جمعہ 17 جمادی ثانیہ 1440 - 22 فروری 2019
اردو

لا علمی کی بنا پر قبلے کی مخالف سمت میں نماز ادا کر لی

سوال

میں نوجوان ہوں اور میری ملازمت مکہ میں ہے لیکن اہل خانہ جدہ میں رہتے ہیں، میں ہفتے سے بدھ تک مکہ میں رہتا تھا اور پھر جمعرات اور جمعہ جدہ میں اپنے اہل خانہ کے پاس چلا جاتا تھا، ایک ہفتے جب میں جدہ گیا تو والد صاحب نے میرے بیڈ روم کی ترتیب اور ڈیزائننگ بالکل تبدیل کر دی تھی، انہوں نے پہلے جہاں داخلی دروازہ تھا اسے بند کر کے اس کے سامنے والی دیوار میں دروازہ کھلوا دیا تھا اور اسی طرح کمرے کا فرنیچر بھی تبدیل تھا۔
میں اکثر نمازیں مسجد میں ادا کرتا ہوں الحمدللہ لیکن کچھ نمازیں رہ جاتیں تو وہ میں اپنے کمرے میں ہی ادا کر لیتا تھا، میرے کمرے کی ترتیب تبدیل ہونے کے تقریباً ایک مہینے کے بعد مجھے علم ہوا کہ میں قبلے کی مخالف سمت میں نماز ادا کر رہا تھا، تو شیخ محترم میری ان نمازوں کا کیا حکم ہو گا؟
واضح رہے کہ میں اپنے گھر صرف جمعرات اور جمعے کو ہی آتا تھا اور ان میں سے بھی اکثر نمازیں مسجد میں ہی ہوتی تھیں۔

جواب کا متن

الحمد للہ:

نماز کے صحیح ہونے کیلیے قبلہ رخ ہونا بنیادی شرط ہے تاہم معمولی سا انحراف قابل گرفت نہیں ہے البتہ غیر معمولی غلطی معاف نہیں ، اسی طرح اگر کوئی شخص قبلہ سمت تلاش کرنے کیلیے کوشش کرے اور پھر غلط سمت میں نماز ادا کر لے تو اس کیلیے بھی معافی ہے۔

آپ کے سوال سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ آپ نے قبلہ سمت تلاش ہی نہیں کی نہ ہی آپ نے کسی سے قبلہ سمت کے بارے میں پوچھا، بلکہ آپ کو قبلہ سمت تبدیل ہونے کا احساس تک نہیں ہوا، تو ایسی صورت میں آپ پر یہ نمازیں دوبارہ ادا کرنا ضروری ہے۔

چنانچہ اگر آپ کو نمازوں کی تعداد میں شک ہو تو احتیاط کا تقاضا یہی ہے کہ آپ اتنی نمازیں دوبارہ پڑھ لیں جن سے آپ کو اطمینان ہو جائے کہ آپ ان نمازوں کے اعادے سے بری ہو گئے ہیں ۔

مزید کیلیے آپ سوال نمبر: (101605) اور (42574) کا جواب ملاحظہ فرمائیں

واللہ اعلم.

ماخذ: الاسلام سوال و جواب

متعلقہ جوابات

تاثرات بھیجیں