اول:
جنازہ تیزی سے لے جانا سنت ہے؛ کیونکہ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جنازے کو جلدی لے جاؤ، کیونکہ اگر وہ نیک ہے تو تم اسے بھلائی کی طرف جلد پہنچا رہے ہو، اور اگر اس کے علاوہ ہے تو وہ شر ہے جسے تم اپنی گردنوں سے اتار رہے ہو۔‘‘ (بخاری: 1315، مسلم: 944)
امام نووی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
’’علمائے کرام کا اس بات پر اتفاق ہے کہ جنازہ تیزی سے لے جانا مستحب ہے، الا یہ کہ تیز رفتاری سے میت کے پھٹ جانے یا کسی نقصان کا اندیشہ ہو تو پھر آہستگی اختیار کی جائے۔‘‘ ختم شد
ماخوذ از: شرح المہذب (2/235)
ابن قدامہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’ائمہ کے درمیان اس بات میں کوئی اختلاف نہیں کہ جنازہ جلدی لے جانا مستحب ہے، اور اسی بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی واضح ہدایت موجود ہے کہ: (جنازہ جلدی لے چلو ۔۔۔) متفق علیہ۔‘‘ ختم شد
ماخوذ از: المغنی: (2/174)
تاہم اس تیزی سے مراد یہ نہیں کہ جنازے کو لے کر دوڑایا جائے یا جھٹکے دیے جائیں؛ بلکہ مراد یہ ہے کہ عام چلنے سے کچھ تیز چلا جائے، لیکن حد سے زیادہ نہیں، کیونکہ ایسا کرنے سے میت کو تکلیف پہنچ سکتی ہے اور جنازے کے ساتھ چلنے والے کمزور افراد کے لیے دشواری پیدا ہو سکتی ہے۔
امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’مقصود یہ ہے کہ رفتار عام چال سے کچھ زیادہ ہو، مگر دوڑنے کے درجے تک نہ پہنچے؛ تاکہ کمزور لوگ جنازے کے ساتھ چلنے سے محروم نہ ہوں۔ البتہ اگر میت کے بارے میں تغیر، سوجن یا پھٹنے کا اندیشہ ہو تو رفتار مزید بڑھائی جا سکتی ہے۔‘‘ ختم شد
ماخوذ از: شرح المہذب (5/235)
بہوتی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’حدیث مبارکہ (جنازہ جلدی لے چلو ۔۔۔) متفق علیہ کی وجہ سے جنازہ تیزی کے ساتھ لے کر جانا سنت ہے، لیکن ایسی تیز رفتاری نہ ہو جو اسے ہلائے جلائے؛ کیونکہ اس سے جنازہ اٹھانے والوں اور پیچھے چلنے والوں کو اذیت ہوتی ہے۔‘‘ ختم شد
ماخوذ از: دقائق أولي النهى (1/369)
خَبَب سے مراد: لمبے قدم اٹھاتے ہوئے تیزی سے چلنا ہے۔
شیخ ابن باز رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’جنازہ تیزی سے لے جانا سنت ہے، بشرطیکہ اس میں مشقت نہ ہو۔‘‘ ختم شد
ماخوذ از: مجموع الفتاوى (13/180)
شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’ایسی تیز رفتاری مناسب نہیں جو جنازے کے ساتھ چلنے والوں کے لیے دشوار ہو، یا جس سے میت کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو، یا حرکت کی وجہ سے اس کے جسم سے کچھ خارج ہونے کا خطرہ ہو۔‘‘ ختم شد
ماخوذ از: مجموع فتاوى ابن عثیمین (17/172)
شیخ عبد المحسن العباد شرح سنن ابو داود میں فرماتے ہیں:
’’۔۔۔ ، جنازے کو قبرستان کی طرف تیزی سے لے جایا جائے، لیکن اس انداز سے کہ اس تیز رفتاری سے نہ جنازہ اٹھانے والوں کو کوئی نقصان پہنچے اور نہ خود جنازے کو؛ مثلاً تیز رفتاری کی وجہ سے اٹھانے والوں میں سے کسی کو ٹھوکر لگ جائے اور وہ گر پڑے، تو اس کے گرنے کے نتیجے میں جنازہ بھی گر جائے۔ رفتار مناسب ہونی چاہیے؛ نہ چلنے میں سستی ہو اور نہ اتنی شدید تیزی کہ اس سے جنازے یا اسے اٹھانے والوں کو نقصان پہنچے ۔‘‘ ختم شد
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’ خلاصہ یہ ہے کہ جنازہ تیزی سے لے جانا مستحب ہے، لیکن رفتار اتنی زیادہ نہ ہو کہ میت کے ساتھ کوئی خرابی پیش آنے یا جنازہ اٹھانے والے اور اس کے ساتھ چلنے والے کو مشقت لاحق ہونے کا اندیشہ ہو؛ تاکہ صفائی کا مطلوبہ مقصد فوت نہ ہو اور کسی مسلمان کو مشقت میں نہ ڈالا جائے۔ ‘‘ ختم شد
ماخوذ از: فتح الباری (3/184)
واللہ اعلم