بدھ 24 صفر 1441 - 23 اکتوبر 2019
اردو

ایک شخص سفر سے واپس آیا اور اپنی بیوی سے رمضان میں دن کے وقت جماع کیا تو کیا اس پر کفارہ لازم ہو گا؟

سوال

سوال: ایسے شخص کا کیا حکم ہے جس نے اپنے ملک کے دار الافتاء کے فتوی پر عمل کرتے ہوئے ملکی دفاع میں جہاد کے عذر سے روزہ افطار کر لیا، پھر جب میدان کار زار سے کئی دنوں کے بعد گھر آیا تو رمضان تھا اور صبح کا وقت تھا، اس نے میدان جنگ میں ہونے کی وجہ سے روزہ بھی نہیں رکھا ہوا تھا، اس نے گھر آ کر اپنی روزہ دار بیوی سے جماع کر لیا؛ اب اس شخص کا اور اس کی بیوی کا راضی ہونے یا عدم رضا مندی کی حالت میں کیا حکم ہے؟ اللہ تعالی آپ کو جزائے خیر سے نوازے۔

جواب کا متن

الحمد للہ:

اگر کوئی شخص سفر سے گھر واپس آ جائے یا مریض شخص صحت یاب ہو جائے ، یا کوئی خاتون دن کے وقت حیض سے پاک ہو جائے تو جمہور علمائے کرام کے ہاں بقیہ دن کھانے پینے سے رکے رہنا لازمی نہیں ہے۔

مزید کیلیے آپ سوال نمبر: (49008) کا جواب ملاحظہ کریں۔

لیکن یہ سب افراد اپنی اس بیوی سے جماع نہیں کر سکتے جس نے روزہ رکھا ہوا ہے اور وہ مقیم بھی ہے، اگر اس نے یہ بات جانتے ہوئے بھی جماع کر لیا تو اسے اپنی بیوی کو گناہ کے کام پر معاونت اور ترغیب  دینے کی وجہ سے گناہ ہوگا۔

بیوی کے بارے میں قدرے تفصیل ہے:

- اگر بیوی کو جماع کیلیے مجبور کیا گیا یا بیوی بھول گئی کہ اس کا روزہ ہے، یا بیوی کو یہ ہی علم نہیں تھا کہ رمضان میں دن کے وقت جماع کرنا حرام ہے، تو ان تینوں صورتوں میں بیوی کا روزہ صحیح ہے، اس پر راجح موقف کے مطابق کفارہ یا قضا لازم نہیں ہوگی۔

- اگر بیوی کو حرمت جماع کا علم تھا اور یاد بھی تھا، تو جمہور فقہائے کرام کے مطابق اسے گناہ ہو گا، اس کا روزہ باطل ہو جائے گا، اس پر کفارہ دینا بھی لازم ہو گا؛ کیونکہ صحیح بخاری و مسلم میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم  نے اس شخص کو کفارہ ادا کرنے کا حکم دیا تھا جس نے رمضان میں دن کے وقت اپنی بیوی سے جماع کیا ، اور اصولی طور پر مرد و خواتین کے درمیان احکامات میں یکسانیت پائی جاتی ہے، صرف انہی احکامات میں خواتین کا حکم مردوں سے جدا ہوتا ہے جہاں شریعت وضاحت کر دے۔

چونکہ اس خاتون نے رمضان کی حرمت جماع کے ذریعے پامال کی ہے تو اس پر بھی مرد کی طرح کفارہ الگ سے واجب ہوگا؛ کیونکہ یہ کفارہ جماع کے ساتھ منسلک ہے، اس لیے مرد و خاتون دونوں پر یکساں کفارہ ہو گا ، جیسے زنا میں دونوں پر یکساں حد ہوتی ہے۔

مزید کیلیے سوال نمبر: (106532) کا جواب ملاحظہ کریں۔

واللہ اعلم.

ماخذ: الاسلام سوال و جواب

تاثرات بھیجیں