اول:
’’سنت کے مطابق سجدہ کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ نمازی سات اعضاء پر سجدہ کرے: پیشانی اور ناک، دونوں ہاتھ، دونوں گھٹنے اور دونوں پاؤں۔ اور اپنی پیشانی اور ناک کو زمین پر اچھی طرح جمائے، اپنے ہاتھوں کی انگلیاں پھیلا کر قبلہ کی طرف رکھے، گھٹنوں کو ایک دوسرے سے الگ رکھے، اپنے پیٹ کو رانوں سے بلند رکھے، رانوں کو پنڈلیوں سے جدا رکھے، اپنے بازوؤں کو اپنے پہلوؤں سے الگ رکھے، اور اپنے پاؤں کی انگلیوں کے سروں کو قبلہ کی طرف کرے۔‘‘
’’الموسوعة الفقهية‘‘ (27/97)
مقصود یہ ہے کہ ہر عضو اپنی جگہ مستقل ہو اور سجدے میں اپنا کردار ادا کرے۔
اور صحیح بخاری (828) میں ابو حمید الساعدی رضی اللہ عنہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی نماز کی کیفیت بیان کرتے ہوئے روایت ہے: ’’جب آپ صلی اللہ علیہ و سلم سجدہ کرتے تو اپنے ہاتھ زمین پر رکھتے، نہ انہیں بچھاتے تھے اور نہ انہیں اپنے پہلوؤں سے ملا لیتے تھے۔‘‘ ختم شد
ماخوذ از: ’’فتح الباری‘‘:(2/302)
اور میمونہ بنت الحارث رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سجدہ کرتے تو اپنے بازوؤں کو اس قدر الگ رکھتے کہ آپ کے بغلوں کی سفیدی پیچھے سے دیکھنے والا دیکھ سکتا تھا۔) اسے مسلم (497) نے روایت کیا ہے۔
ابن قدامہ رحمہ اللہ کہتے ہیں:
’’سنت یہ ہے کہ آدمی سجدہ کرتے وقت اپنے بازوؤں کو پہلوؤں سے الگ رکھے اور اپنے پیٹ کو رانوں سے دور رکھے؛ کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم اپنے سجدے میں ایسا ہی کیا کرتے تھے۔‘‘ ختم شد
ماخوذ از: ’’المغنی‘‘ (1/306)
ابن منیر رحمہ اللہ کہتے ہیں:
’’اس کی حکمت یہ لگتی ہے کہ ہر عضو اپنی جگہ نمایاں ہو اور الگ نظر آئے، یہاں تک کہ ایک انسان کا سجدہ گویا کئی اعضا کی طرح نمایاں ہو۔ اس کا تقاضا یہ ہے کہ ہر عضو اپنی جگہ مستقل ہو اور سجدے میں بعض اعضاء دوسرے اعضاء پر ٹکے ہوئے نہ ہوں۔‘‘ ختم شد
ماخوذ از: ’’فتح الباری‘‘ (4/200)
دوم:
سوال میں جس حالت کا ذکر کیا گیا ہے کہ امام سجدے میں اس طرح پھیل جاتا ہے جیسے زمین پر لیٹ گیا ہو، یہاں تک کہ اس کا پیٹ زمین کے قریب ہو جاتا ہے، تو یہ ایک ناپسندیدہ اور منکر طریقہ ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے ثابت شدہ طریقۂ سجدہ کے خلاف ہے، اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے اس فرمان کے بھی خلاف ہے: (سجدے میں اعتدال اختیار کرو۔) اسے بخاری (532) اور مسلم (493) نے روایت کیا ہے۔
امام کاسانی رحمہ اللہ نے سجدے کی کیفیت بیان کرتے ہوئے فرمایا:
’’اس میں یہ ہے کہ آدمی اپنی ہتھیلیوں پر اعتماد کرے (یعنی سجدے میں ہاتھ مضبوطی سے زمین پر رکھے)، اور یہ بھی ہے کہ اپنے ڈولوں کو کھلا رکھے؛ کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے فرمایا: ’’اپنے ڈولے کھلے رکھو‘‘، یعنی بازو کے درمیانی حصے (گوشت والے حصے) کو ظاہر کرو۔ اور سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم جب سجدہ کرتے تو اپنے ڈولوں کو اپنے پہلوؤں سے الگ رکھتے، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی بغلوں کی سفیدی نظر آنے لگتی تھی۔ اور ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ سجدے میں اعتدال اختیار کرے اور اپنے بازو زمین پر نہ بچھائے (یعنی کہنیوں کو زمین سے اٹھا کر رکھے)۔۔۔‘‘ پھر انہوں نے سابقہ حدیث ذکر کی۔
یہ اقتباس ’’بدائع الصنائع‘‘ از کاسانی (1/210) سے ختم ہوا، اور یہ کتاب فقہ حنفی کی معتبر کتابوں میں سے ہے۔
اسی طرح امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (638) نے رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے نماز اچھی طرح ادا نہ کرنے والے سے فرمایا: (پھر جب تم سجدہ کرو تو اپنے چہرے اور ہاتھوں کو اچھی طرح جما دو، یہاں تک کہ تمہاری ہر ہڈی اپنی جگہ پر ٹھہر جائے۔) اس حدیث کو علامہ البانی نے ’’صفۃ الصلاة‘‘ (ص 142) میں حسن قرار دیا ہے۔
ہر ہڈی کا اپنی جگہ ٹھہرنا اِسی معروف طریقۂ سجدہ میں ممکن ہے، نہ کہ اس عجیب اور ناگوار طریقے میں جس کا ذکر سوال میں کیا گیا ہے۔
شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ کہتے ہیں:
’’نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: (سجدے میں اعتدال اختیار کرو)، یعنی سجدہ معتدل ہونا چاہیے۔ ایسا نہ کرو کہ دب کر سجدہ کرو اور پیٹ رانوں پر آ جائے اور رانیں پنڈلیوں پر، اور نہ ہی اس طرح پھیل جاؤ جیسا کہ بعض لوگ کرتے ہیں کہ سجدے میں اتنا پھیل جاتے ہیں کہ گویا لیٹنے کے قریب ہو جاتے ہیں۔ یہ بلا شبہ بدعت ہے اور سنت نہیں ہے۔ جہاں تک ہمیں علم ہے، نہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اور نہ صحابہ سے یہ ثابت ہے کہ آدمی سجدے میں اپنی پیٹھ کو اس طرح پھیلا دے۔ پیٹھ کو سیدھا اور پھیلانا تو رکوع کی حالت میں ہوتا ہے۔ رہا سجدہ، تو اس میں آدمی اپنے پیٹ کو بلند رکھتا ہے، پھیلاتا نہیں۔‘‘ ختم شد
ماخوذ از: ’’الشرح الممتع‘‘ (3/38)
اور شیخ بکر بن عبد اللہ ابو زید رحمہ اللہ نے اس مسئلے میں سنت کی وضاحت کرتے ہوئے، نماز میں پیدا ہونے والی بعض نئی ہیئتوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:
’’ 3- سجدے میں حد سے زیادہ پھیلاؤ اور دراز ہونا:
رکوع اور سجدہ دونوں میں اعتدال اختیار کرنا اور پشت کو سیدھا رکھنا نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی سنت ہے۔
سجدے میں اعتدال کی حد یہ ہے کہ آدمی بچھ جانے اور حد سے زیادہ سمٹ جانے کے درمیان درمیانی حالت اختیار کرے۔ اس طرح کہ سجدے کے ساتوں اعضاء زمین پر اچھی طرح جمائے، رانوں اور پنڈلیوں کے درمیان، پیٹ اور رانوں کے درمیان، اور بازوؤں اور پہلوؤں کے درمیان معتدل فاصلہ رکھے، اور اپنے بازو زمین پر نہ پھیلائے۔
دیکھیے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے سجدے میں اعتدال کا حکم دینے کے ساتھ ساتھ بازوؤں کو کتے کی طرح پھیلانے سے بھی منع فرمایا ہے۔
چنانچہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: (سجدے میں اعتدال اختیار کرو اور تم میں سے کوئی اپنے بازو کتے کی طرح نہ پھیلائے۔) اسے بخاری نے ’’صحیح بخاری‘‘ (2/302 فتح الباری کے ساتھ) میں اور نسائی نے اپنی ’’سنن‘‘ (1109) میں روایت کیا ہے۔
اسی مفہوم کی ایک اور روایت میں ہے: (رکوع اور سجدے میں اعتدال اختیار کرو اور تم میں سے کوئی اپنے بازو کتے کی طرح نہ پھیلائے۔) اسے بخاری (822)، نسائی (1027) اور دیگر محدثین نے روایت کیا ہے۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کہتے ہیں:
’’(اعتدلوا) یعنی بچھ جانے اور سمٹ جانے کے درمیان درمیانی حالت اختیار کرو۔‘‘ ختم شد
پھر انہوں نے ابن دقیق العید رحمہ اللہ کا کلام ذکر کیا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ سجدے میں بچھ جانے، حد سے زیادہ پھیلنے اور حد سے زیادہ سمٹنے کی ممانعت عام ہے، صرف بازوؤں کے ساتھ خاص نہیں۔
پھر سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کی حدیث سے بھی ثابت ہے کہ: (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب سجدہ کرتے تو اپنے ہاتھوں کو اپنے پہلوؤں سے اس قدر الگ رکھتے کہ اگر کوئی بکری کا بچہ چاہتا تو آپ کے ہاتھوں کے نیچے سے گزر سکتا تھا۔)
اسے مسلم اور اصحابِ سنن نے روایت کیا ہے، اور نسائی (1108) کے الفاظ میں بھی یہی مفہوم ہے۔
اس بنا پر سجدے میں حد سے زیادہ پھیل جانا اور دراز ہونا، اس عظیم رکن کی ادائیگی میں اعتدال کی حد سے تجاوز ہے۔ اس رکن میں بندے سے مطلوب صرف یہ ہے کہ وہ اپنے رب اور معبود سبحانہ وتعالیٰ کے سامنے انتہائی عاجزی، خشوع اور انکساری کا اظہار کرے؛ کیونکہ بندہ اپنے رب کے سب سے زیادہ قریب اس وقت ہوتا ہے جب وہ سجدے میں ہو۔ اسی لیے ہمیں اس حالت میں دعا کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ یہ قبولیت کی جگہوں میں سے ہے۔
لہٰذا جس رکن کی اتنی عظیم منزلت ہے؛ اس لیے ضروری ہے کہ اسے نبوی طریقے کے مطابق ادا کیا جائے جو کہ اعتدال پر مبنی ہے اور جس میں تکلف اور غیر ضروری کھنچاؤ نہیں۔ چنانچہ اس میں نہ تو اس نئی پیدا شدہ صورت کی طرح حد سے زیادہ پھیلاؤ ہو، اور نہ ہی کوتاہی کرتے ہوئے سستی کرنے والے کی طرح سجدہ ہو، جیسے کہ بعض لوگ اپنے بازو زمین پر بچھا دیتے ہیں، پیٹ کو رانوں سے اور رانوں کو پنڈلیوں سے ملا دیتے ہیں۔ اس طرح کا سجدہ کئی ممنوع امور کو جمع کر دیتا ہے۔
اور ’’صحیح بخاری‘‘ (1/247) میں ’’کتاب الوضوء‘‘ کے تحت ابن عمر رضی اللہ عنہ کا واسع بن حبان سے یہ قول نقل ہوا ہے: ’’شاید تم ان لوگوں میں سے ہو جو اپنے کولہوں پر نماز پڑھتے ہیں؟‘‘ میں نے کہا: اللہ کی قسم! مجھے معلوم نہیں۔
امام مالک رحمہ اللہ نے کہا: اس سے مراد وہ شخص ہے جو نماز پڑھتے ہوئے زمین سے بلند نہیں ہوتا، بلکہ سجدہ اس طرح کرتا ہے کہ زمین سے چپک جاتا ہے۔
سنت افراط اور تفریط کے درمیان درمیانی طریقہ ہے، اور اسی پر مسلمانوں کا عمل رہا ہے۔ تمام تعریفیں اللہ رب العالمین کے لیے ہیں۔ لہٰذا اس طرح کا مبالغہ کرنے سے بچنا چاہیے جو سنتوں کے نفاذ میں حد سے بڑھ جانے کا سبب بن جائے۔ ‘‘ یہ اقتباس شیخ بکر ابو زید رحمہ اللہ کی کتاب ’’لا جديد في أحكام الصلاة‘‘ (ص 35–37) سے ختم ہوا۔
لہٰذا اس امام کو اس بات پر متنبہ کرنا واجب ہے کہ وہ سجدہ کرتے ہوئے سنت کی مخالفت کر رہا ہے۔ اگرچہ جیسا کہ سوال میں ذکر کیا گیا ہے اس کی نماز صحیح ہے، لیکن اس طرح کی منکر ہیئت ایجاد کرنا ایسی بات ہے جس سے روکنا چاہیے، بشرطیکہ ایسا کرنے سے مسجد میں کوئی فتنہ یا ہنگامہ پیدا نہ ہو۔
سوم:
اگر یہ امام اس مخالفت سے باز نہ آئے یا اسے اس سے روکنا ممکن نہ ہو، تو اگر اسے تبدیل کر کے اس کی جگہ ایسا امام مقرر کیا جا سکے جو سنت کے مطابق نماز پڑھائے، تو یہی بہتر ہو گا، تاکہ نماز اپنی بہترین ہیئت اور کامل طریقے کے ساتھ ادا ہو۔
اور اگر ایسا ممکن نہ ہو اور آپ کے پاس کوئی دوسری مسجد ہو جہاں سنت کے مطابق نماز قائم کی جاتی ہو، تو وہاں نماز پڑھنا بہتر ہے، خواہ اس کا امام اپنے کپڑے ٹخنوں سے نیچے لٹکاتا ہو یا داڑھی منڈاتا ہو؛ کیونکہ اس کا گناہ اسی پر ہے، جبکہ نماز میں وہ جو سنت پر عمل پیرا رہتا ہے اس کا فائدہ اسے بھی ہے اور دوسروں کو بھی۔
دائمی فتویٰ کمیٹی کے علمائے کرام سے پوچھا گیا:
’’بعض ممالک میں ایک بڑے عالم دین کی طرف سے یہ فتویٰ صادر ہوا ہے کہ جو امام داڑھی منڈاتا ہو اس کے پیچھے نماز جائز نہیں۔ کیا یہ فتویٰ درست ہے یا نہیں؟‘‘
اس سوال کا کمیٹی نے جواب دیا:
’’داڑھی بڑھانا واجب ہے اور اسے منڈانا حرام ہے، جیسا کہ صحیح حدیث میں ثابت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: (مونچھیں خوب کاٹو اور داڑھیاں بڑھاؤ۔) نیز اہل سنت والجماعت کا مسلک یہ ہے کہ ہر نیک اور فاسق کے پیچھے نماز پڑھی جا سکتی ہے، تاکہ باہمی اتحاد اور اجتماعیت قائم رہے اور اختلاف و تفرقہ سے بچا جا سکے۔ لہٰذا اگر داڑھی نہ منڈانے والا امام مل جائے تو اس کے پیچھے نماز پڑھنا بہتر ہے، اور اگر ایسا نہ ملے تو داڑھی منڈانے والے کے پیچھے بھی نماز پڑھ لی جائے، اس کی نماز صحیح ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ سوال میں مذکور فتویٰ درست نہیں۔‘‘
یہ اقتباس ’’فتاوى اللجنة الدائمة‘‘ (7/370-371) سے ختم ہوا۔
اسی طرح شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ سے بھی پوچھا گیا:
’’اس امام کے پیچھے نماز پڑھنے کا کیا حکم ہے جو داڑھی منڈاتا ہو اور کپڑے ٹخنوں سے نیچے لٹکاتا ہو؟‘‘
انہوں نے جواب دیا:
’’اگر اس سے زیادہ متقی امام مل جائے تو بلا شک اس کے پیچھے نماز پڑھنا بہتر ہے۔ لیکن اگر ایسا نہ ہو، یا آدمی کسی مسجد میں داخل ہو اور وہاں یہی شخص لوگوں کو نماز پڑھا رہا ہو جو داڑھی منڈاتا یا کپڑا ٹخنے سے نیچے لٹکاتا ہے، تو اس کے پیچھے نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں؛ کیونکہ اہل علم کے اقوال میں راجح قول یہ ہے کہ فاسق کی امامت صحیح ہے، اگرچہ زیادہ متقی شخص امامت کے لیے بہتر ہوتا ہے۔‘‘
یہ اقتباس ’’مجموع فتاوى ابن عثيمين‘‘ (13/625) سے ختم ہوا۔
مزید کے لیے سوال نمبر (13465) اور (46557) کے جوابات ملاحظہ کریں۔
واللہ اعلم