قسم صرف اللہ تعالیٰ، یا اس کے کسی نام، یا کسی صفت کے ساتھ اٹھانا جائز ہے۔ اس کے علاوہ کسی اور چیز کی قسم کھانا حرام ہے، بلکہ غیر اللہ کی قسم کھانا شرک ہے۔
چنانچہ امام ابو داود (3251) نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ’’جس نے اللہ کے علاوہ کسی اور کی قسم کھائی اس نے شرک کیا۔‘‘ اسے البانی نے ’’سنن ابو داود‘‘ میں صحیح قرار دیا ہے۔
اسی طرح ابو داود (3248) میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ’’اپنے باپوں کی قسم نہ کھاؤ، نہ ماؤں کی، نہ کسی اور کی، قسم اٹھاؤ تو صرف اللہ کی ، اور اللہ کی قسم بھی سچ بولتے ہوئے کھاؤ۔‘‘ اسے البانی نے ’’صحیح ابو داود‘‘ میں صحیح کہا ہے
دین کی قسم کھانا بھی غیر اللہ کی قسم کھانے میں شامل ہے۔ کیونکہ جب کوئی کہتا ہے ’’میرے دین کی قسم‘‘ تو اس کا مطلب اس کے دینی اعمال جیسے نماز، روزہ، حج اور باقی عبادات ہوتے ہیں، اور یہ سب اللہ کی مخلوق ہیں، لہٰذا ان کی قسم کھانا غیر اللہ کی قسم کھانے کے مترادف ہے۔
امام کاسانی ’’بدائع الصنائع‘‘ (7/22) میں لکھتے ہیں:
’’اگر کوئی کہے: اللہ کی حدود کی قسم، تو یہ قسم شمار نہیں ہو گی۔ اس میں اختلاف ہے کہ مراد حدودِ زنا، چوری، شراب نوشی اور قذف ہیں یا مراد فرائض مثلاً روزہ اور نماز وغیرہ ہیں۔ دونوں صورتوں میں یہ غیر اللہ کی قسم ہے، اس لیے یہ قسم شمار نہیں ہو گی۔‘‘ ختم شد
’’تبیین الحقائق‘‘ (3/109) میں ہے:
’’اپنی نیکی کی قسم؛ قسم نہیں کہلائے گی، کیونکہ یہ غیر اللہ کی قسم ہے۔‘‘ ختم شد
شیخ ابن باز رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’نماز کی قسم کھانا، اپنی ذمہ داری کی قسم کھانا، یا کسی مخلوق کی قسم کھانا جائز نہیں۔ قسم صرف اللہ کی کھائی جا سکتی ہے۔ اس لیے یہ کہنا درست نہیں کہ: میری ذمہ داری کی قسم، یا فلاں کی ذمہ داری کی قسم، یا فلاں کی زندگی کی قسم، یا میری نماز کی قسم، یا میری زکاۃ کی قسم۔ یہ سب بے اصل اور بے دلیل اعمال ہیں ، کیونکہ نماز اور زکاۃ بندے کے اعمال ہیں اور بندوں کے اعمال کی قسم کھانا جائز نہیں۔ قسم تو صرف اللہ تعالی کی یا اس کی صفات کی کھائی جا سکتی ہے۔‘‘ ختم شد
ماخوذ از: مجموع فتاویٰ ابن باز (9/345)
اس بارے میں مزید کے لیے آپ سوال نمبر: (141164) کا جواب ملاحظہ کریں۔
واللہ اعلم