی، اور مسجد باقی رہے گی ، جبکہ اگر قبر پہلے بنائی گئی بعد میں مسجد تعمیر کی گئی تو پھر مسجد گرا دی جائے گی، اور قبر کو باقی رکھا جائے گا۔مترجم]اور اگر دنوں کو اکٹھا بنایا جائے تو یہ وقف جائز نہیں ہوگا،اور ایسی مسجد میں نماز پڑھنا بھی درست نہیں ہے؛ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا اور جو قبر کو عبادتگاہ بنائے ، یا قبر پر چراغاں کرے اس پر لعنت فرمائی۔

حقیقت میں یہی دین اسلام ہے جسے اللہ تعالی نے اپنی نبی اور رسول کو دیکر مبعوث فرمایا، لیکن اس اسلام کی لوگوں میں اجنبیت دیکھ لیں!! اپکو اسلام کتنا اجنبی نظر آئے گا"انتہی

"زاد المعاد فی هدی خير العباد" (3/572)

اور اگر یہ قبریں یا قبرستان ایسی جگہ کے قریب ہے جہاں مسجد بنانے کی ارادہ ہے تو وہاں مسجد بنانے میں کوئی حرج نہیں ہے، بشرطیکہ تین شرائط کا خیال رکھا جائے:

1- مسجد بنانے کا مقصد ان قبروں کی تعظیم یا ان قبروں سے تبرک حاصل کرنا نہ ہو۔

2- قبریں مسجد کے قبلہ کی جانب نہ ہوں، کیونکہ ابو مرثد غنوی رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (قبروں پر نہ بیٹھو اور نہ ہی انکی طرف چہرہ کرکے نماز پڑھو)مسلم: (972)

3- مسجد اور قبرستان میں واضح طور پر علیحدگی ہو، کہ کوئی بھی قبر مسجد کے صحن یا مسجد کے کسی بھی حصے میں نہ ہو، اور دیکھنے والوں کو واضح طور پر نظر آئے کہ مسجد اور قبرستان بالکل الگ الگ ہیں، مثال کے طور پر درمیان میں روڈ، گلی، یا وسیع فاصلہ وغیرہ ہو۔

ابو بکرا ثرم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ:

"میں نے ابو عبد اللہ [یعنی: احمد بن حنبل رحمہ اللہ ] کو سنا ان سے قبرستان میں نماز پڑھنے کے بارے میں پوچھاگیا؟ تو انہوں نے قبرستان میں نماز کو مکروہ کہا۔

ان سے کہا گیا: مسجد قبروں کے درمیان میں ہے، کیا اس مسجد میں نماز پڑھ لے؟

انہوں نے اسے بھی مکروہ کہا۔

ان سے کہا گیا: مسجد اور قبروں کے درمیان میں پردہ اور رکاوٹ ہے۔

تو انہوں نے اس میں فرض نمازیں پڑھنے کو مکروہ سمجھا، اور اس میں جنازے پڑھنے کی رخصت دی، اور ساتھ میں ابو مرثد غنوی رضی اللہ عنہ کی روایت پیش کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (قبروں کی طرف چہرہ کرکے نماز مت پڑھو) اور کہاکہ: اسکی سند جید ہے" انتہی

" فتح الباری " از: ابن رجب (2/398)

مزید تفصیلات کیلئے سوال نمبر: (7875) اور (13490) کا جواب ملاحظہ فرمائیں۔

خلاصہ کلام یہ ہے کہ:

مشرکوں یا مسلمانوں کی قبروں کے قریب مسجد بنانے میں کوئی مانع نہیں ہے، بشرطیکہ مسجد قبرستان کی حدود میں نہ ہو، بلکہ درمیان میں راستہ ہو یا کسی اور چیزکی وجہ سے واضح طور پر قبرستان سے الگ ہو ۔

لیکن اگر آپکو قبرستان سے دور کہیں اور جگہ میسر ہو تو یہ زیادہ بہتر اور محتاط ہوگا، کیونکہ وقت کے گزرنے کے ساتھ ساتھ قبرستان کا مسجد تک پھیل جانے کا عین خدشہ ہے۔

واللہ اعلم .

ماخذ: الاسلام سوال و جواب

تاثرات بھیجیں