’’ ہر مسلمان پر لازم ہے کہ تورات، انجیل اور زبور کے بارے میں یہ ایمان رکھے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کی گئی تھیں ۔ چنانچہ وہ اس بات پر ایمان رکھے کہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء پر کتابیں نازل فرمائیں، اور ان پر ایسے صحیفے اتارے جن میں اوامر و نواہی، نصیحت و تذکیر، گزشتہ امور کی خبریں، اور جنت و جہنم وغیرہ کے احوال بیان کیے گئے تھے۔
لیکن اس کے لیے ان کتابوں میں بیان شدہ چیزوں پر عمل کرنا جائز نہیں، کیونکہ ان میں تحریف، تبدیلی اور تغیر واقع ہو چکا ہے۔ اسی وجہ سے اس کے لیے نہ تورات، نہ انجیل، نہ زبور کو اپنے پاس رکھنا درست ہے اور نہ انہیں پڑھنا جائز ہے؛ اس لیے کہ اس میں بڑا خطرہ ہے، کیونکہ ممکن ہے وہ کسی حق بات کو جھٹلا دے یا کسی باطل بات کو سچ مان لے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کتابوں میں یہودیوں، عیسائیوں اور دیگر لوگوں کی طرف سے تحریف، تبدیلی، تقدیم و تاخیر داخل ہو چکی ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے ہمیں اپنی عظیم کتاب، قرآنِ کریم کے ذریعے ان سب کتابوں سے بے نیاز کر دیا ہے۔
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے یہ روایت بھی منقول ہے کہ آپ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں تورات کا ایک حصہ دیکھا تو آپ ناراض ہو گئے اور فرمایا: ’’ اے ابنِ خطاب ! کیا تم شک میں ہو؟ میں تمہارے پاس وحی کو بالکل روشن اور پاکیزہ صورت میں لے کر آیا ہوں۔ اگر موسیٰ علیہ السلام خود بھی زندہ ہوتے تو ان کے لیے بھی میری پیروی کے سوا کوئی گنجائش نہ ہوتی۔‘‘
مقصود یہ ہے کہ ہم آپ کو اور آپ کی وساطت سے دوسروں کو بھی نصیحت کرتے ہیں کہ ان کتابوں سے کوئی چیز مت سیکھیں، نہ تورات سے، نہ زبور سے، نہ انجیل سے؛ نہ انہیں اپنے پاس رکھیں اور نہ انہیں پڑھیں۔ بلکہ اگر ان میں سے کوئی چیز تمہارے پاس موجود ہو تو اسے دفن کر دو یا جلا دو۔ کیونکہ ان میں جو تبدیلی اور تحریف داخل کی گئی ہے وہ منکر اور باطل ہے۔ اس لیے مومن پر لازم ہے کہ وہ اس سے دوری اختیار کرے اور ان کے مطالعے سے پرہیز کرے، کیونکہ ممکن ہے وہ کسی باطل بات کو سچ مان لے یا کسی حق بات کو جھٹلا دے۔ پس سلامتی کا راستہ یہی ہے کہ یا تو انہیں دفن کر دیا جائے یا جلا دیا جائے۔
البتہ بصیرت رکھنے والے عالم کے لیے جائز ہو سکتا ہے کہ وہ اسلام کے مخالف یہودیوں اور عیسائیوں کا رد کرنے کے لیے ان کتابوں کا مطالعہ کرے۔ جیسے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے تورات کو اس وقت منگوایا تھا جب یہودیوں نے رجم کے حکم کا انکار کیا، یہاں تک کہ آپ نے خود اسے دیکھا اور پھر انہوں نے اس کا اعتراف کر لیا۔
تو خلاصہ یہ ہے کہ شریعتِ محمدیہ سے واقف اور باخبر علماء کو بعض اوقات کسی شرعی مقصد کے لیے—جیسے دشمنانِ الہی کا رد کرنا، یا قرآنِ کریم کی فضیلت اور اس میں موجود حق و ہدایت کو واضح کرنا—تورات، انجیل یا زبور کا مطالعہ کرنے کی ضرورت پیش آ سکتی ہے۔ لیکن عام لوگوں کے لیے اس کی کوئی گنجائش نہیں۔ بلکہ اگر ان کے پاس تورات، انجیل یا زبور میں سے کوئی چیز پائی جائے تو لازم ہے کہ اسے کسی پاک جگہ دفن کر دیا جائے یا جلا دیا جائے، تاکہ اس کے ذریعے کوئی گمراہی میں مبتلا نہ ہو۔‘‘ ختم شد
سماحۃ الشیخ عبد العزیز بن باز رحمہ اللہ
فتاوی نور علی الدرب: (1/9، 10)