پانی دس منٹ کی مسافت پر ہے، تو کیا تیمم کر کے نماز ادا کر سکتا ہے؟

سوال 149922

اگر میں کسی کام یا سفر میں ہوں اور نماز کا وقت ہو جائے، جبکہ میرے اور پانی کے درمیان دس منٹ یا 15 منٹ کا فاصلہ ہو، تو کیا میں تیمم کر سکتا ہوں یا مجھے پانی تک پہنچنے کا انتظار کرنا ہو گا؟

جواب کا متن

ہمہ قسم کی حمد اللہ تعالی کے لیے، اور دورو و سلام ہوں اللہ کے رسول پر، بعد ازاں:

’’ یہ فاصلہ عرف کے اعتبار سے قریب شمار ہوتا ہے، اس لیے واجب ہے کہ تم پانی تک جاؤ اور اسی سے وضو کرو، اور اگر غسل واجب ہو تو غسل بھی کرو۔ اس صورت میں تیمم جائز نہیں ہے؛ کیونکہ دس منٹ یا 15 منٹ کا فاصلہ قریب شمار ہوتا ہے، دور یا دشوار نہیں مانا جاتا۔ لہٰذا اس فاصلے کو عذر بنا کر وضو ترک نہیں کیا جا سکتا۔ چاہے تم کام پر ہو یا سفر میں، تم پر لازم ہے کہ پانی تک پہنچو اور شرعی طریقے سے وضو کرو، اور اگر جنابت ہو تو غسل کر کے نماز ادا کرو۔ یہ فاصلہ تیمم کے جواز کا عذر نہیں ہے کیونکہ عرف کے مطابق یہ قریب ہے۔ ‘‘ ختم شد

سماحۃ الشیخ عبد العزیز بن باز رحمہ اللہ
ماخوذ از: ’’فتاویٰ نور علی الدرب‘‘ (2/653)

حوالہ جات

تیمم

ماخذ

سماحۃ الشیخ عبد العزیز بن باز رحمہ اللہ ’’فتاویٰ نور علی الدرب‘‘ (2/653)

Previous
آگے
at email

ایمیل خبرنامہ

اسلام سوال و جواب کی میلنگ لسٹ میں شامل ہوں

phone

اسلام سوال و جواب ایپ

مواد تک فوری رسائی اور آف لائن مطالعہ کے لیے

download iosdownload android