ہفتہ 7 ربیع الثانی 1440 - 15 دسمبر 2018
اردو

بچوں کی پرورش میں مشکلات سن کر شادی سے کتراتا ہے۔

176030

تاریخ اشاعت : 22-11-2018

مشاہدات : 278

سوال

میرا مسئلہ شادی کے متعلق ہے، میری عمر اس وقت 29 سال ہے اور ابھی تک میری شادی نہیں ہوئی؛ حالانکہ میری ملازمت بھی ہے اور میں شادی کرنے کی اہلیت بھی رکھتا ہوں، لیکن شیخ صاحب! جب میں شادی کے مسائل سنتا ہوں، بچوں کی تربیت کے حوالے سے سننے میں آتا ہے کہ بہت مشکل ہے، جس وقت میں بچوں کی جانب سے والدین کی نافرمانی کے واقعات سنتا اور پڑھتا ہوں تو شادی کے فیصلے سے پیچھے ہٹنے لگتا ہوں۔

واضح رہے کہ میں ان شاء اللہ اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنے والا ہوں، مجھے یہ بات اپنے والدین کی میرے بارے میں دعا سے معلوم ہوئی، میرے والدین میرے متعلق کہتے ہیں کہ الحمد للہ وہ مجھ سے راضی ہیں، میرے والد کا کہنا ہے کہ اللہ کا شکر ہے کہ اللہ تعالی نے مجھے تم جیسا بیٹا عطا کیا ہے۔

میرے والدین چاہتے ہیں کہ میں شادی کر لو، لیکن جس وقت میں شادی کا ارادہ کرتا ہوں تو شدید قسم کے خوف سے دوچار ہو جاتا ہوں، شادی کے بغیر میں اپنے آپ کو بہتر سمجھتا ہوں لیکن جب میں اپنے والدین کی طرف دیکھتا ہوں تو وہ میری خوشیاں دیکھنا چاہتے ہیں۔  اس دنیا سے میں  بالکل بے رغبت ہوں، میں یہ چاہتا ہوں کہ نمازیں کس طرح اول وقت پر ادا کروں،  اور اپنے والدین کے ساتھ کس طرح حسن سلوک سے پیش آؤں۔

جواب کا متن

الحمد للہ:

کچھ لوگوں کو شیطان اس طرح سے گمراہ کرتا ہے کہ ان کے دل میں  غلط کاری میں ملوث ہونے کے خوف سے حق بات سے دور رہنے کا خیال ڈال دیتا ہے، پھر وہ کسی بھی اچھے کام سے صرف اس لیے بے رغبت رہتا ہے کہ کہیں برے کام میں ملوث نہ ہو جائے، کسی بھی بھلائی کے معاملے سے صرف اس لیے دور رہتا ہے کہ اسے برائی کے ارتکاب کا خدشہ ہے۔ حالانکہ یہ وسوسوں کی ایسی نوعیت ہے جن کی بنا پر انسان سالکین کے درجات میں بلندیاں حاصل کرنے سے قاصر ہو جاتا ہے صرف اس دعوے کی بنیاد پر کہ اس راہ کے راہی کثرت سے تباہ ہوتے ہیں!

حالانکہ اللہ تعالی نے ہمیں اپنی ذات پر توکل کرنے کا حکم دیا ہے، اور عمل کرتے ہوئے پوری جد و جہد کے ساتھ آگے بڑھنے  کی رہنمائی فرمائی ہے، دوسری طرف اللہ تعالی سبحانہ و تعالی ہماری کاوشوں کو قبولیت سے نوازتا ہے اور ہماری کوتاہیاں مٹا دیتا ہے۔

اس لیے آپ کے لیے نصیحت ہے کہ بچوں کی تربیت میں ناکام ہونے والے لوگوں کی طرف مت دیکھیں مبادا آپ ان سے مرعوب ہو کر  اس منفی تصور سے باہر ہی نہ آ سکیں! تاہم آپ مثبت سوچ کے ساتھ مطمئن ہو کر زندگی گزاریں، آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو تفاؤل اور نیک شگون پسند تھا، آپ صلی اللہ علیہ و سلم اس دنیا میں اچھی خبر سننے پر خوشی کا اظہار کرتے تھے،  پھر چونکہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا طرزِ زندگی کامل اور بہترین  ہے، آپ نے عورتوں سے شادیاں بھی کیں، اولاد بھی پیدا ہوئی، آپ کو بیویوں اور بچوں کی تربیت کے حوالے سے مشکلات  بھی پیش آئیں، تو شادی سے انکار کی بجائے  شادی کرنا اور بچوں کی تربیت انسان کے لیے بہترین اور زیادہ ثواب کا باعث ہے، لہذا آپ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے طرزِ زندگی سے تصادم کی راہ مت اختیار کریں۔

آپ کو یہ چاہیے کہ اچھی تربیت کے لیے بھر پور کوشش کریں، تربیت کے اسالیب سے متعلق زیادہ سے زیادہ پڑھیں، تا کہ آپ کو اپنے ہدف کے بارے میں زیادہ سے زیادہ بصیرت حاصل ہو،  کیونکہ اگر آپ نیک صالح خاندان اور نسل کی تاسیس میں کامیاب ہو گئے جو کہ نبوی اخلاق سے آراستہ و پیراستہ ہو تو یہ آپ کی بہت بڑی کامیابی ہو گی، آپ صدقہ جاریہ کے مالک بن جائیں گے جس کا آپ کو آپ کی وفات کے بعد بھی فائدہ ہو گا۔

جیسے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ: "ایک عورت آئی اس کے ساتھ اس کی دو بیٹیاں بھی تھیں  وہ مانگ رہی تھی، اس وقت میرے پاس ایک کھجور کے سوا کچھ نہ تھا، میں نے وہی کھجور اسے دے دی ۔اس نے وہ ایک کھجور  اپنی دونوں بیٹیوں کے درمیان تقسیم کر دی اور خود نہ کھائی، پھر جب وہ چلی گئی اور نبی صلی اللہ علیہ و سلم تشریف لائے تو میں نے آپ سے اس خاتون کا تذکرہ کیا جس پر نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: (جو شخص ان بیٹیوں کی وجہ سے کسی تکلیف میں مبتلا ہوا اس کے لیے یہ بیٹیاں آگ کے سامنے پردہ بن جائیں گی)" اس حدیث کو بخاری: (1418) اور مسلم: (2629) نے روایت کیا ہے۔

اسی طرح عقبہ بن عامر  رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم  نے فرمایا: (جس کی تین بیٹیاں ہوں، وہ ان پر صبر کرے ، حسب استطاعت انہیں کھلائے پلائے اور پہنائے ، تو قیامت کے دن وہ بیٹیاں اس کے لیے جہنم کے سامنے رکاوٹ بن جائیں گی) اس حدیث کو امام ابن ماجہ : (3669) نے روایت کیا ہے اور البانی رحمہ اللہ نے صحیح ابن ماجہ میں اسے صحیح قرار دیا ہے۔

عراقی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"بچیوں کے ساتھ اچھا سلوک یہ ہے کہ ان کی حفاظت کرے، ان کی نان و نفقہ اور لباس وغیرہ کی شکل میں ان کی ضروریات پوری کرے، ان کی بہتری کے لیے خوب غور و فکر کرے، بنیادی اور ضروری تعلیم دلوائے، غیر اخلاقی اور نہ مناسب چیزوں سے انہیں روکے اور ڈانٹے، یہ تمام امور اچھے سلوک میں شامل ہیں، چاہے ڈانٹ  کے ساتھ مارنے کی ضرورت بھی پڑے تو بھی یہ اچھا سلوک ہے۔ تاہم انسان کو چاہیے کہ اس بارے میں اپنی نیت صاف اور خالص رکھے، ان کی تربیت کرتے ہوئے رضائے الہی کو اپنا مطمع نظر بنائے؛ کیونکہ تمام اعمال کی بنیاد اور دار و مدار نیتوں پر ہے۔ اچھے سلوک کی تکمیل میں یہ بھی شامل ہے کہ بچیوں کی وجہ سے کبھی بھی تنگ نہ ہو، نہ پریشانی اٹھائے، نہ ہی انہیں اپنے اوپر بوجھ سمجھے؛ کیونکہ اس سے اچھے سلوک میں کمی آئے گی۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا فرمان ہے کہ: (یہ بیٹیاں آگ کے سامنے پردہ بن جائیں گی) کا مطلب یہ ہے کہ بیٹیوں کی وجہ سے اللہ تعالی اسے جہنم سے دور فرما دے گا، اور اسے جہنم میں داخل ہونے سے بچا  دے گا۔ اور اس بات میں کوئی شک ہی نہیں ہے کہ جو جہنم میں نہیں گیا تو وہ جنت میں جائے گا؛ کیونکہ ان دونوں کے علاوہ کوئی اور ٹھکانا ہے ہی نہیں، اس کی دلیل ہماری بیان کردہ صحیح مسلم کی وہ روایت ہے جس میں ہے کہ اللہ تعالی ان بیٹیوں کی وجہ سے باپ کے لیے جنت واجب کر دے گا۔

بیٹیوں کو حدیث میں اس لیے خصوصی طور پر ذکر کیا گیا ہے کہ بیٹیاں صنف نازک ہوتی ہیں، ان میں کد و کاوش کی صلاحیت کم ہوتی ہے، نیز صنف نازک تن تنہا کچھ نہیں کر سکتیں، انہیں ہمیشہ بیرونی تحفظ  کی ضرورت رہتی ہے، اسی طرح ان کو لوگ بوجھ سمجھتے ہیں، بہت سے لوگ بیٹیوں کو اچھا بھی نہیں جانتے، جبکہ بیٹوں کے بارے میں ایسا نہیں سمجھا جاتا، بلکہ بیٹے بالکل دوسری سمت میں ہوتے ہیں۔

یہ بھی ممکن ہے کہ بیٹیوں کا ذکر مخصوص واقعہ کی وجہ سے آ گیا ہو اور اس واقعے میں بیٹوں  کی نفی مقصود نہ ہو، اس طرح بیٹے بھی اسی اہمیت اور فضیلت کے حامل ہوں" ختم شد
" طرح التثريب " (7/67)

مزید کے لیے آپ سوال نمبر: (82968) اور (146150) کا جواب ملاحظہ کریں۔
واللہ اعلم

ماخذ: الاسلام سوال و جواب

تاثرات بھیجیں