امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کا مختصر تعارف

سوال 153333

امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کی سوانح عمری پیش کریں ۔

جواب کا متن

ہمہ قسم کی حمد اللہ تعالی کے لیے، اور دورو و سلام ہوں اللہ کے رسول پر، بعد ازاں:

امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کی پیدائش مشہور اور معروف قول کے مطابق ربیع الاول سنہ 164 ہجری کو بغداد میں ہوئی۔ جب آپ کی والدہ مرو سے بغداد آئیں تو آپ اس وقت حاملہ تھیں آپ کے والد مرو میں مقیم تھے۔ آپ کے والد شیبانی قبیلے سے تھے اور آپ کی والدہ بھی اسی قبیلے سے تھیں۔ اس لیے آپ نہ عجمی تھے اور نہ ہی مخلوط نسب کے حامل، بلکہ خالص عرب تھے۔ آپ کے خاندان کا اصل تعلق بصرہ سے تھا۔ آپ کے دادا سرخس کے والی تھے۔ جب عباسی دعوت ظاہر ہوئی تو انہوں نے اس کا ساتھ دیا اور اسی سلسلے میں قتل کر دیے گئے۔ آپ کے والد ایک فوجی کمانڈر تھے، لیکن آپ ابھی چھوٹے ہی تھے کہ ان کا انتقال ہو گیا۔

امام احمد کی شخصیت میں پانچ ایسی خصوصیات جمع ہو گئیں جو شاذ و نادر ہی کسی ایک شخص میں جمع ہوتی ہیں اور یہی انسان کو بلندی، رفعت اور گھٹیا امور سے دور کر دیتی ہیں اور اسے بلند مقاصد کی طرف متوجہ کر دیتی ہیں۔ یہ خصوصیات یہ تھیں: اعلیٰ نسب اور خاندان سے تعلق، بچپن کی یتیمی جس نے کم عمری ہی سے انہیں خود پر اعتماد کرنا سکھایا، ایسی غربت جو انتہائی محتاجی کی نہ تھی — نہ اتنی آسائش جو انسان کو سرکش بنا دے اور نہ اتنی تنگ دستی جو اسے ذلیل کر دے— اس کے ساتھ قناعت اور اللہ تعالیٰ کے تقویٰ کے ساتھ علمی بلندی کی طرف میلان، اور ان سب کے ساتھ تیز عقل اور غیر معمولی ذہانت۔

امام احمد بغداد ہی میں پروان چڑھے اور وہیں آپ کی ابتدائی تربیت ہوئی۔ اس زمانے میں بغداد مختلف طبقات کے لوگوں سے بھرا ہوا تھا، وہاں کے لوگوں کے رجحانات اور مقاصد مختلف تھے۔ وہاں مختلف علوم اور فنون کی بڑی رونق تھی؛ وہاں پر قرائے کرام، محدثین، صوفی، لغوی ماہرین اور فلسفی سب موجود تھے۔ اسی وجہ سے بغداد اس زمانے میں اسلامی دنیا کا علمی مرکز تھا۔

اپنی ابتدائی زندگی میں امام احمد فقہ الرائے کی طرف مائل تھے۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ انہوں نے سب سے پہلے حدیث امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے حاصل کی، جو امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے شاگرد تھے اور فقہ الرائے کے بڑے علماء میں شمار ہوتے تھے۔

اس کے بعد آپ رحمہ اللہ کا رجحان حدیث کی طرف ہو گیا۔ جب انہوں نے اپنی جوانی کے آغاز میں علمِ حدیث کے حصول کا ارادہ کیا تو انہوں نے عراق، شام اور حجاز کے علماء حدیث سے استفادہ کرنے کا عزم کیا۔ غالباً آپ رحمہ اللہ پہلے محدث تھے جنہوں نے مختلف علاقوں سے احادیث جمع کر کے انہیں مدون کیا۔ آپ شہرہ آفاق کتاب مسند احمد اس بات کی واضح گواہی دیتی ہے، کیونکہ اس میں حجاز، شام، بصرہ اور کوفہ کی احادیث بڑی جامعیت کے ساتھ جمع ہیں۔

طلبِ علم کے آغاز میں آپ رحمہ اللہ نے بغداد کے ایک بڑے محدث کی صحبت اختیار کی اور تقریباً چار سال تک ان کے ساتھ رہے، یہاں تک کہ بیس سال کی عمر کو پہنچ گئے۔ یہ استاد ہشیم بن بشیر واسطی رحمہ اللہ (متوفی 183ھ) تھے۔

پھر سنہ 186 ہجری میں آپ رحمہ اللہ نے حدیث کے حصول کے لیے اسفار کا آغاز کیا۔ اس مقصد کے لیے آپ رحمہ اللہ بصرہ ، حجاز ، یمن گئے اور کوفہ کا سفر بھی کیا۔ آپ رحمہ اللہ ریّ بھی جانا چاہتے تھے تاکہ وہاں جریر بن عبد الحمید سے علمِ حدیث حاصل کریں؛کیونکہ بغداد میں اس سے پہلے ان سے ملاقات نہ ہو سکی تھی، لیکن اس سفر کے زیادہ اخراجات نے انہیں وہاں جانے سے روک دیا۔

انہوں نے حجاز کا سفر پانچ مرتبہ کیا۔ پہلا سفر سنہ 187 ہجری میں ہوا۔ اسی سفر میں آپ رحمہ اللہ کی ملاقات امام شافعی رحمہ اللہ سے ہوئی۔ اس ملاقات میں انہوں نے ابن عیینہ رحمہ اللہ کی احادیث کے ساتھ ساتھ امام شافعی رحمہ اللہ سے فقہ، اصول اور قرآن کے ناسخ و منسوخ کے بیان سے بھی استفادہ کیا۔ بعد میں بغداد میں بھی امام شافعی رحمہ اللہ سے ان کی ملاقات ہوئی، جب امام شافعی رحمہ اللہ وہاں آئے تو ان کے پاس مرتب اور مدون فقہ اور اصول فقہ موجود تھے۔

امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے پانچ مرتبہ حج کیا، جن میں سے تین حج ایسے تھے جن میں آپ پیدل گئے۔ ایک سفر میں آپ رحمہ اللہ راستہ بھی بھول گئے تھے۔ عبادت اور طلبِ حدیث کے سفر میں مشقت برداشت کرنا انہیں پسند تھا۔

سنہ 198 ہجری میں انہوں نے ارادہ کیا کہ وہ اپنے ساتھی یحییٰ بن معین رحمہ اللہ کے ہمراہ حج کے لیے جائیں گے، اور حج کے بعد یمن کے شہر صنعاء میں محدث امام عبدالرزاق بن ہمام رحمہ اللہ سے حدیث سننے کے لیے جائیں گے۔ جب دونوں مکہ میں طوافِ قدوم کر رہے تھے تو اتفاق سے امام عبدالرزاق رحمہ اللہ بھی طواف کر رہے تھے۔ ابن معین نے انہیں دیکھ لیا، کیونکہ وہ انہیں پہچانتے تھے۔ انہوں نے سلام کیا اور کہا: یہ آپ کے بھائی احمد بن حنبل ہیں۔ عبد الرزاق نے کہا: اللہ انہیں زندگی دے اور ثابت قدم رکھے، مجھے ان کے بارے میں ہمیشہ اچھی باتیں سننے کو ملتی ہیں۔

ابن معین نے کہا: ہم کل آپ کے پاس آئیں گے تاکہ آپ سے حدیث سنیں اور اسے لکھیں۔

جب وہ وہاں سے واپس ہوئے تو امام احمد نے اعتراض کرتے ہوئے کہا: آپ نے شیخ سے ملاقات کا وقت کیوں لیا؟ ابن معین نے کہا: تاکہ ہم ان سے حدیث سن لیں، اللہ نے آپ کو ایک ماہ کے سفر اور ایک ماہ کی واپسی اور اس کے اخراجات کی مشقت سے نجات دے دی ہے۔

امام احمد نے کہا: میں اپنی نیت کو اس طرح خراب نہیں کرنا چاہتا جیسا آپ کہہ رہے ہیں۔ ہم اپنے ارادے کے مطابق سفر کریں گے اور وہاں جا کر ان سے حدیث سنیں گے۔

چنانچہ انہوں نے حج کے بعد اپنا سفر جاری رکھا اور صنعاء جا کر عبدالرزاق رحمہ اللہ سے حدیث سنی۔ سفر کے دوران ان کے پاس خرچ ختم ہو گیا تو انہوں نے کچھ مزدوروں کے ساتھ اجرت پر کام کیا، اور دوسروں کی طرف سے کسی بھی مدد کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔

امام احمد کا حدیث طلب کرنے اور روایت کرنے کا شوق اس وقت بھی برقرار رہا جب وہ امامت اور بلند مقام تک پہنچ چکے تھے۔ یہاں تک کہ ان کے ایک معاصر نے انہیں دیکھا کہ ان کے ہاتھ میں دوات ہے اور وہ لکھ رہے ہیں۔ اس نے کہا: اے ابو عبد اللہ! آپ اس مقام تک پہنچ چکے ہیں اور مسلمانوں کے امام ہیں، پھر بھی لکھ رہے ہیں؟
انہوں نے جواب دیا: دوات کا ساتھ قبر تک۔
آپ رحمہ اللہ کہا کرتے تھے: میں قبر میں جانے تک علم حاصل کرتا رہوں گا ۔

اسی طرح امام احمد اس حکمت پر عمل کرتے تھے: انسان اس وقت تک عالم رہتا ہے جب تک علم حاصل کرتا رہتا ہے، اور جب وہ یہ سمجھ لے کہ اب اسے علم حاصل ہو گیا ہے تو دراصل وہ جاہل ہو جاتا ہے۔ یہ بات ان کے عمل سے بھی ظاہر ہوتی تھی اور ان کے الفاظ سے بھی۔

آپ رحمہ اللہ حدیث کی روایت کے ساتھ ساتھ فقہ اور استنباط کا علم بھی حاصل کرتے تھے۔ یہ علم انہوں نے امام شافعی اور دیگر علماء سے حاصل کیا۔ یہاں تک کہ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ اہل الرائے کی کتابیں زبانی یاد کیے ہوئے تھے، لیکن ان پر عمل نہیں کرتے تھے۔ ان کے شاگرد خلال کہتے ہیں: ’’امام احمد نے اہلِ رائے کی کتابیں لکھی تھیں اور انہیں حفظ بھی کیا تھا، لیکن بعد میں ان کی طرف توجہ نہیں کی۔ ‘‘

ابن جوزی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ امام احمد نے چالیس سال کی عمر کے بعد ہی حدیث پڑھانے اور فتویٰ دینے کا آغاز کیا، اور اس وقت تک اسلامی دنیا میں ان کا نام پھیل چکا تھا۔ لوگ ان کے درس میں کثرت سے آنے لگے، یہاں تک کہ بعض راویوں نے ذکر کیا ہے کہ ان کے درس میں حاضر ہونے والوں کی تعداد تقریباً پانچ ہزار ہوتی تھی۔

ان میں سے تقریباً پانچ سو لوگ حدیث لکھتے تھے، جبکہ باقی لوگ ان کے اخلاق، طریقے اور طرزِ زندگی سے سیکھتے تھے۔ ان کی مجلس عصر کے بعد ہوتی تھی، اور اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی حدیث کے لیے نہایت ہیبت اور تعظیم کا ماحول ہوتا تھا۔

امام احمد کے شاگرد مروذی — جو امام احمد کے قریبی اصحاب میں سے تھے — نے ان کی مجالس کے بارے میں بیان کرتے ہوئے کہا:
’’میں نے کسی فقیر کو کسی مجلس میں اتنا معزز نہیں دیکھا جتنا ابو عبد اللہ (یعنی امام احمد) کی مجلس میں دیکھا۔ وہ فقراء کی طرف زیادہ مائل رہتے تھے اور اہلِ دنیا سے کم تعلق رکھتے تھے۔ ان میں حلم اور بردباری تھی، وہ جلد بازی کرنے والے نہیں تھے، بلکہ نہایت متواضع تھے۔ ان پر سکون اور وقار غالب رہتا تھا۔ جب وہ عصر کے بعد اپنی مجلس میں بیٹھتے تو اس وقت تک گفتگو نہ کرتے جب تک کوئی سوال نہ کیا جاتا۔ ‘‘

امام احمد حدیث بیان کرتے وقت ہمیشہ اپنی کتابوں سے روایت کرتے تھے تاکہ روایت زیادہ مضبوط اور مؤکد رہے۔ یہاں تک کہ ان کے بیٹے عبد اللہ کہتے ہیں:
’’میں نے اپنے والد کو کتاب کے بغیر حافظے سے حدیث بیان کرتے ہوئے نہیں دیکھا، سوائے بہت کم احادیث کے جو سو سے بھی کم تھیں۔‘‘

یہاں ایک اہم بات کی طرف اشارہ کرنا مناسب ہے، اور وہ یہ کہ امام احمد رحمہ اللہ کی زندگی خالص سلفی طرز کی تھی۔ انہوں نے اپنے زمانے کے فکری، سیاسی اور سماجی جھگڑوں اور مناظروں سے خود کو الگ رکھا۔ وہ اپنی روح کو صحابہ کرام اور منتخب تابعین اور ان کے نقشِ قدم پر چلنے والوں کے ماحول میں رکھنا چاہتے تھے۔ اسی لیے ان کا علم اور فقہ دراصل سنت اور فہمِ سنت تھا۔ وہ کسی مسئلے میں اس وقت تک گفتگو نہیں کرتے تھے جب تک انہیں معلوم نہ ہو جاتا کہ صحابہ کرام نے بھی اس مسئلے میں گفتگو کی ہے۔ اگر انہیں معلوم ہو جاتا کہ صحابہ نے اس میں کوئی رائے دی ہے تو وہ اسی کو اختیار کرتے اور اس کے علاوہ موقف کو ترک کر دیتے۔

امام احمد رحمہ اللہ اپنے والد کی چھوڑی ہوئی جائیداد کی آمدن سے زندگی بسر کرتے تھے۔ وہ اس جائیداد کے کرائے سے خود کو لوگوں سے بے نیاز رکھتے تھے اور کسی سے کوئی عطیہ قبول نہیں کرتے تھے۔ خاص طور پر حکمرانوں کے تحائف سے اور بھی زیادہ بچتے تھے۔ ایک مرتبہ امام شافعی رحمہ اللہ نے ان سے کہا کہ خلیفہ الامین کی درخواست پر وہ یمن میں قاضی کے عہدے کو قبول کر لیں۔ اس پر امام احمد رحمہ اللہ نے امام شافعی رحمہ اللہ سے کہا:
’’اے ابو عبد اللہ! اگر میں نے آپ سے یہ بات دوبارہ سنی تو آپ مجھے کبھی بھی اپنے پاس نہیں دیکھیں گے۔‘‘

امام شافعی رحمہ اللہ کے شاگرد حرملہ بن یحییٰ رحمہ اللہ کہتے ہیں:
’’میں بغداد سے نکلا تو وہاں احمد بن حنبل سے زیادہ پرہیزگار، متقی اور فقیہ کوئی شخص نہیں چھوڑا۔‘‘

علی بن مدینی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
’’میں ابو عبد اللہ کو پچاس سال سے جانتا ہوں اور وہ مسلسل خیر میں بڑھتے ہی گئے ہیں۔‘‘

یحییٰ بن معین رحمہ اللہ کہتے ہیں:
’’اللہ کی قسم! ہم احمد جتنی جسارت کبھی نہیں کر سکتے اور نہ ہی ان کی استقامت تک نہیں پہنچ سکتے ہیں۔ ‘‘

اسحاق بن راہویہ رحمہ اللہ کہتے ہیں:
’’میں عراق میں احمد بن حنبل، یحییٰ بن معین اور اپنے دوسرے ساتھیوں کے ساتھ بیٹھتا تھا۔ ہم ایک حدیث کو ایک، دو یا تین مختلف سندوں سے ذکر کرتے تھے۔ پھر میں پوچھتا: اس کا مقصد کیا ہے؟ اس کی تفسیر کیا ہے؟ اس سے کیا فقہی حکم نکلتا ہے؟ تو سب لوگ خاموش ہو جاتے تھے، سوائے احمد بن حنبل رحمہ اللہ کے۔‘‘

امام احمد رحمہ اللہ کو ایک بڑی آزمائش کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ خلیفہ مأمون نے فقہاء اور محدثین کو مجبور کیا کہ وہ اس کے اس موقف کو مانیں کہ قرآن مخلوق ہے۔ اس مسئلے کی وجہ سے امام احمد کو قید کیا گیا اور انہیں کوڑے بھی لگائے گئے۔ اس آزمائش کا سلسلہ تین خلفاء کے زمانے تک جاری رہا: مأمون، معتَصِم اور واثق۔

امام احمد رحمہ اللہ کا صبر، ثابت قدمی اور قوتِ برداشت بہت مشہور تھی ۔ سوانح نگار ایک واقعہ ذکر کرتے ہیں کہ قید کے دنوں میں انہیں خلیفہ کے سامنے لایا گیا۔ لوگوں نے انہیں بہت ڈرایا دھمکایا تاکہ وہ ایسی بات کہہ دیں جو انہیں قید نجات دلوا دے اور حکمرانوں کو راضی کر دے۔ ان کی موجودگی میں دو آدمیوں کی گردن بھی اڑا دی گئی !

اسی خوفناک منظر کے درمیان اچانک ان کی نظر شافعی فقہائے کرام پر پڑی۔ تو امام احمد رحمہ اللہ نے ان سے پوچھا: امام شافعی کے مسح علی الخفین کے بارے میں اقوال سے آپ کو کیا یاد ہے؟ اس سوال نے حاضرین کو حیران کر دیا اور وہ اس مضبوط دل پر دنگ رہ گئے جسے اللہ تعالیٰ نے ثابت قدم رکھا تھا۔ یہاں تک کہ ان کے مخالف احمد بن ابی دؤاد نے بھی حیرت سے کہا: اس شخص کو دیکھو! اسے ابھی گردن اتارنے کے لیے پیش کیا جا رہا ہے اور یہ فقہ کے مسائل پر گفتگو کر رہا ہے۔

یہ دراصل مضبوط ارادہ، گہرا ایمان اور اللہ تعالیٰ کے فیصلے کے سامنے سپردگی کی کیفیت تھی۔

یہ عظیم امام جمعہ کے دن صبح کے وقت، ربیع الاول سنہ 241 ہجری میں بغداد میں وفات پا گئے۔ اس وقت اس مہینے کی بارہ راتیں گزر چکی تھیں۔

امام احمد رحمہ اللہ کی سیرت میں بے شمار عبرتیں اور نصیحتیں موجود ہیں۔ اللہ تعالیٰ امام احمد اور تمام ائمۂ مسلمین پر رحم فرمائے۔

مزید تفصیل کے لیے شیخ محمد ابو زہرہ کی کتاب "أحمد بن حنبل: حياته وعصره، آراؤه وفقهه" دیکھی جا سکتی ہے۔

واللہ اعلم

حوالہ جات

فضائل و مناقب

ماخذ: 

الاسلام سوال و جواب

Previous
آگے
at email

ایمیل خبرنامہ

اسلام سوال و جواب کی میلنگ لسٹ میں شامل ہوں

phone

اسلام سوال و جواب ایپ

مواد تک فوری رسائی اور آف لائن مطالعہ کے لیے

download iosdownload android