سونے سے پہلے وضو کرنے کے فضائل سے متعلق احادیث کی صحت

سوال 160973

سونے سے پہلے وضو کریں:
مجھے موبائل پر ایک حدیث موصول ہوئی ہے اور میں اس کی صحت کے بارے میں جاننا چاہتا ہوں:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ’’جو شخص سونے سے پہلے وضو کر لے، اس کے ساتھ ایک فرشتہ رات بسر کرتا ہے، جب بھی وہ حرکت کرتا ہے تو فرشتہ کہتا ہے: اے اللہ! اس کو بخش دے۔‘‘
براہ کرم بتائیں کہ کیا یہ حدیث صحیح ہے؟

جواب کا متن

ہمہ قسم کی حمد اللہ تعالی کے لیے، اور دورو و سلام ہوں اللہ کے رسول پر، بعد ازاں:

سائل نے جن الفاظ کے ساتھ حدیث نقل کی ہے، وہ الفاظ حدیث کی معتبر کتب میں کسی جگہ نہیں پائے گئے۔ بظاہر لگتا ہے کہ بیان کرنے والے نے حدیث کا مفہوم بیان کیا ہے، کیونکہ اسی معنی کی دو احادیث منقول ہیں جو اس مفہوم پر دلالت کرتی ہیں:

پہلی روایت کے الفاظ یہ ہیں:
’’جس نے حالتِ طہارت میں رات گزاری، اس کے کپڑوں کے اندر ایک فرشتہ رات گزارتا ہے۔ جب وہ نیند سے بیدار ہوتا ہے تو فرشتہ کہتا ہے: اے اللہ! اپنے اس بندے کو بخش دے، کیونکہ اس نے حالتِ طہارت میں رات گزاری ہے۔‘‘ ختم شد۔

یہ حدیث امام عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ نے اپنی کتاب الزہد (حدیث: 64) میں روایت کی ہے، جس کی سند درج ذیل ہے:
الحسن بن ذكوان اسے سلیمان الأحول سے وہ عطاء سے اور وہ ابن عمر رضی اللہ عنہما اور آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے بیان کرتے ہیں۔ پھر اسی سند کے ساتھ اس حدیث کو ابن حبان رحمہ اللہ نے اپنی صحیح (حدیث: 1051) میں بھی روایت کیا ہے۔

تاہم اس کی سند ضعیف ہے، کیونکہ الحسن بن ذكوان کو امام احمد، ابن معین اور دیگر ائمہ نے ضعیف قرار دیا ہے۔
دیکھیں: ميزان الاعتدال: (1/489)

البتہ اس حدیث کی تائید میں طبرانی نے المعجم الكبير (حدیث: 13620) میں ایک دوسری روایت بھی بیان کی ہے:  جو کہ انہوں نے اسماعیل بن عیاش سے انہوں نے عباس بن عتبہ سے  انہوں نے عطاء بن ابی رباح سے اور وہ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ’’اپنے جسموں کو پاک رکھو، اللہ تمہیں پاک رکھے، کیونکہ کوئی بندہ ایسا نہیں جو وضو کی حالت میں رات گزارے مگر یہ کہ اس کے لباس کے اندر ایک فرشتہ رات گزارتا ہے، جو رات کے کسی بھی لمحے میں اس کے کروٹ بدلنے پر کہتا ہے: اے اللہ! اپنے اس بندے کو بخش دے، کیونکہ وہ وضو کی حالت میں رات گزار رہا ہے۔‘‘

عقیلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’عباس بن عتبة عن عطاء، اس سند سے اسماعیل بن عیاش روایت کرتا ہے، اس کی یہ حدیث صحیح نہیں۔‘‘
پھر یہی حدیث ذکر کر کے فرمایا:
’’یہ روایت دوسری سند سے بھی مروی ہے مگر وہ سند بھی کمزور ہے۔‘‘ ختم شد
ماخوذ از: ’’ الضعفاء الكبير ‘‘ (3/361-362)

تاہم بعض اہلِ علم نے مجموعی شواہد کی بنیاد پر اس حدیث کو حسن قرار دیا ہے۔
تفصیلات کے لیے دیکھیں: ’’ الترغيب والترهيب ‘‘از علامہ منذری  (1/231) اسی طرح ’’ مجمع الزوائد ‘‘از علامہ ہیثمی(1/226) اور ’’ سلسلہ صحیحہ‘‘ از علامہ البانی  حدیث نمبر: (2539)

اسی مفہوم کی ایک روایت طبرانی نے الأوسط (حدیث: 5087) میں ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی بیان کی ہے، اگرچہ تمام اسناد میں کچھ نہ کچھ ضعف پایا جاتا ہے، لیکن مجموعی طور پر یہ ایک دوسرے کی تقویت دیتی ہیں۔
اسی لیے شیخ البانی رحمہ اللہ نے اسے حسن لغیره قرار دیا ہے۔  دیکھیں:’’ صحیح الترغيب والترهيب ‘‘ حدیث:( 599)

حدیث کے عربی متن میں موجود لفظ ’’ شعار‘‘(شین کی زیر کے ساتھ) سے مراد وہ کپڑا ہے جو بدن کے ساتھ لگا ہوتا ہے، یعنی بدن کو ڈھانپنے والی چیز۔

واضح رہے کہ سونے سے پہلے وضو کرنا سنتِ صحیحہ سے ثابت ہے، جیسا کہ سوال نمبر (12782) میں اس کی تفصیل گزر چکی ہے۔

واللہ اعلم

حوالہ جات

فضائل اعمال

ماخذ

الاسلام سوال و جواب

Previous
آگے
answer

متعلقہ جوابات

at email

ایمیل خبرنامہ

اسلام سوال و جواب کی میلنگ لسٹ میں شامل ہوں

phone

اسلام سوال و جواب ایپ

مواد تک فوری رسائی اور آف لائن مطالعہ کے لیے

download iosdownload android