اول:
جھوٹ بڑے بُرے گناہوں اور نہایت قبیح عیوب میں سے ہے۔
چنانچہ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: (بے شک سچائی نیکی کی طرف رہنمائی کرتی ہے، اور نیکی جنت کی طرف لے جاتی ہے۔ اور آدمی مسلسل سچ بولتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ اللہ کے نزدیک صدیق لکھ دیا جاتا ہے۔ اور بے شک جھوٹ فجور کی طرف لے جاتا ہے، اور فجور جہنم کی طرف لے جاتا ہے۔ اور آدمی جھوٹ بولتا رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ کے نزدیک جھوٹا لکھ دیا جاتا ہے۔) اسے بخاری (6094) اور مسلم (2607) نے روایت کیا ہے۔
اور عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے صحابہ کے نزدیک جھوٹ سے بڑھ کر کوئی عادت ناپسندیدہ نہ تھی۔ اور اگر کسی شخص سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے سامنے کوئی جھوٹ سر زد ہو جاتا تو آپ کے دل میں اس کے بارے میں وہ بات باقی رہتی، یہاں تک کہ معلوم ہو جاتا کہ اس نے اس جھوٹ سے توبہ کر لی ہے۔‘‘ اسے احمد نے ’’المسند‘‘ (42/101) میں روایت کیا ہے اور محققین نے اس کی سند کو صحیح قرار دیا ہے۔
دوم:
صحیح شرعی دلائل سے معلوم ہوتا ہے کہ جھوٹ کی حرمت سے بعض خاص صورتیں مستثنیٰ ہیں۔
ان دلائل میں سے ایک ام کلثوم بنت عقبہ رضی اللہ عنہا کی روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے ہوئے سنا:
(وہ شخص جھوٹا نہیں ہے جو لوگوں کے درمیان صلح کراتا ہے، اچھی بات کہتا ہے اور اچھی بات کو پہنچاتا ہے۔) اسے مسلم (2605) نے روایت کیا ہے۔
اور علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کا قول ہے: ’’جب میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی طرف منسوب کر کے کوئی بات بیان کروں تو میرے لیے آسمان سے گر پڑنا اس بات سے زیادہ محبوب ہے کہ میں آپ پر جھوٹ باندھوں۔ لیکن جب میں تم سے اپنے اور تمہارے درمیان کی کوئی بات کہوں تو جنگ چکمہ دینے کا نام ہے۔‘‘ اسے بخاری (3611) اور مسلم (1066) نے روایت کیا ہے۔
سوم:
علمائے کرام نے سابقہ دلائل اور دیگر نصوص سے بعض احکام اخذ کیے ہیں، جن میں سے چند یہ ہیں:
1۔ جھوٹ اپنی ذات میں حرام نہیں، بلکہ اس لیے حرام ہے کہ اس سے مختلف قسم کے مفاسد پیدا ہوتے ہیں۔
2۔ اگر جھوٹ کے ذریعے کسی بڑی برائی کو دور کرنا مقصود ہو یا اس کے ذریعے کوئی بڑی مصلحت حاصل ہوتی ہو تو اس وقت جھوٹ بولنا جائز ہو جاتا ہے۔
لیکن اس معاملے میں سستی اور لا پرواہی نہیں ہونی چاہیے کہ ہر جھوٹ کو کسی مفسدہ کو دور کرنے کا بہانہ بنا لیا جائے، بلکہ مصالح اور مفاسد کے درمیان درست موازنہ ضروری ہے۔
3۔ جو شخص جھوٹ بولنے سے بچ سکتا ہو اور اس کے بجائے توریہ یا معاریض (یعنی ایسا کلام جس کے دو معنی ہوں) استعمال کر سکتا ہو تو بلا شک یہ زیادہ بہتر اور افضل ہے۔
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
’’بلاشبہ کلام میں معاریض ایسی چیز ہے جو آدمی کو جھوٹ سے بے نیاز کر دیتی ہے۔‘‘
اسے بیہقی نے ’’السنن الكبرى‘‘ (10/199) میں روایت کیا ہے۔
معاریض کا معنی یہ ہے کہ انسان ایسا کلام کرے جس سے سننے والا ایک معنی سمجھے جبکہ بولنے والا اس سے دوسرا معنی مراد لے۔
ذیل میں اس مسئلے کی وضاحت میں بعض علماء کے اقوال ہیں:
ابو حامد غزالی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
’’یہ بات جان لو کہ جھوٹ اپنی ذات میں حرام نہیں، بلکہ اس لیے حرام ہے کہ اس سے مخاطب یا کسی دوسرے کو نقصان پہنچتا ہے۔ اس کا کم سے کم درجہ یہ ہے کہ جسے خبر دی جائے وہ کسی چیز کو اس کی اصلی حالت سے ہٹ کر سمجھنے لگے اور اس طرح وہ جاہل بن جائے، اور کبھی اس سے دوسروں کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے۔
اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ کسی جہالت میں فائدہ اور مصلحت ہوتی ہے، اور جھوٹ اس جہالت کو پیدا کرنے کا ذریعہ بنتا ہے، اس لیے بعض صورتوں میں اس کی اجازت ہو سکتی ہے بلکہ کبھی واجب بھی ہو جاتا ہے۔
ہم کہتے ہیں کہ کلام دراصل مقاصد تک پہنچنے کا ایک ذریعہ ہے:
1۔ ہر وہ مقصد جو اچھا ہو اور جس تک سچ اور جھوٹ دونوں کے ذریعے پہنچا جا سکتا ہو، وہاں جھوٹ بولنا حرام ہے۔
2۔ اور اگر اس مقصد تک سچ کے ذریعے نہیں بلکہ صرف جھوٹ کے ذریعے پہنچا جا سکتا ہو تو اگر وہ مقصد مباح ہو تو جھوٹ بھی مباح ہو گا۔
3۔ اور اگر وہ مقصد واجب ہو تو جھوٹ بھی واجب ہو جائے گا۔ مثال کے طور پر مسلمان کی جان کی حفاظت واجب ہے، لہٰذا اگر کسی ظالم سے چھپے ہوئے مسلمان کے بارے میں سچ بولنے سے اس کا خون بہایا جانے کا اندیشہ ہو تو وہاں جھوٹ بولنا واجب ہو جائے گا۔
اسی طرح اگر جنگ کے مقصد کی تکمیل، یا لوگوں کے درمیان صلح کرانا، یا مظلوم کے دل کو مطمئن کرنا جھوٹ کے بغیر ممکن نہ ہو تو اس صورت میں جھوٹ جائز ہو جاتا ہے۔ البتہ جہاں تک ممکن ہو اس سے بچنے کی کوشش کرنی چاہیے؛ کیونکہ اگر انسان اپنے لیے جھوٹ کا دروازہ کھول لے تو اندیشہ ہے کہ وہ ایسی صورتوں میں بھی جھوٹ بولنے لگے جن میں اس کی ضرورت نہیں، اور وہ ضرورت کی حد سے آگے بڑھ جائے۔ اس طرح جھوٹ اصل میں حرام ہی رہتا ہے، سوائے اس کے کہ کوئی ضرورت پیش آ جائے۔
چنانچہ یہی وہ تین صورتیں ہیں جن میں جھوٹ کے جواز کی صراحت آئی ہے، اور ان کے علاوہ وہ تمام صورتیں بھی اسی معنی میں شامل ہو سکتی ہیں جن میں کسی صحیح مقصد کا تعلق ہو، خواہ وہ مقصد اس کے اپنے لیے ہو یا کسی دوسرے کے لیے۔‘‘
مثال کے طور پر اگر کسی ظالم نے کسی شخص کو پکڑ لیا اور اس سے اس کے مال کے بارے میں پوچھا تو وہ اس کا انکار کر سکتا ہے۔ اسی طرح اگر کوئی حاکم اسے پکڑ کر اس سے کسی ایسے گناہ کے بارے میں پوچھے جو اس نے اپنے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان کیا ہو تو وہ اس کا بھی انکار کر سکتا ہے اور کہہ سکتا ہے: میں نے زنا نہیں کیا اور نہ چوری کی۔
کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: (جس شخص سے ان گندی باتوں میں سے کوئی سرزد ہو جائے اسے چاہیے کہ اللہ کی پردہ پوشی کے ساتھ خود کو چھپائے۔)
اس کی وجہ یہ ہے کہ گناہ کو ظاہر کرنا خود ایک اور گناہ ہے۔ لہٰذا انسان کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے خون، اپنے مال — جسے ظلم کے ساتھ چھینا جا رہا ہو — اور اپنی عزت کی حفاظت کرے، خواہ اسے اپنی زبان سے انکار ہی کیوں نہ کرنا پڑے، اگرچہ بظاہر وہ جھوٹ ہی ہو۔
اسی طرح اگر کسی سے اس کے بھائی کا راز پوچھا جائے تو وہ اس کا انکار کر سکتا ہے۔
اسی طرح اگر کوئی شخص دو لوگوں کے درمیان صلح کرانا چاہے، یا اپنی بیویوں کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے ہر ایک سے یہ کہے کہ وہ اسے زیادہ عزیز ہے، اگرچہ حقیقت میں ایسا نہ ہو، تو اس میں بھی گنجائش ہے۔ اسی طرح اگر بیوی کسی وعدے کے بغیر راضی نہ ہوتی ہو تو اس کے دل کو خوش کرنے کے لیے وقتی وعدہ کر لینا، یا کسی شخص سے معذرت کرتے وقت اس کے دل کو مطمئن کرنے کے لیے اپنی غلطی کا انکار کر دینا یا زیادہ محبت اور نرمی کا اظہار کرنا — اس میں بھی گنجائش ہے۔
لیکن اس معاملے میں اصل اصول یہ ہے کہ جھوٹ خود ایک قابلِ اجتناب چیز ہے۔ البتہ بعض مواقع پر سچ بولنے سے بھی نقصان پیدا ہو سکتا ہے۔ اس لیے دونوں پہلوؤں کا موازنہ کرنا ضروری ہے اور عدل کے ترازو سے فیصلہ کرنا چاہیے۔
اگر یہ معلوم ہو کہ سچ بولنے سے جو نقصان ہو گا وہ شریعت کے اعتبار سے جھوٹ کے نقصان سے زیادہ بڑا ہے تو اس صورت میں جھوٹ بولنے کی اجازت ہے۔ اور اگر مطلوب مقصد سچائی کے مقصد سے کم درجے کا ہو تو سچ بولنا لازم ہو گا۔ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ دونوں پہلو برابر محسوس ہوتے ہیں اور انسان تردد میں پڑ جاتا ہے، تو اس صورت میں سچائی کو اختیار کرنا زیادہ بہتر ہے؛ کیونکہ جھوٹ صرف ضرورت یا کسی اہم مصلحت کی وجہ سے ہی جائز ہوتا ہے۔ اگر اس بات میں شک ہو کہ ضرورت واقعی اہم ہے یا نہیں تو اصل حکم حرمت ہی ہے اور اسی کی طرف رجوع کیا جائے گا۔
چونکہ مقاصد اور مصالح کے درجات کو سمجھنا ہمیشہ آسان نہیں ہوتا، اس لیے انسان کو چاہیے کہ جہاں تک ممکن ہو جھوٹ سے بچنے کی کوشش کرے۔ اسی طرح اگر معاملہ صرف اس کی اپنی ذات کے فائدے سے متعلق ہو تو بہتر ہے کہ وہ اپنے ذاتی فائدے کو چھوڑ دے اور جھوٹ سے بچ جائے۔ لیکن اگر معاملہ کسی دوسرے کے حق سے متعلق ہو تو وہاں نرمی یا چشم پوشی درست نہیں؛ کیونکہ اس سے دوسرے کے حق کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ زیادہ تر لوگوں کا جھوٹ ان کے ذاتی مفادات کی وجہ سے ہوتا ہے۔ وہ مال اور مرتبے میں اضافہ حاصل کرنے کے لیے جھوٹ بولتے ہیں یا ایسے معاملات میں جھوٹ بولتے ہیں جن کے فوت ہونے میں کوئی بڑا نقصان نہیں ہوتا۔ یہاں تک کہ بعض عورتیں اپنے شوہر کے بارے میں ایسی باتیں بیان کرتی ہیں جن پر وہ فخر کرتی ہیں، اور اپنی سوتن کو جلانے کے لیے جھوٹ بولتی ہیں، حالانکہ یہ حرام ہے۔
اسماء رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: ’’میری ایک سوتن ہے، اور میں اپنے شوہر کے بارے میں ایسی چیز ظاہر کرتی ہوں جو اس نے مجھے نہیں دی ہوتی، تاکہ میں اسے جلاؤں۔ کیا اس میں مجھ پر کوئی گناہ ہے؟‘‘ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (جو شخص ایسی چیز پر فخر کرے جو اسے دی ہی نہیں گئی، وہ جھوٹ موٹ کے دو کپڑے پہننے والے کی طرح ہے۔) متفق علیہ
اور جو شخص بھی جھوٹ بولتا ہے وہ دراصل ایک نازک معاملے میں قدم رکھتا ہے؛ کیونکہ اسے یہ پرکھنا پڑتا ہے کہ جس مقصد کے لیے وہ جھوٹ بول رہا ہے، کیا وہ شریعت کے نزدیک سچ بولنے سے زیادہ اہم ہے یا نہیں۔ اور یہ معاملہ بہت باریک اور مشکل ہے۔ اس لیے احتیاط اسی میں ہے کہ جھوٹ سے اجتناب کیا جائے، الا یہ کہ وہ ایسی صورت بن جائے جہاں جھوٹ بولنا ضروری ہو اور اسے چھوڑنا جائز نہ ہو، جیسے اس کے بغیر کسی بے گناہ کا خون بہنے کا اندیشہ ہو یا کسی گناہ کے وقوع کا خطرہ ہو۔
سلف سے یہ بات منقول ہے کہ توریہ اور معاریض میں جھوٹ سے بچنے کی گنجائش ہوتی ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
’’بلاشبہ معاریضِ کلام میں انسان کے لیے جھوٹ سے بچنے کی کافی گنجائش موجود ہے‘‘۔
یہی بات ابن عباس رضی اللہ عنہما اور دیگر اہلِ علم سے بھی منقول ہے۔
ان حضرات کی مراد یہ ہے کہ جب انسان کو واقعی جھوٹ بولنے کی مجبوری پیش آئے تو وہ معاریض کا طریقہ اختیار کر لے۔ لیکن اگر کوئی حقیقی ضرورت اور مجبوری نہ ہو تو نہ صاف جھوٹ بولنا جائز ہے اور نہ ہی معاریض اختیار کرنا، البتہ اگر کبھی دونوں میں سے کسی ایک کی نوبت آ جائے تو معاریض جھوٹ سے ہلکا ہوتا ہے۔ ‘‘مختصراً ختم شد
ماخوذ از: احیاء علوم الدین (3/136-139 )
امام عز بن عبدالسلام رحمہ اللہ کہتے ہیں:
’’جھوٹ اصل میں ایک خرابی اور حرام چیز ہے، مگر اگر اس میں کسی مصلحت کا حصول یا کسی مفسدہ کو دور کرنا مقصود ہو تو بعض اوقات یہ جائز ہو جاتا ہے اور کبھی واجب بھی ہو جاتا ہے۔ اس کی مثالیں بھی ہیں:
ان میں سے ایک مثال یہ ہے کہ آدمی اپنی بیوی سے تعلقات درست رکھنے اور اچھا برتاؤ قائم رکھنے کے لیے کوئی بات کہے تو اس کی گنجائش ہے۔
اسی طرح لوگوں کے درمیان صلح کرانے کے لیے جھوٹ بولنا بھی جائز ہے، بلکہ اس کی مصلحت عام ہونے کی وجہ سے اس کی اجازت اور بھی واضح ہے۔‘‘
پھر انہوں نے ایسی کئی صورتیں ذکر کیں جن میں جھوٹ کی اجازت ہوتی ہے، اور آخر میں فرمایا:
’’حقیقت یہ ہے کہ ان اور اس جیسی صورتوں میں جھوٹ کی اجازت دی جاتی ہے‘‘۔
ماخوذ از: قواعد الأحكام، ص: 112
امام ابن حزم رحمہ اللہ کہتے ہیں:
’’ہر جھوٹ گناہ نہیں ہوتا؛ بلکہ بعض اوقات ایسا جھوٹ بھی ہوتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور واجب عمل بن جاتا ہے، اور جو اسے ترک کرے وہ گناہ گار ہوتا ہے۔
یہ بات ثابت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (وہ شخص جھوٹا نہیں جو لوگوں کے درمیان صلح کرانے کے لیے اچھی بات پہنچائے۔)
اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے آدمی کو اپنی بیوی سے وہ بات کہنے کی اجازت دی ہے جس سے اس کی محبت حاصل ہو جائے، اور اسی طرح جنگ میں بھی جھوٹ بولنے کی اجازت دی گئی ہے۔
پھر انہوں نے اس بات پر اجماع نقل کیا کہ اگر کوئی ظالم حکمران کسی مسلمان کے بارے میں پوچھے تاکہ اسے ناحق قتل کرے تو اس وقت مسلمان پر لازم ہے کہ وہ جھوٹ بول کر اس کی جگہ چھپا لے۔ اور اگر وہ سچ بتا دے اور اس کا ٹھکانہ ظاہر کر دے تو وہ فاسق اور گناہ گار ہو گا۔‘‘ ختم شد
ماخوذ از: الفصل في الملل، (4/5)
چہارم:
جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ کسی طالب علم کے نمبروں یا مجموعی درجے کے بارے میں اس کی اصل حقیقت کے خلاف بتایا جائے، صرف اس خوف سے کہ اسے نظر لگ جائے یا لوگ اس سے حسد کریں، تو یہ ایسی مجبوری نہیں ہے جو جھوٹ کو جائز بنا دے۔
اللہ تعالیٰ اہلِ ایمان کی خود حفاظت فرماتا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
إِنَّ اللَّهَ يُدَافِعُ عَنْ الَّذِينَ آمَنُوا
ترجمہ:’’بے شک اللہ تعالیٰ ایمان والوں کا دفاع فرماتا ہے۔‘‘ (الحج: 38)
لہٰذا مسلمان کو یہ مناسب نہیں کہ وہ اپنی زندگی کو حسد کرنے والوں اور نظر لگانے والوں کے خوف سے بھر لے۔
البتہ اس صورت میں اگر وہ گفتگو میں معاریض (یعنی ایسا اندازِ کلام جس کا ظاہری مطلب کچھ اور سمجھا جائے اور بولنے والے کی مراد کچھ اور ہو) استعمال کر سکے تو اس کی گنجائش ہے اور اس میں کوئی حرج نہیں۔
اور اگر وہ معاریض کا طریقہ اختیار نہ کر سکے تو پھر اسے سچ ہی کہنا چاہیے اور اللہ تعالیٰ پر بھروسا کرنا چاہیے، اور یہ یقین رکھنا چاہیے کہ مخلوق میں سے کوئی بھی اسے نقصان نہیں پہنچا سکتا مگر وہی جو اللہ تعالیٰ نے اس کے حق میں لکھ دیا ہو۔
واللہ اعلم