جمعرات 20 شعبان 1440 - 25 اپریل 2019
اردو

قرآن کریم کا معنی سمجھے بغیر تلاوت کرنا جائز ہے؟

سوال

کیا قرآن مجید کی سمجھے بغیر تلاوت کرنا جائز ہے؟

جواب کا متن

الحمد للہ:

"جی ہاں جائز ہے، مومن مرد و خواتین چاہے قرآن مجید کا معنی نہ بھی سمجھ سکیں  تب بھی وہ قرآن پڑھ سکتے ہیں، لیکن قرآن مجید کو سمجھنا اور اس کی آیات پر غور و فکر کرنا مستحب  عمل ہے، اگر وہ سمجھنے کی استطاعت رکھتا ہے تو اس کیلیے کتب تفسیر سے رجوع کرے، قرآنی تفاسیر پڑھے، عربی لغت کی کتابیں بھی پڑھے تا کہ اسے سمجھنے میں مزید فائدہ ہو، جہاں سمجھ نہ آئے اہل علم سے پوچھے، ہدف یہ ہو کہ قرآن مجید کا فہم حاصل ہو سکے؛ کیونکہ اللہ تعالی کا فرمان ہے:
(كِتَابٌ أَنزَلْنَاهُ إِلَيْكَ مُبَارَكٌ لِيَدَّبَّرُوا آيَاتِهِ وَلِيَتَذَكَّرَ أُوْلُوا الْأَلْبَابِ)
ترجمہ: ہم نے آپ کی طرف کتاب نازل کی ہے  وہ بابرکت ہے، تا کہ وہ اس کی آیات پر غور فکر کریں اور اہل دانش اس سے نصیحت حاصل کریں۔ [ص:29]

چنانچہ مومن تدبر کرتا ہے، یعنی تلاوت اور معنی سمجھنے کا یکساں اہتمام کرتا ہے، معنی و مفہوم سمجھ کر قرآن مجید سے مستفید ہوتا ہے، اور اگر قرآنی آیات کے مکمل مفاہیم سمجھ نہ آئیں تو تب بھی بہت سا معنی اور مفہوم سمجھ میں آ سکتا ہے،  اس لیے مرد حضرات تدبر اور فہم کے ساتھ قرآن کی تلاوت کریں اسی طرح خواتین بھی، تا کہ انہیں اپنے پروردگار کا کلام سمجھ آئے، اور اللہ تعالی کی مراد جان کر اس کے مطابق عمل کریں، اللہ تعالی کا فرمان ہے:
(أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ أَمْ عَلَى قُلُوبٍ أَقْفَالُهَا)
ترجمہ: کیا وہ قرآن پر غور و فکر نہیں کرتے؟ یا ان کے دلوں پر تالے لگے ہوئے ہیں![محمد:24]

ہمارے پروردگار نے ہمیں اپنا کلام سمجھنے اور اس پر غور و فکر کرنے کی ترغیب دی ہے، چنانچہ اگر کوئی مومن مرد یا خاتون  قرآن مجید کی تلاوت کرے تو اس  کیلیے آیاتِ قرآنیہ کا معنی سمجھنا شرعی عمل ہے؛ تا کہ کلامِ الہی سے فائدہ اٹھا سکے اور اللہ تعالی کی گفتگو کو سمجھ کر پھر اس کے مطابق عمل کرے ، اس کیلیے علمائے کرام کی لکھی ہوئی تفاسیر جیسے کہ تفسیر ابن کثیر، تفسیر ابن جریر، تفسیر بغوی اور تفسیر شوکانی وغیرہ، اسی طرح عربی لغت کی کتابوں سے بھی استفادہ کرے، اور جو بات سمجھ نہ آئے اس کے متعلق علم و فضل میں معروف علمائے کرام سے پوچھے"

سماحۃ الشیخ عبد العزیز بن باز رحمہ اللہ.

ماخذ: الاسلام سوال و جواب

تاثرات بھیجیں