اہلِ سنت والجماعت کا اس بات پر اتفاق ہے کہ جنت اور جہنم پیدا کی جا چکی ہیں اور اس وقت موجود ہیں۔ اس پر ان کے درمیان کوئی اختلاف نہیں، کیونکہ قرآن و سنت کے بے شمار دلائل اس بات پر دلالت کرتے ہیں۔
کیا جنت اور جہنم اس وقت موجود ہیں؟
سوال 14526
کیا جنت اور جہنم اس وقت موجود ہیں یا ابھی تک پیدا نہیں کی گئیں؟
جواب کا خلاصہ
جواب کا متن
ہمہ قسم کی حمد اللہ تعالی کے لیے، اور دورو و سلام ہوں اللہ کے رسول پر، بعد ازاں:
اہلِ سنت والجماعت کا اس بات پر اجماع ہے کہ جنت اور جہنم مخلوق ہیں اور اس وقت موجود ہیں، اور ان کے وجود میں کسی کو کوئی شک نہیں، کیونکہ قرآن و حدیث میں اس پر واضح دلائل موجود ہیں۔
قرآن مجید سے دلائل:
اللہ تعالیٰ نے جنت کے بارے میں فرمایا:
أُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِينَ ترجمہ: ’’وہ پرہیز گاروں کے لیے تیار کی گئی ہے۔‘‘ (آل عمران: 133)
اسی طرح فرمانِ باری تعالی ہے:
سَابِقُوا إِلَى مَغْفِرَةٍ مِّن رَّبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا كَعَرْضِ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ أُعِدَّتْ لِلَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ
ترجمہ: ’’اپنے رب کی مغفرت اور اس جنت کی طرف سبقت کرو جس کی وسعت آسمان و زمین کی مانند ہے، جو ان لوگوں کے لیے تیار کی گئی ہے جو اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے۔‘‘ (الحدید: 21)
ایک اور مقام پر فرمانِ باری تعالی ہے:
وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَى عِندَ سِدْرَةِ الْمُنتَهَى عِندَهَا جَنَّةُ الْمَأْوَى
ترجمہ: ’’اور بیشک اس نے اسے ایک اور بار دیکھا، سدرۃ المنتہیٰ کے پاس، جس کے قریب جنت المأویٰ ہے۔‘‘ (النجم: 13-15)
اور جہنم کے بارے میں فرمایا:
أُعِدَّتْ لِلْكَافِرِينَ
ترجمہ: اسے کافروں کے لیے تیار کیا گیا ہے۔‘‘ (البقرة: 24)
یہاں ماضی کا صیغہ ’’اُعِدَّتْ‘‘ یعنی ’’تیار کی گئی ہے‘‘ کا لفظ اس بات کی دلیل ہے کہ جنت اور جہنم دونوں پہلے ہی سے موجود ہیں۔
احادیث سے دلائل:
نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے سدرۃ المنتہیٰ کو دیکھا اور اس کے پاس جنت المأویٰ کو بھی دیکھا، جیسا کہ صحیح بخاری (336) اور صحیح مسلم (237) میں حضرت انس رضی اللہ عنہ کی روایت کے آخر میں ہے -اور یہ الفاظ صحیح مسلم کے ہیں-: ’’پھر جبریل مجھے لے کر سدرۃ المنتہیٰ تک گئے جسے رنگوں نے ڈھانپ رکھا تھا مجھے ان کی ماہیت کا علم نہیں ہے۔ پھر میں جنت میں داخل ہوا تو کیا دیکھتا ہوں کہ وہاں موتیوں کے قبے ہیں اور اس کی مٹی کستوری کی ہے۔‘‘
اسی طرح صحیح بخاری (1290) اور مسلم (5111) میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ’’جب تم میں سے کوئی فوت ہوتا ہے تو اس کے سامنے صبح و شام اس کا ٹھکانہ پیش کیا جاتا ہے، اگر وہ جنتی ہے تو جنت کا، اور اگر دوزخی ہے تو دوزخ کا، اور اس سے کہا جاتا ہے: یہ تیرا ٹھکانہ ہے یہاں تک کہ اللہ تجھے قیامت کے دن اٹھائے۔‘‘
اسی طرح براء بن عازب رضی اللہ عنہ کی طویل حدیث میں ہے: ’’آسمان سے منادی کرنے والا آواز دیتا ہے کہ میرے بندے نے سچ کہا، اس کے لیے جنت کا بستر بچھاؤ اور اس کے لیے جنت کا دروازہ کھول دو، تو اس کے پاس جنت کی خوشبو اور مہک آتی ہے۔‘‘ یہ حدیث صحیح ہے، ابن قیم نے ’’تهذيب السنن‘‘ (4/337) میں اور البانی نے ’’أحكام الجنائز‘‘ (59) میں اسے صحیح کہا ہے۔
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے سورج گرہن کے موقع پر فرمایا: ’’میں نے جنت کو دیکھا اور ایک خوشہ پکڑنے کی کوشش کی، اگر میں اسے لے لیتا تو تم اس میں سے دنیا باقی رہنے تک کھاتے۔ اور میں نے جہنم کو بھی دیکھا، اور آج جیسا ہولناک منظر کبھی نہیں دیکھا۔‘‘ (بخاری 993، مسلم 1512)
اسی طرح حضرت انس رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ’’اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر تم وہ دیکھتے جو میں نے دیکھا ہے تو تم بہت کم ہنستے اور بہت زیادہ روتے۔‘‘ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ نے کیا دیکھا؟ فرمایا: ’’میں نے جنت اور جہنم کو دیکھا۔‘‘ (مسلم 646)
ترمذی (حدیث نمبر: 2483) اور دیگر کتب میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ نے جنت اور جہنم کو پیدا فرمایا تو جبرائیل علیہ السلام کو جنت کی طرف بھیجا اور فرمایا: ’’جاؤ، اسے دیکھو اور مشاہدہ کرو کہ میں نے اس کے رہنے والوں کے لیے اس میں کیا کیا تیار کیا ہے۔‘‘ چنانچہ وہ گئے اور جنت کو اور اس میں اللہ تعالیٰ کی جانب سے تیار کی گئی نعمتوں کو دیکھا۔ پھر واپس آ کر عرض کیا: ’’تیری عزت کی قسم! اس کے بارے میں اگر کوئی سنے گا تو ضرور اس میں داخل ہو گا۔‘‘ تب اللہ تعالیٰ نے جنت کے ارد گرد تکالیف (مشکلات اور ناپسندیدہ چیزوں) کا گھیرا ڈال دیا، اور فرمایا: ’’اب دوبارہ جاؤ، اور دیکھو کہ میں نے اس کے رہنے والوں کے لیے کیا تیار کیا ہے۔‘‘ جبرائیل علیہ السلام دوبارہ گئے، تو دیکھا کہ اب وہ تکالیف سے گھری ہوئی ہے، پھر واپس آ کر عرض کیا: ’’تیری عزت کی قسم! مجھے اندیشہ ہے کہ اب کوئی اس میں داخل نہ ہو سکے گا۔‘‘ پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’اب جہنم کی طرف جاؤ، اسے دیکھو اور دیکھو کہ میں نے اس کے رہنے والوں کے لیے کیا کیا تیار کیا ہے۔‘‘ وہ گئے تو دیکھا کہ وہ ایک دوسرے پر چڑھ رہی ہے (شدید جوش و خروش میں ہے)۔ پھر واپس آ کر عرض کیا: ’’تیری عزت کی قسم! اگر کوئی اس کے بارے میں سنے گا تو کبھی اس میں داخل نہ ہو گا۔‘‘ پھر اللہ تعالیٰ نے جہنم کو شہوات (خواہشات و لذتوں) سے گھیر دیا، اور فرمایا: ’’اب دوبارہ جاؤ اور دیکھو۔‘‘ وہ دوبارہ گئے اور واپس آ کر عرض کیا: ’’تیری عزت کی قسم! مجھے اندیشہ ہے کہ اب کوئی اس سے بچ نہ سکے گا ، اس میں داخل ہو کر رہے گا۔‘‘ امام ترمذی نے فرمایا: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ اور حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے فتح الباری (6/320) میں فرمایا: ’’اس کی سند قوی ہے۔‘‘
ایسی اور بھی بہت زیادہ احادیث ہیں۔ امام بخاری نے اپنی صحیح میں ایک باب قائم کیا ہے: ’’باب: جنت کی صفت اور اس کے پیدا کر دئیے جانے کے بیان میں‘‘ اور اس میں یہ احادیث ذکر کیں کہ مردے جس وقت دفنا دیا جائے تو اسے قبر میں اس کا جنت یا جہنم کا ٹھکانہ دکھایا جاتا ہے۔
لہٰذا بندے کے لیے باقی یہی ہے کہ وہ اپنے رب کی اطاعت میں محنت کرے اور اس کی نافرمانی سے بچے تاکہ جنت حاصل کرے اور جہنم کے عذاب سے نجات پائے۔ واللہ اعلم
مراجع:
- شرح العقیدہ الطحاویہ للامام ابن ابی العز الحنفی (1/475 وما بعد)
- کتاب الجنة والنار للشیخ عمر الأشقر (ص 13-18)
اس بارے میں مزید کے لیے آپ سوال نمبر: (12347)، (27075) اور (5643) کا جواب ملاحظہ کریں۔
واللہ اعلم
ماخذ:
الاسلام سوال و جواب