اتوار 19 ذو القعدہ 1440 - 21 جولائی 2019
اردو

فروخت كےوقت كميشن كي مقدار كيا ہے

13960

تاریخ اشاعت : 30-04-2010

مشاہدات : 3709

سوال

دلال كي كميشن كےبارہ ميں بہت جھگڑ چل نكلا ہے كہ اس كي مقدار كيا ہوگي بعض اوقات اڑھائي فيصد، اور بعض اوقات پانچ فيصد ليتےہيں، لھذا شرعي كميشن كيا ہے، يا كہ بائع اور تاجر كےمابين اتفاق كےمطابق ہوگي ؟

جواب کا متن

الحمد للہ :

جب خريدار اور تاجر كےمابين اتفاق ہوا ہو كہ وہ خريدار يا پھر بائع يا دونوں سے ہي معلوم مقدار ميں كميشن لےگا توجائز ہے، كميش كا كوئي تناسب مقرر نہيں ، بلكہ كميش دينےوالا جس پر متفق ہوجائے يہ جائز ہے، ليكن يہ اتني ہوني چاہيے جوعام طور پر لي جاتي ہے اور لوگوں ميں معروف ہے جودلال كي محنت اور كوشش كےعوض ميں اسے بطور نفع حاصل ہوتي ہے، تا كہ خريدار اور تاجر كےمابين سودا طے پاجائے، اور اس ميں نہ تو خريدار كو نقصان ہو اور نہ ہي بائع كو، اورعادت كےزيادہ بھي نہيں ہوني چاہيے .

ماخذ: ديكھيں: فتاوي اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 13 / 130 )

تاثرات بھیجیں