جب کوئی شخص کسی مجلس میں پہنچے تو اس کے لیے سنت یہ ہے کہ وہ اس مجلس میں موجود افراد کو سلام کہے، اور جب وہ اٹھنے اور رخصت ہونے کا ارادہ کرے تو روانہ ہونے سے پہلے انہیں دوبارہ سلام کرے؛ اس کی دلیل وہ حدیث ہے جسے ابو داود (5208)، ترمذی (2706) نے روایت کیا ہے اور اسے حسن قرار دیا ہے، اور احمد (7793) نے بھی روایت کیا ہے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: (جب تم میں سے کوئی کسی مجلس میں پہنچے تو سلام کرے، اور جب وہ اٹھنے کا ارادہ کرے تو بھی سلام کرے؛ اس لیے کہ پہلی سلام دوسری سے زیادہ حق دار نہیں ہے۔) اس حدیث کو علامہ البانی رحمہ اللہ وغیرہ نے ’’صحیح ابو داود‘‘ میں صحیح قرار دیا ہے۔
علامہ مبارکپوری رحمہ اللہ کہتے ہیں:
’’ طیبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یعنی جس طرح پہلی سلام مجلس میں حاضری کے وقت ان کے لیے اس بات کی خبر ہوتی ہے کہ وہ سب اس کے شر سے محفوظ ہیں، اسی طرح دوسری سلام مجلس سے غیر حاضری کے وقت اس بات کی خبر ہوتی ہے کہ وہ سب آئندہ بھی اس کے شر سے محفوظ رہیں گے، اور حاضری کے وقت سلامتی، غیر حاضری کے وقت سلامتی سے زیادہ اولیٰ نہیں، بلکہ دوسری سلامتی زیادہ اولیٰ ہے۔ ‘‘ ختم شد
ماخوذ از: ’’تحفۃ الأحوذی‘‘ (7/402-403)
اور امام نووی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
’’ اس حدیث کا ظاہر یہ ہے کہ اس شخص کے سلام کا جواب دینا جماعت پر واجب ہے جو انہیں سلام کر کے ان سے جدا ہو رہا ہے۔ قاضی حسین اور ان کے شاگرد ابو سعد المتولی رحمہما اللہ کہتے ہیں: بعض لوگوں کی یہ عادت بن گئی ہے کہ وہ قوم سے جدا ہوتے وقت سلام کرتے ہیں، اور یہ ایک دعا ہے جس کا جواب دینا مستحب ہے، واجب نہیں؛ کیونکہ تحیہ تو ملاقات کے وقت ہوتا ہے، نہ کہ رخصت کے وقت۔ یہ ان دونوں کا موقف ہے۔ لیکن امام ابو بکر شاشی رحمہ اللہ —ہمارے اصحاب میں سے آخری—نے اس موقف کی تردید کی ہے اور فرمایا: یہ بات درست نہیں ہے، کیونکہ جس طرح بیٹھتے وقت سلام سنت ہے، اسی طرح رخصت ہوتے وقت بھی سلام سنت ہے، اور اس پر یہ حدیث دلالت کرتی ہے۔ (امام نووی رحمہ اللہ کہتے ہیں:)شاشی نے جو کہا ہے وہی درست ہے۔ ‘‘ ختم شد
ماخوذ از: ’’الأذکار‘‘ (ص 258)
اور شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’اس حدیث میں یہ بات بیان ہوئی ہے کہ جب کوئی شخص کسی مجلس میں داخل ہو تو وہ سلام کرے، اور جب وہ رخصت ہونے کا ارادہ کرے، اٹھے اور مجلس سے جدا ہو تو بھی سلام کرے؛ کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے اس کا حکم دیا ہے اور فرمایا ہے: (پہلی دوسری سے زیادہ حق دار نہیں)۔ یعنی جس طرح تم داخل ہوتے وقت سلام کرتے ہو، اسی طرح جدا ہوتے وقت بھی سلام کرو۔
اسی بنا پر جب کوئی شخص مسجد میں داخل ہوتا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کو سلام کرتا ، اور جب مسجد سے نکلتا ہے تو بھی آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو سلام کرتا تھا۔ اسی طرح جب کوئی مکہ میں عمرہ یا حج کے لیے داخل ہوتا ہے تو طواف سے آغاز کرتا ہے، اور جب مکہ سے رخصت ہو کر نکلتا ہے تو طواف کے ساتھ اختتام کرتا ہے؛ کیونکہ طواف مکہ میں داخل ہونے والے حاجی یا معتمر کے لیے تحیۂ مکہ ہے، اور اسی طرح مکہ سے رخصت ہونے والے حاجی یا معتمر کے لیے وداعِ مکہ ہے۔ اور یہ شریعت کی کامل حکمت میں سے ہے کہ اس نے ایسے معاملات میں آغاز اور اختتام دونوں کے لیے یکساں حکم رکھا ہے۔‘‘ ختم شد
ماخوذ از: ’’شرح ریاض الصالحین‘‘ (ص 990)
واللہ اعلم