اول:
علماء کے درمیان شراب کی نجاست کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے۔
اکثر علمائے کرام کا موقف یہ ہے کہ شراب نجس (ناپاک) ہے۔ وہ اس بات پر اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے دلیل لیتے ہیں:
إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالأَْنْصَابُ وَالأَْزْلاَمُ رِجْسٌ
ترجمہ: "بیشک شراب، جُوا، بت اور پانسے سب ناپاک ہیں" (سورۃ المائدہ: 90)
اور یہاں قرآن کریم نے لفظ "رجس" استعمال کیا ہے جس کا مطلب ناپاکی (نجاست) ہے۔
تاہم بعض علمائے کرام نے یہ رائے اختیار کی ہے کہ شراب پاک ہے۔ اس بارے میں تفصیل پہلے سوال نمبر (59899) کے جواب میں بیان کی جا چکی ہے۔
دوم:
جب کوئی نجاست برتن میں گر جائے تو اسے پانی سے اتنا دھوئے کہ برتن سے نجاست زائل ہو جائے۔ اس عمل کے کرنے سے برتن پاک ہو جاتا ہے، اور مسلمان کے لیے جائز ہے کہ وہ اس میں کھانا یا پینا رکھ لے۔
اس پر درج ذیل دلائل ہیں:
1- جس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے گھریلو گدھوں کا گوشت حرام قرار دیا، تو اس وقت صحابہ کرام نے انہی کا گوشت ہانڈیوں میں پکایا ہوا تھا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ان ہانڈیوں کو الٹ دینے اور انہیں توڑ دینے کا حکم دیا۔ اس پر ایک صحابی نے عرض کیا: "یا رسول اللہ! کیا ہم پکا ہوا کھانا تو الٹ دیں اور اس کے بعد دھو لیں؟" تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: "یا ایسے کر لو۔"
(اسے امام بخاری: 4196 اور امام مسلم: 1802 نے روایت کیا ہے)
امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’ اس حدیث میں اس بات کی دلیل ہے کہ جس چیز کو نجاست لگ جائے، اسے دھونا واجب ہے، اور نجس برتن ایک بار دھونے سے پاک ہو جاتا ہے۔
رہی بات کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ابتدا میں حکم دیا تھا کہ ان برتنوں کو توڑ دیا جائے، تو اس کی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ یہ حکم یا تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا ذاتی اجتہاد تھا یا پھر وحی کی بنیاد پر تھا، لیکن پھر بعد میں یہ حکم منسوخ ہو گیا اور صرف دھونا کافی قرار پایا۔ اس لیے آج کل ایسے برتن توڑنا جائز نہیں، کیونکہ یہ مال کو ضائع کرنا ہے۔ اور اس میں اس بات کی بھی دلیل ہے کہ جب نجس برتن کو دھو لیا جائے تو اسے استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں۔‘‘
2-ابو داود (حدیث نمبر 3839) نے حضرت ابو ثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے عرض کیا: "ہم اہلِ کتاب کے پڑوسی ہیں، وہ اپنے برتنوں میں سور کا گوشت پکاتے ہیں اور انہی برتنوں میں شراب پیتے ہیں۔" تو اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: "اگر تمہیں ان کے علاوہ دوسرے برتن مل جائیں تو انہی میں کھاؤ اور پیو، اور اگر نہ ملیں تو انہیں پانی سے دھو لو، پھر انہی میں کھاؤ اور پیو۔" اسے البانی نے "صحیح سنن ابو داود" میں صحیح قرار دیا ہے۔
علامہ خطابی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
"رحض کا مطلب ہے دھونا۔
اس حدیث کا اصل مقصد یہ ہے کہ اگر مشرکین کے بارے میں معلوم ہو کہ وہ اپنے برتنوں میں سور پکاتے ہیں اور انہی میں شراب پیتے ہیں، تو ان برتنوں کا استعمال صرف دھونے اور اچھی طرح صاف کرنے کے بعد ہی جائز ہے۔" ختم شد
ماخوذ از: (عون المعبود)
پس اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ شراب کے اثر سے متاثر برتن کو صرف دھو لینا کافی ہے، اسے توڑنے کی ضرورت نہیں۔
واللہ اعلم