کیا ایسے جانور کی کھال سے بنی ہوئی چیزیں خریدنا جائز ہے جسے شرعی طریقے سے ذبح نہ کیا گیا ہو؟

سوال 144270

میں جانتا ہوں کہ اس ویب سائٹ پر "جانوروں کی کھالوں" کے بارے میں بہت سے سوالات کیے جا چکے ہیں، تو کیا فٹ بال یا باسکٹ بال خریدنا اور اس سے کھیلنا جائز ہے، جبکہ ممکن ہے کہ وہ ایسے ملک میں کسی جانور کی کھال سے بنائی گئی ہو جہاں شرعی طریقے سے ذبح نہیں کیا جاتا؟

جواب کا متن

ہمہ قسم کی حمد اللہ تعالی کے لیے، اور دورو و سلام ہوں اللہ کے رسول پر، بعد ازاں:

جن کھالوں سے فٹ بال یا باسکٹ بال بنائی جاتی ہے وہ لازماً دباغت شدہ ہوتی ہیں۔ دباغت سے مراد یہ ہے کہ کھالوں کو ایسے صاف کرنے والے اور جراثیم کش مواد سے گزارا جائے جس سے ان میں موجود بدبو، خرابی اور نمی ختم ہو جائے، اور یہی چیز ہم عملاً دیکھتے ہیں۔

ان چیزوں کے خریدنے کے حکم کو سمجھنے کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ وہ کس جانور کی کھال سے بنی ہیں، اور اس کی دو ہی صورتیں ہو سکتی ہیں: یا وہ جانور حلال ہو، یا حرام۔

الف۔ اگر وہ چیزیں ایسے جانور کی کھال سے بنی ہوں جو حلال ہے – جیسے گائے – تو دباغت اس کی کھال کو پاک اور استعمال کے لیے جواز فراہم کر دیتی ہے۔ اگر اس جانور کو شرعی طریقے سے ذبح کیا گیا ہوتا تو کھال کو دباغت کی ضرورت نہ ہوتی، لیکن چونکہ اسے غیر شرعی طریقے سے ذبح کیا گیا، اس لیے وہ مردار کے حکم میں آ گیا، اور حلال جانور کے مردار کی کھال دباغت کے بغیر استعمال کرنا جائز نہیں ہوتی۔

ب۔ اور اگر وہ چیزیں ایسے جانور کی کھال سے بنائی گئی ہوں جو اصلًا حرام ہے – جیسے خنزیر – تو اس کی کھال کا استعمال حرام ہے، خواہ اسے دباغت کے مراحل سے گزارا گیا ہو۔

پس خلاصہ یہ ہے کہ:
حلال جانور: اس کا گوشت اور کھال ذبح کے ساتھ حلال ہو جاتے ہیں، اور اگر وہ مردار ہو تو دباغت اس کی کھال کے استعمال کو جائز بنا دیتی ہے۔
حرام جانور: اس کا نہ گوشت حلال ہوتا ہے اور نہ کھال، اور دباغت بھی اسے جائز نہیں کرتی۔

یہی موقف امام اوزاعی، عبد اللہ بن مبارک، ابو ثور اور اسحاق بن راہویہ رحمہم اللہ کا ہے، اور امام احمد رحمہ اللہ سے بھی ایک روایت اسی کے مطابق منقول ہے، اور شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے بھی اپنے دو میں سے ایک قول میں اسی کو اختیار کیا ہے۔

دیکھیں: شرح مسلم للنووی (4/54) — جہاں انہوں نے اس مسئلے میں سات موقف ذکر کیے ہیں —، الفروع لابن مفلح (1/102)، مجموع الفتاویٰ لابن تیمیہ (21/95)۔

اسی قول کو بہت سے معاصر علمائے کرام نے بھی اختیار کیا ہے۔

چنانچہ الشیخ محمد بن صالح عثیمین رحمہ اللہ کہتے ہیں:

’’ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ مردار جانور کی کھال دباغت سے پاک ہو جاتی ہے، لیکن اس کے لیے شرط یہ ہے کہ وہ جانور ایسا ہو جسے شرعی طریقے سے ذبح کرنا درست ہو۔ البتہ جو جانور ایسا نہ ہو کہ شرعی ذبح اسے پاک کر سکے، اس کی کھال دباغت سے پاک نہیں ہوتی۔ یہی قول راجح ہے۔ اس بنا پر بلی اور اس سے چھوٹے جانوروں کی کھال دباغت سے پاک نہیں ہو گی۔

اس مسئلے میں اصل بنیاد یہ ہے کہ جانور اپنی زندگی میں پاک تھا یا نہیں۔ چنانچہ جو جانور حالتِ حیات میں پاک ہو، اس کے مردار کی کھال دباغت کے بعد خشک چیزوں میں استعمال کرنا جائز ہے، اگرچہ مذہبِ حنبلی کے مطابق وہ حقیقتاً پاک نہیں ہوتی۔ جبکہ دوسرے قول کے مطابق وہ دباغت سے پاک ہو جاتی ہے، اور تیسرے قول کے مطابق صرف اسی وقت پاک ہو گی جب وہ جانور ایسا ہو جسے شرعی ذبح پاک کر سکتا ہو۔

اور راجح قول یہی تیسرا ہے؛ کیونکہ حدیث کے بعض الفاظ میں آیا ہے:
’’اس کی دباغت ہی اس کی ذکاۃ ہے۔‘‘
اسے نسائی نے روایت کیا ہے: 4243، اور حافظ ابن حجر نے ’’التلخيص الحبير‘‘ (1/49) میں اسے صحیح قرار دیا ہے۔

حدیث میں ’’ذکاۃ‘‘ [جانور کو ذبح کرنا] کا لفظ استعمال کیا گیا ہے، اور یہ معلوم ہے کہ ذکاۃ صرف اسی جانور کو پاک کرتی ہے جو ماکول اللحم ہو۔ لہٰذا اگر کوئی شخص گدھے کو ذبح کرے، اللہ کا نام لے اور خون بہا دے، تب بھی اسے شرعی ذکاۃ نہیں کہا جائے گا۔

اسی بنا پر ہم کہتے ہیں کہ جس جانور کا کھانا حرام ہے، اگرچہ وہ زندگی میں پاک ہو، تب بھی اس کی کھال دباغت سے پاک نہیں ہوگی۔ اس کی علت یہ ہے کہ بعض جانوروں کو حالتِ حیات میں صرف اس لیے پاک قرار دیا گیا ہے کہ ان سے بچنا دشوار ہوتا ہے۔ جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بلی کے بارے میں فرمایا: ’’یہ تمہارے پاس زیادہ آنے جانے والوں میں سے ہے۔‘‘ یہ حدیث ترمذی: 92، ابو داود: 75، نسائی: 68، اور ابن ماجہ: 368 نے روایت کی ہے، اور امام بخاری، ترمذی، دارقطنی اور عقیلی نے اسے صحیح قرار دیا ہے، جیسا کہ ابن حجر نے ’’التلخيص الحبير‘‘ (1/41) میں ذکر کیا ہے۔

اور یہ علت موت کے بعد باقی نہیں رہتی، لہٰذا جانور اپنی اصل یعنی نجاست کی طرف لوٹ جاتا ہے، اور دباغت بھی اسے پاک نہیں کرتی۔

چنانچہ راجح بات یہ ہے کہ ہر وہ جانور جو مر جائے اور اس کا کھانا جائز ہو، اس کی کھال دباغت سے پاک ہو جاتی ہے۔ یہی شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے دو اقوال میں سے ایک قول ہے۔ جبکہ ان کا دوسرا قول ان اہلِ علم کے موافق ہے جو کہتے ہیں کہ ہر وہ جانور جو زندگی میں پاک ہو، اس کی کھال دباغت سے پاک ہو جاتی ہے۔‘‘ ختم شد

ماخوذ از: "الشرح الممتع"(1/74-75)

خلاصہ:

آپ کے لیے فٹ بال یا باسکٹ بال خریدنا جائز ہے، اگر وہ ایسے جانور کی کھال سے بنی ہوں جس کا گوشت حلال ہے، چاہے اسے غیر شرعی طریقے سے ذبح کیا گیا ہو یا وہ بغیر ذبح کے ہی مر گیا ہو، کیونکہ دباغت اس کی کھال کو پاک بنا دیتی ہے۔

اس کی دلیل سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (مردار کی کھال کی دباغت ہی اس کی طہارت ہے۔)اسے ابن حبان (1290) اور دارقطنی (25) نے روایت کیا ہے، اور علامہ البانی نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔

مزید تفصیل کے لیے سوال نمبر (9022) اور (1695) کے جوابات بھی ملاحظہ کریں۔

حوالہ جات

طہارت و پاکيزگی

ماخذ

الاسلام سوال و جواب

Previous
آگے
answer

متعلقہ جوابات

at email

ایمیل خبرنامہ

اسلام سوال و جواب کی میلنگ لسٹ میں شامل ہوں

phone

اسلام سوال و جواب ایپ

مواد تک فوری رسائی اور آف لائن مطالعہ کے لیے

download iosdownload android