بیک وقت بیوی کے ساتھ بیوی کی خالہ یا پھوپھی سے نکاح نہیں کیا جا سکتا۔

سوال 147367

براہِ کرم میری رہنمائی فرمائیں: سورۃ النساء کی آیات 23-24 کی روشنی میں ایک شخص اپنی بیوی کی بھانجی سے نکاح کرنا چاہتا ہے، تو کیا اس کے لیے ایسا جائز ہے کیونکہ وہ ابھی تک اس بھانجی کی خالہ (اپنی پہلی بیوی) کو نکاح میں رکھے ہوئے ہے؟

جواب کا متن

ہمہ قسم کی حمد اللہ تعالی کے لیے، اور دورو و سلام ہوں اللہ کے رسول پر، بعد ازاں:

کسی مرد کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ دو بہنوں کو بیک وقت نکاح میں رکھے، اسی طرح نہ ہی وہ کسی عورت اور اس کی پھوپھی یا اس کی خالہ کو بیک وقت نکاح میں رکھ سکتا ہے؛ اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے:

حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ أُمَّهَاتُكُمْ وَبَنَاتُكُمْ وَأَخَوَاتُكُمْ وَعَمَّاتُكُمْ وَخَالَاتُكُمْ وَبَنَاتُ الْأَخِ وَبَنَاتُ الْأُخْتِ وَأُمَّهَاتُكُمُ اللَّاتِي أَرْضَعْنَكُمْ وَأَخَوَاتُكُمْ مِنَ الرَّضَاعَةِ وَأُمَّهَاتُ نِسَائِكُمْ وَرَبَائِبُكُمُ اللَّاتِي فِي حُجُورِكُمْ مِنْ نِسَائِكُمُ اللَّاتِي دَخَلْتُمْ بِهِنَّ فَإِنْ لَمْ تَكُونُوا دَخَلْتُمْ بِهِنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ وَحَلَائِلُ أَبْنَائِكُمُ الَّذِينَ مِنْ أَصْلَابِكُمْ وَأَنْ تَجْمَعُوا بَيْنَ الْأُخْتَيْنِ إِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ إِنَّ اللَّهَ كَانَ غَفُورًا رَحِيمًا

’’تم پر تمہاری مائیں، تمہاری بیٹیاں، تمہاری بہنیں، تمہاری پھوپھیاں، تمہاری خالائیں، تمہارے بھائی کی بیٹیاں، تمہاری بہن کی بیٹیاں، تمہاری وہ مائیں جنہوں نے تمہیں دودھ پلایا اور دودھ شریک بہنیں، تمہاری بیویوں کی مائیں، اور تمہاری وہ سوتیلی بیٹیاں جو تمہاری گود میں پرورش پائیں اور تمہاری ان بیویوں سے ہوں جن سے تم دخول کر چکے ہو  پس اگر تم نے ان سے دخول نہ کیا ہو تو تم پر کچھ گناہ نہیں، اور تمہارے صلبی بیٹوں کی بیویاں حرام کی گئیں، اور یہ بھی کہ دو بہنوں کو بیک وقت نکاح میں رکھو، مگر جو کچھ پہلے ہو چکا (اس کا گناہ نہیں)، بے شک اللہ بہت بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ (النساء: 23)

شیخ عبدالرحمٰن السعدی رحمہ اللہ ’’ تفسیر سعدی ‘‘ (1/173) میں فرماتے ہیں:

’’یہ آیات نسب، رضاعت، اور سسرالی رشتہ داری کی وجہ سے حرام ہونے والی عورتوں کا بیان ہیں، نیز اس میں ان عورتوں کا بھی ذکر ہے جنہیں بیک وقت نکاح میں جمع کرنا حرام ہے ۔۔۔جہاں تک ایک نکاح میں جمع کرنے کے سبب حرام عورتوں کا تعلق ہے تو اللہ تعالیٰ نے دو بہنوں کو جمع کرنے کی حرمت بیان فرمائی، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت اور اس کی پھوپھی یا عورت اور اس کی خالہ کو جمع کرنے کی حرمت بیان فرمائی؛ پس ہر دو عورتیں جن کے درمیان ایسا قرابت کا رشتہ ہو کہ اگر ایک مرد ہوتی اور دوسری عورت تو وہ اس پر حرام ہوتی، ان دونوں کو جمع کرنا حرام ہے۔ اس کی علت یہ ہے کہ اس میں رشتہ داروں کے درمیان قطع رحمی کا سبب پایا جاتا ہے۔‘‘ ختم شد

نیز بخاری (5109) اور مسلم (1408) میں سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا يُجمع بين المرأة وعمتها، ولا بين المرأة وخالتها
(’’نہ عورت اور اس کی پھوپھی کو اکٹھا نکاح میں جمع کیا جائے اور نہ عورت اور اس کی خالہ کو۔‘‘)

ابن قدامہ رحمہ اللہ نکاح کی محرمات کے بیان میں لکھتے ہیں:

’’عورت اور اس کی پھوپھی کو ایک نکاح میں، یا عورت اور اس کی خالہ کو ایک نکاح میں جمع کرنا حرام ہے۔ ابن المنذر کہتے ہیں: اہلِ علم کا اس پر اجماع ہے اور اس میں بحمد اللہ کوئی اختلاف نہیں، سوائے بعض اہلِ بدعت کے—جن کی مخالفت کا کوئی اعتبار نہیں—جیسے روافض اور خوارج؛ انہوں نے اس حرام کو حلال کہا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ثابت شدہ سنت کو قبول نہ کیا۔ (جس کی مثال اوپر ذکر کی گئی حدیث ہے) …
اور دو بہنوں کو جمع کرنے کی حرمت کی علت یہ ہے کہ اس سے اقارب کے درمیان عداوت اور قطع رحمی پیدا ہوتی ہے، اور یہی علت یہاں (پھوپھی اور بھانجی یا خالہ اور بھانجی) میں بھی پائی جاتی ہے۔
اگر وہ (اہلِ بدعت) آیتِ کریمہ کے عموم وأحلّ لكم ما وراء ذلكم سے استدلال کریں تو ہم اسے ان احادیث سے خاص کریں گے۔‘‘
(المغنی 7/89)

اس بارے میں مزید کے لیے آپ سوال نمبر: (22302) کا جواب ملاحظہ کریں۔

واللہ اعلم

حوالہ جات

ابدی محرم خواتین

ماخذ

الاسلام سوال و جواب

Previous
آگے
answer

متعلقہ جوابات

at email

ایمیل خبرنامہ

اسلام سوال و جواب کی میلنگ لسٹ میں شامل ہوں

phone

اسلام سوال و جواب ایپ

مواد تک فوری رسائی اور آف لائن مطالعہ کے لیے

download iosdownload android