اول:
اصل ميں ہر وہ چيز جو خاوند اور بيوى كے مابين نفرت كا سبب و باعث ہو، اور اس سے نكاح كا مقصد محبت و الفت اور مودت حاصل نہ ہو تو نقصان پانے والے فريق كو فسخ نكاح كا حق حاصل ہو جاتا ہے، جب اسے نكاح سے پہلے اس حالت كا علم نہ ہو.
شادى سے قبل اگر اس عورت يا اس كے ولى كو عيب كا علم تھا، اور انہوں نے خاوند سے يہ چيز چھپا كر ركھى تو پھر خاوند كو فسخ نكاح كا حق حاصل ہے، اور وہ نكاح فسخ كر كے مہر كى واپسى كا مطالبہ كر سكتا ہے.
مزيد تفصيل ديكھنے كے ليے آپ سوال نمبر ( 103411) كے جواب كا مطالعہ كريں.
دوم:
اگر شادى كے بغير عورت ميں كوئى ايسا عيب پيدا ہو جائے جو خاوند كو بيوى سے متنفر كر دے، مثلا داڑھى نكل آنا يا بيوى كا بانجھ ہونا.. تو بھى جمہور كے ہاں خاوند كو نكاح فسخ كرنے كا حق حاصل ہے، ليكن مالكيہ كے ہاں اسے فسخ نكاح كا حق حاصل نہيں.
الموسوعۃ الفقھيۃ ميں درج ہے:
" جمہور فقہاء اس پر متفق ہيں كہ عقد نكاح سے پہلے قديم ، اور اس سے ملا ہوا، اور اس كے بعد پيدا ہونے والا عيب اختيار كے ثبوت ميں برابر ہے؛ كيونكہ عقد نكاح نفع پر كيا جاتا ہے، اور عقد نكاح كے بعد عيب پيدا ہونے سے اختيار ثابت ہو گا، بالكل اسى طرح جيسا كہ اجارۃ يعنى مزدورى ميں ہوتا ہے ليكن فقھاء كے ہاں اس ميں كچھ اختلاف پايا جاتا ہے:
مالكيہ بيان كرتے ہيں عقد نكاح سے پہلے يا پھر اس كے بعد عقد كے كچھ مدت بعد اس سے ملا ہوا اختيار كو ثابت كر ديتا ہے، ليكن وہ عيب جو عقد نكاح پر اچانك پيدا ہو جائے اور وہ بيوى ميں ہو تو خاوند كو مطلقا اختيار نہيں، كيونكہ يہ ايك مصيبت آئى ہے، طلاق كے ذريعہ اس سے چھٹكارا پانا ممكن ہے.
ليكن عقد نكاح كے بعد خاوند ميں پيدا ہونے والا عيب اگر ايسا ہو كہ اس كا نقصان و ضرر بہت زيادہ ہو، تو پھر بيوى كو اختيار ہے؛ كيونكہ اس سے خاوند كے ساتھ رہنا ممكن نہيں، اور اگر عيب تھوڑا سا ہو تو پھر اختيار نہيں " انتہى
ديكھيں: الموسوعۃ الفقھيۃ ( 29 / 71 ).
سوم:
جب شادى كے بعد بيوى ميں كوئى عيب پيدا ہونے كى بنا پر خاوند كے ليے حق فسخ ثابت ہو جائے تو وہ فسخ نكاح كا مطالبہ كر سكتا ہے، ليكن وہ عورت كے ولى سے مہر يا كسى اور چيز كا مطالبہ نہيں كر سكتا، كيونكہ اس عيب ميں عورت كا كوئى ہاتھ نہيں، كہ ہم كہيں عورت نے اپنا عيب چھپا كر خاوند كو دھوكہ ديا ہے.
الاقناع ميں درج ہے كہ:
" عقد نكاح كے بعد چاہے رخصتى كے بعد ہى ہو عيب پيدا ہونے سے اختيار ثابت ہو جاتا ہے... اور اگر نكاح كے بعد عيب ہونے پر فسخ نكاح رخصتى و دخول كے بعد ہو تو خاوند كو مہر واپس نہيں ملےگا، كيونكہ دھوكہ نہيں ہوا؛ اور اس ليے بھى كہ اللہ تعالى كے علاوہ كوئى علم غيب نہيں ركھتا " انتہى
ديكھيں: كشاف القناع ( 5 / 111 ).
ليكن ہم آپ كو يہى نصيحت كرتے ہيں كہ آپ فسخ نكاح ميں جلد بازى مت كريں، خاص كر جب آپ بيان كر رہے ہيں كہ آپ كى بيوى اچھى ہے، آپ اپنى بيوى كا علاج كرائيں.
اور پھر نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:
" اللہ تعالى نے جو بھى بيمارى نازل كى ہے، اس كى شفا و علاج بھى نازل فرمايا ہے، جس نے اسے جان ليا جان ليا، اور جو اس سے جاہل رہا وہ جاہل رہا "
مسند احمد حديث نمبر ( 3397 ) علامہ البانى رحمہ اللہ نے السلسلۃ الاحاديث الصحيحۃ ميں اسے صحيح قرار ديا ہے.
اور اگر اسباب و علاج كے بعد بھى مطلوب حاصل نہ ہو اور اگر آپ اپنى بيوى كو اپنے نكاح و عصمت ميں ركھ كر دوسرى شادى كر سكتے ہوں تو يہ اسے طلاق دينے سے بہتر و افضل ہے.
اور اگر آپ ايسا نہيں كر سكتے، اور دونوں بيويوں كو ركھنا مشكل ہو تو پھر آپ اسے چھوڑ سكتے ہيں، كيونكہ يہاں ايسا سبب پايا جاتا ہے جو نكاح كے مقصد كے حصول ميں ركاوٹ ہے، يعنى محبت و مودت اور الفت اور اولاد لطف اندوزى نہيں.
اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:
{ اور اگر وہ دونوں عليحدہ ہو جائيں تو اللہ تعالى اپنى وسعت سے ہر ايك كو غنى كر ديگا، اور اللہ تعالى بہت وسعت والا حكمت والا ہے }النساء ( 130 ).
واللہ اعلم