سوموار 12 ربیع الثانی 1441 - 9 دسمبر 2019
اردو

كيا مرتد بيوى كے ساتھ رہنے والے خاوند كے ساتھ رہنے سے دوسرى بيوى گنہگار ہوگى ؟

146012

تاریخ اشاعت : 10-03-2011

مشاہدات : 4649

سوال

ميرے خاوند نے ايك امريكى لڑكى سے شادى كى اور كچھ عرصہ بعد وہ مسلمان ہو گئى كيونكہ ميرے خاوند نے اسے دھمكى دى كہ اگر اس نے اسلام قبول نہ كيا تو وہ اسے چھوڑ دےگا، اس نے صرف نام كا ہى اسلام قبول كيا اور سوائے روزوں كے كسى بھى اسلامى تعليم پر عمل نہيں كيا.
اور كچھ عرصہ سے ميرا خاوند مجھے كہہ رہا ہے كہ وہ امريكى عورت بہت سارى اسلامى اشياء پر ايمان نہيں لائى اور نہ ہى انہيں پسند كرتى ہے مثلا پردہ تو كر ليا ہے ليكن ايمان نہيں، اور اسى طرح ايك سے زيادہ شاديوں پر بھى ايمان نہيں ركھتى اور نہ ہى جھاد اور وراثت پر.
اور اس نے اعتراف كيا ہے كہ وہ ابھى تك شراب نوشى كرتى اور جوا كھيلتى ہے، ميرا سوال يہ ہے كہ كيا ميرے خاوند پر اسے طلاق دينا واجب ہے يا نہيں، اور اگر وہ طلاق نہ دينا چاہے تو كيا ميرا اپنے خاوند كے ساتھ رہنا حرام تو نہيں كيونكہ وہ ايك مرتد عورت سے شادى شدہ ہے ؟

جواب کا متن

الحمد للہ:

اول:

جب بيوى اسلام سے مرتد ہم جائے تو فورى طور پر اس سے عليحدگى اختيار كرنا لازم ہے، اور اس سے استمتاع كرنا حرام ہوگا؛ كيونكہ اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

اور تم كافر عورتوں كى ناموس اپنے قبضہ ميں نہ ركھو الممتحنۃ ( 10 ).

اور اگر بيوى دخول يعنى رخصتى سے قبل مرتد ہو جائے تو فورى طور پر نكاح فسخ ہو جائيگا.

ابن قدامہ رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" جب خاوند يا بيوى ميں سے كوئى ايك بھى رخصتى سے قبل مرتد ہو جائے تو عام اہل علم كے قول كے مطابق نكاح فسخ ہو جائيگا.

ليكن داود ظاہرى سے بيان كيا گيا ہے كہ ارتداد سے نكاح فسخ نہيں ہوگا، كيونكہ اصل ميں نكاح باقى ہے.

ليكن ہمارى دليل اللہ سبحانہ و تعالى كا يہ فرمان ہے:

اور تم كافر عورتوں كى ناموس اپنے قبضہ ميں مت ركھو .

اور اللہ عزوجل كا فرمان ہے:

تو تم انہيں كفار كى طرف مت لوٹاؤ، نہ تو وہ تو وہ عورتيں ان كافروں كے ليے حلال ہيں، اور نہ ہى وہ كافر ان عورتوں كے ليے حلال ہيں .

اور اس ليے بھى كہ دين كا مختلف ہونا صحيح ہونے ميں مانع ہے، اس ليے فسخ نكاح واجب ہوا، بالكل اسى طرح اگر كسى كافر شخص كى بيوى مسلمان ہو جائے تو وہ اس كے نكاح ميں نہيں رہ سكتى " انتہى

ديكھيں: المغنى ( 7 / 133 ).

اور اگر رخصتى اور دخول كے بعد مرتد ہو تو كيا فورى طور پر عليحدگى ہو گى يا كہ عدت كے بعد ہو گى ؟

اس ميں فقھاء كا اختلاف پايا جاتا ہے، شافعى حضرات كا مسلك اور حنابلہ كے ہاں صحيح اور ان شاء اللہ راجح بھى يہى ہے كہ اگر وہ عدت ختم ہونے سے قبل اسلام ميں واپس آ جائے تو وہ اسى نكاح پر باقى ہے، اور اگر اسلام ميں واپس آنے سے قبل عدت ختم ہو جائے توعليحدگى ہو جائيگى.

اور احناف اور مالكيہ كا مسلك ہے كہ مرتد ہونے كى صورت ميں فورى طور پر عليحدگى واقع ہو جائيگى، چاہے دخول اور رخصتى كے بعد ہى كيوں نہ ہو.

ديكھيں: المغنى ( 7 / 133 ) الموسوعۃ الفقھيۃ ( 22 / 198 ) الانصاف ( 8 / 216 ) كشاف القناع ( 15 / 121 ) تحفۃ المحتاج ( 7 / 328 ) الفتاوى الھنديۃ ( 1 / 339 ) حاشيۃ الدسوقى ( 2 / 270 ).

اس سے يہ معلوم ہوا كہ مرتد بيوى سے مباشرت كرنا جائز نہيں، بلكہ وہ اسے چھوڑ دے اور اسے توبہ كرنے اور اسلام كى طرف واپس آنے كى دعوت دے، اگر تو وہ عدت ختم ہونے سے قبل توبہ كر كے اسلام قبول كر لے تو وہ اس كى بيوى ہے، ليكن اگر عدت ختم ہو جائے اور وہ اسلام ميں واپس نہ آئے تو نكاح فسخ ہو جائيگا.

اور اگر وہ مرتد ہونے كے باوجود اپنى بيوى سے مباشرت كرتا ہے تو وہ زنا كريگا.

دوم:

اگر خاوند مرتد بيوى سے عليحدہ ہونے سے انكار كر دے تو وہ مرتد بيوى كو اپنے پاس ركھنے كى وجہ سے گنہگار ہوگا كيونكہ مرتد عورت كے بارہ ميں شرعى حكم ہے كہ اگر شرعى قضاء اور شرعى عدالت ہو تو اس كى سزا قتل ہے اور يہ سزا شرعى عدالت ہى دےگى.

اس طرح مرتد بيوى كو ديكھنے اور اسے چھونے اور ہر قسم كے استمتاع كرنے پر وہ گنہگار ہے اور اگر اس سے جماع كرے تو وہ زانى ہوگا.

مزيد فائدہ كے ليے آپ سوال نمبر ( 4036 ) اور ( 7328 ) كے جوابات كا مطالعہ كريں.

پھر اس حالت ميں آپ كو طلاق طلب كرنے كا حق حاصل ہے؛ كيونكہ خاوند فسق كا ارتكاب كر رہا ہے اور وہ حرام پر مصر ہے، اور اگر آپ اس كے اس فعل كو برا جانتے ہوئے اس سے روكتى ہيں تو اس كے ساتھ رہنے ميں آپ كو كوئى گناہ نہيں جب تك وہ خود مسلمان ہے.

مزيد آپ سوال نمبر ( 47335 ) اور ( 10831 ) كے جوابات كا مطالعہ كريں.

واللہ اعلم .

ماخذ: الاسلام سوال و جواب

تاثرات بھیجیں