اتوار 8 ربیع الاول 1442 - 25 اکتوبر 2020
اردو

مسجد کے قبلے کی جانب بیت الخلاء بنانے کا حکم اور وہاں نماز پڑھنے کا حکم

سوال

سوال: بندر گاہ پر ایک چھوٹی سی مسجد ہے اور اس کے قبلے کی جانب بیت الخلاء بنے ہوئے ہیں درمیان میں صرف ایک دیوار ہے، تو کیا ایسا جائز ہے کہ قبلہ سمت میں بیت الخلاء بنے ہوئے ہوں؟

جواب کا متن

الحمد للہ.

اول:

متعدد سلف صالحین سے  بیت الخلاء اور قضائے حاجت کیلیے استعمال ہونے والی جگہوں کی جانب رخ کر کے نماز پڑھنے سے منع کرنا منقول ہے، ان جگہوں کو پہلے عربی زبان میں "حُش" کہتے تھے، چنانچہ عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ : "بیت الخلاء، غسل خانے اور قبرستان کی جانب رخ کر کے نماز ادا مت کرو"
اسے ابن ابی شیبہ نے " المصنف" (2/379) میں روایت کیا ہے۔

اور اسی طرح عبد الرزاق اپنی کتاب " المصنف" (1/405)  میں ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ: " تم بیت الخلاء، غسل خانے اور قبرستان کی جانب رخ کر کے نماز بالکل ادا نہ کرو " انتہی

اسی طرح ابراہیم نخعی تابعی  کہتے ہیں کہ:
"سلف قبلہ سمت میں بیت الخلاء، غسل خانہ اور قبرستان بنانا مکروہ سمجھتے تھے"
اسے ابن ابی شیبہ نے " المصنف" (2/380) میں روایت کیا ہے۔

ان کا مطلب یہ ہے کہ مسجد کے قبلہ کی جانب ان تینوں چیزوں کو بنانا مکروہ سمجھتے تھے۔

جبکہ "مصنف عبد الرزاق" (1/405) میں اس اثر کے الفاظ کچھ یوں ہیں:
"سلف مکروہ سمجھتے تھے کہ تین قسم کی چیزیں قبلے کی سمت میں بنائی جائیں: قبر، حمام، اور بیت الخلاء" انتہی

امام احمد سے پوچھا گیا کہ : قبر، حمام، اور بیت الخلاء کی جانب رخ کر کے نماز پڑھنا کیسا ہے؟
تو انہوں نے جواب دیا:
"یہ مناسب بات نہیں ہے کہ قبلہ سمت میں : قبر، حمام، اور بیت الخلاء  ہو" انتہی
" المغنی" از: ابن قدامہ(2/473)

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"ان تینوں جگہوں کی قبلہ رخ ہونے میں کراہت کی وجہ یہ ہے کہ: ایک تو صحابہ کرام اور تابعین عظام سے پہلے بغیر کسی کے اختلاف کے ممانعت گزر چکی ہے، دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ قبروں کی پرستش کی جاتی رہی ہے ، تو ان کی جانب رخ کر کے نماز پڑھنا بتوں کی جانب نماز پڑھنے سے مشابہ2 ہو گا اور یہ حرام ہے اگرچہ نمازی کی نیت میں ایسی کوئی بات نہیں ہوتی، تاہم پھر بھی اگر کوئی شخص کسی بت کے سامنے نماز پڑھے تو یہ جائز نہیں ہو گا۔

جبکہ بیت الخلاء اور حمام دونوں شیاطین کے رہنے کی جگہیں ہیں، اور شیطان کی طرف سے نماز توڑنے کی کوشش ناکام بنانے کیلیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سترے کے قریب کھڑے ہونے کا حکم دیا ہے ۔۔۔ تو  ایسی جگہ جہاں رہتے ہیں  وہاں تو شیطان کے نمازی کے آگے سے گزرنے  کا یقینی خدشہ موجود ہے؛ نیز اسی طرح نماز کسی چیز کی جانب رخ کر کے ادا کریں تو وہ نماز کے قبلے کی سمت میں ہو گی اسی لیے نماز کیلیے قبلہ متعین کیا گیا اور نماز جس سمت کی جانب رخ کرتا ہے وہ نماز کا قبلہ ہوتا ہے اسی لیے ہمیں نماز میں اعلی اور افضل ترین مقام بیت اللہ کی جانب نماز میں رخ کرنے کا حکم دیا گیاہے۔

اس لیے نمازی ایسی جگہوں کی جانب چہرہ کر کے قبلہ رخ مت ہو جو کراہت اور گندگی والی ہوں، آپ یہ دیکھیں کہ ہمیں بول و براز کرتے ہوئے قبلہ رخ ہونے سے منع کیا گیا ہے تو اگر بول و براز اور شیطان یہ سب کچھ دوران نماز قبلہ کی سمت موجود ہوں تو کا کیا حکم ہو گا!؟" انتہی
" شرح العمدة" (2/481)

دوم:

مسجد کے قبلہ کی جانب بیت الخلاء کی دو صورتیں ہو سکتی ہیں:

پہلی صورت: مسجد اور بیت الخلاء کے درمیان دیوار نہ ہو یا پھر دونوں کی دیوار مشترکہ ہو یعنی مسجد اور بیت الخلاء کی دیوار ایک ہی ہو ۔

تو ایسی صورت میں اس مسجد میں  نماز ادا کرنا مکروہ ہے، لہذا افضل یہی ہے کہ ان لیٹرینوں کو گرا دیا جائے  اور مسجد کی دیوار سے فاصلے پر انہیں بنایا جائے۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں:

"ہمارے فقہائے کرام کے ہاں قضائے حاجت کی جگہ مسجد کی دیوار کے اندر ہو یا باہر دونوں کا حکم یکساں ہے۔
جبکہ ابن عقیل نے اس موقف کو اپنایا ہے کہ اگر نمازی اور قضائے حاجت کی جگہ کے درمیان کوئی رکاوٹ اور حائل ہو مثلاً دیوار وغیرہ تو پھر یہ مکروہ نہیں ہے۔

تاہم پہلا موقف سلف سے منقول ہے اور اسی کے بارے میں صراحت بھی موجود ہے، حتی کہ ابو طالب کی روایت کے مطابق امام احمد  کہتے ہیں: اگر کسی آدمی نے مسجد کے قبلہ کی جانب قضائے حاجت کیلیے جگہ کھودی اور تیار کی تو اسے منہدم کر دیا جائے۔

جبکہ مروذی کی روایت کے مطابق مسجد کے قبلے  کی جانب بیت الخلاء کی موجودگی پر کہا: اس کی طرف رخ کر کے نماز مت پڑھی جائے" انتہی
" شرح العمدة" (4/482)

شیخ محمد بن ابراہیم رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"ایسے غسل خانوں اور لیٹرینوں کا معاملہ دو حالات سے خالی نہیں ہے:

یہ غسل خانے  اور لیٹرینیں یا تو مسجد کی دیوار سے بالکل الگ ہوں گے یعنی مسجد کی قبلے والی دیوار کے ساتھ جڑے ہوئے نہیں ہوں گے بلکہ اس سے فاصلے پر ہوں گے تو اس میں کوئی ممانعت نہیں ہے اور لہذا جب تک مسجد کے قبلے کی جانب موجود لیٹرینیں مسجد کی دیوار سے الگ تھلگ دیوار کے ساتھ بنے ہوئے ہیں تو اس میں نماز پڑھنے پر کوئی حرج ہے۔

لیکن اگر مسجد کے قبلے والی دیوار کے ساتھ  ہی یہ بنے ہوئے ہیں اور دونوں کی مشترکہ دیوار ہے تو اس کی طرف رخ کر کے نماز ادا کرنے کو علمائے کرام  مکروہ کہتے ہیں؛ کیونکہ جن جگہوں کی جانب سترہ رکھے بغیر رخ کر کے نماز ادا کرنے سے ممانعت کی گئی ہے ان میں بیت الخلاء بھی شامل ہے، اس کیلیے مسجد مشترکہ دیوار کافی نہیں ہے؛ کیونکہ سلف رحمہم اللہ نے ایسی مسجد میں نماز ادا کرنے کو مکروہ قرار دیا ہے جس کے قبلے کی جانب قضائے حاجت کی جگہ ہو۔

اس لیے ان غسل خانوں اور لیٹرینوں کو  مسجد کی دیوار سے  الگ کرنا مناسب ہے کہ دونوں کے درمیان مشترکہ دیوار نہ ہو" انتہی
" فتاوی  و رسائل شیخ محمد بن ابراہیم آل شیخ" (2/139)

دوم: مسجد اور بیت الخلا کی الگ الگ دیوار ہو، مشترکہ دیوار نہ ہو  تو اس میں کوئی کراہت نہیں ہے۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"ایسی مساجد میں نماز ادا کرنے سے کراہت اس وقت تک باقی رہے گی جب تک مسجد اور قضائے حاجت کی جگہ کو الگ نہ کر دیا جائے، چنانچہ اگر مسجد کی دیوار اور قضائے حاجت کی جگہ کے درمیان فاصلہ ہو تو پھر اس کی جانب رخ کر کے نماز ادا کرنا جائز ہے۔" انتہی
" شرح العمدة" (4/483)

ابن رجب رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"حرب رحمہ اللہ ، اسحاق رحمہ اللہ سے نقل کرتے ہیں کہ : انہوں نے ایسی مسجد میں نماز ادا کرنے کو مکروہ قرار دیا ہے جس کے قبلے کی جانب بیت الخلاء بنے ہوئے ہوں، ما سوائے اس صورت کے کہ: بیت الخلاء کی مسجد کی دیوار کے علاوہ بھی الگ سے لکڑی یا بانس کی اوٹ یا دیوار بنی ہوئی ہو۔۔۔ اور اگر قضائے حاجت کی جگہ قبلے کے دائیں یا بائیں جانب ہوں تو پھر کوئی حرج نہیں ہے" انتہی
" فتح الباری " (2/230)

اس لیے بہتر یہی ہے کہ ان بیت الخلاؤں  کو مسجد کی دیوار سے الگ کر دیا جائے، لیکن اگر بیت الخلاؤں کو  الگ کرنا ممکن نہ ہو اور ان کے قبلہ سمت ہونے کی وجہ سے مسجد اور نمازیوں کو کوئی تکلیف بھی نہ ہو تو ایسی صورت میں وہاں نماز ادا کرنے پر کوئی حرج نہیں ہے؛ کیونکہ جہاں ضرورت ہو تو وہاں کراہت زائل ہو جاتی ہے۔

واللہ اعلم.

ماخذ: الاسلام سوال و جواب