بدھ 13 ربیع الاول 1440 - 21 نومبر 2018
اردو

قبلہ رخ جس مسافر کو معلوم نہ ہو سکے تو وہ کیسے نماز پڑھے؟

سوال

سوال: میں نے سفر کی نمازوں اور دوران سفر قبلہ رخ ہونے سے متعلق سوالات پر آپ کے جوابات پڑھے ہیں، لیکن جب ہم سفر میں ہوتے ہیں تو ہمارے پاس ایسا کوئی ذریعہ نہیں ہوتا جن کی مدد سے قبلہ سمت معلوم کر سکیں جیسے کہ امریکہ میں ہے؛ کہ ہمیں قبلہ رخ پوچھنے کیلیے کسی مسلمان کو ڈھونڈنا مشکل ہو جاتا ہے، میں نے بڑی کوشش کی ہے کہ قطب نما[ کمپاس ] استعمال کروں لیکن اس کے باوجود میں کامیاب نہیں ہو سکی، لیکن پھر بھی میں اس سے قبلہ رخ جاننے کی کوشش کرتی رہتی ہوں تو کیا نماز کا وقت نکل جانے کے خدشے کے پیش نظر میں کسی بھی جانب رخ کر کے نماز ادا کر سکتی ہوں؟اور پھر بعد میں اسی نماز کو دہرا لیا جائے؛ کیونکہ ہمیں معلوم ہے کہ اللہ تعالی نے پوری سر زمین کو نماز پڑھنے کی جگہ قرار دیا ہے۔

جواب کا متن

الحمد للہ:

اول:

علمائے کرام کے ہاں نماز کے درست ہونے کیلیے قبلہ رخ ہونا متفقہ طور پر شرط ہے، نیز اگر کوئی شخص قبلہ رخ ہونے کی استطاعت رکھنے کے باوجود قبلہ رخ ہو کر نماز ادا نہ کرے تو اس کی نماز باطل ہو جائے گی، تاہم کچھ ایسی صورتیں ہیں جن میں قبلہ رخ ہونے کی شرط کالعدم ہو جاتی ہے، جس کا تفصیلی بیان سوال نمبر: (65853) کے جواب میں گزر چکا ہے۔

چنانچہ اگر کوئی مسلمان کسی ایسی جگہ موجود ہو جہاں قبلے کی سمت معلوم کرنا ممکن نہ ہو اور وہ اپنے غالب گمان کے مطابق  قبلہ رخ ہو کر نماز ادا کر لے، تو بعد میں اسے نماز دہرانے کی ضرورت نہیں ہے؛ بلکہ اس کی نماز صحیح ہے اور اس پر کچھ نہیں ہوگا۔

اس کی دلیل جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے کہ: (ایک سفر یا غزوے میں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے، تو بادل چھا گئے  اور ہم نے قبلہ سمت تلاش کرنے کیلیے خوب کوشش کی اور اس بارے میں اختلاف رائے پیدا ہو گیا، تو پھر ہر شخص نے اپنی رائے کے مطابق الگ نماز ادا کی ، لیکن ہر شخص اپنی سمت معین کرنے کیلیے اپنے سامنے افقی خط کھینچ لیتا تھا، پھر جب صبح ہوئی تو ہم نے ان کھینچے ہوئے خطوں کو دیکھا تو ہم سب غلط تھے کسی نے قبلہ رخ نماز ادا نہیں کی تھی، تو ہم نے یہ ماجرا نبی صلی اللہ علیہ وسلم  کے سامنے رکھا تو آپ نے ہمیں دوبارہ نماز پڑھنے کا حکم نہیں دیا، بلکہ فرمایا: تمہاری نماز ہو گئی ہے)
 دارقطنی، حاکم اور بیہقی  نے اسے روایت کیا ہے اور البانی نے اسے ارواء الغلیل میں شواہد کی بنا پر حسن قرار دیا ہے۔

شیخ ابن باز رحمہ اللہ سے ایسے شخص کے بارے میں استفسار کیا گیا جس نے قبلہ سمت تلاش کرنے کی کوشش کی لیکن پھر بھی غلط سمت میں نماز ادا کر لی۔
تو انہوں نے جواب دیا:
"اگر کوئی مسلمان سفر میں ہو یا کسی ایسے علاقے میں ہو جہاں قبلے کی سمت بیان کرنے والا کوئی نہ ہو تو اس کی نماز صحیح ہے، لیکن شرط یہ ہے کہ اس نے قبلہ سمت تلاش کرنے کیلیے حتی المقدور کوشش کی تھی پھر بعد میں معلوم ہوا کہ اس نے قبلہ رخ ہو کر نماز ادا نہیں کی۔

لیکن اگر مسلمان مسلم علاقے میں ہو تو اس کی نماز صحیح نہیں ہے؛ کیونکہ وہ ایسی جگہ پر جہاں قبلہ سمت بیان کرنے والے لوگ موجود ہیں، نیز اسے مساجد کے رخ سے بھی قبلہ سمت  معلوم ہو سکتی ہے" انتہی
"مجموع الفتاوى" (10/420)

دوم:

قبلہ سمت معلوم کرنے کیلیے بہت سے طریقے ہیں، چنانچہ اگر کسی مسلمان نے سفر کر کے جانا ہو اور اسے معلوم ہو کہ وہ ایسی جگہ جا رہا ہے جہاں قبلہ رخ معلوم کرنا ممکن نہیں ہے اور نہ ہی وہاں پر مسلمانوں میں سے کوئی شخص ایسا ہے جس سے پوچھنا ممکن ہو تو اس کیلیے ان ذرائع  اور وسائل کو سیکھنا ضروری ہے جن کی مدد سے قبلہ رخ معلوم کر سکتا ہے، اور یہ آج کل آسانی سے میسر ہیں جن میں قطب نما  اور ایسی گھڑیاں شامل ہیں جن کے ذریعے قبلہ سمت معلوم کی جا سکتی ہے، کچھ سورج کے مطابق قبلہ سمت بیان کرتی ہیں اور کچھ چاند کے مطابق۔

لہذا ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے کہ ان تمام چیزوں کو سیکھے جن سے اس کی نماز صحیح طور پر ادا ہو۔

واللہ اعلم.

ماخذ: الاسلام سوال و جواب

تاثرات بھیجیں