سوموار 15 صفر 1441 - 14 اکتوبر 2019
اردو

حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت پر رافضی شیعوں سے تعزیت

سوال

سوال: ہمارے کچھ سنی بھائی حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت پر شیعہ حضرات سے تعزیت کرتے ہوئے نظر آتے ہیں، اس کا کیا حکم ہے؟

جواب کا متن

الحمد للہ:

اول:

اہل سنت و الجماعت کا حسین رضی اللہ عنہ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت سے  غیروں کی بہ نسبت زیادہ تعلق ہے، کیونکہ اہل سنت و الجماعت ہی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آل، آپ کی ازواج مطہرات اور صحابہ کرام کا احترام کرتے ہیں اور اس کیلیے وہی طریقہ اپناتے ہیں جو اللہ تعالی نے بتلایا ہے اس میں کسی قسم کا غلو یا جفا داخل نہیں کرتے، اس میں کمی بیشی نہیں کرتے، رافضی شیعوں کے پاس ایسی کوئی  چیز  نہیں ہے جس کی وجہ سے حسین رضی اللہ عنہ کے ساتھ ان کا اہل سنت سے زیادہ تعلق بنے، یا ان کے ساتھ ان کا تعلق واضح ہو کہ ان سے شہادتِ حسین رضی اللہ عنہ پر ان سے تعزیت کی جائے، بلکہ رافضی شیعہ  اس مسئلے میں غلو، بدعات اور اتنی گمراہی میں ڈوبے ہوئے کہ ان سے اظہار لا تعلقی کرنا واجب ہے، انہیں ان کی حرکتوں سے روکنا چاہیے۔

رافضی شیعوں کے نظریات و عقائد کے بارے میں تفصیل سے جاننے کیلیے آپ سوال نمبر: (101272) کا جواب ملاحظہ کریں۔

دوم:

دس محرم کو رافضی شیعوں کی جانب سے  سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی یاد میں منعقد کی جانے والے ماتمی جلوس، مجالس عزاء، مصنوعی رونے دھونے  کی تقاریب اور نوحہ گری وغیرہ سب کچھ بدعات ہیں صحابہ کرام، تابعین عظام اور ائمہ کرام رحمہم اللہ جمیعاً میں سے کسی نے ایسا کوئی عمل نہیں کیا۔

کسی بھی نبی یا شہید کی شہادت  پر سالانہ برسی منانا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ کار نہیں تھا، حالانکہ سید الشہدا ء سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ہی شہید ہوئے۔

سلف صالحین میں سے کوئی بھی کسی کی وفات پر سالانہ برسی یا تقریب منعقد نہیں کرتا تھا، کسی نے بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم یا کسی امتی کی کبھی برسی  نہیں منائی۔

چنانچہ اگر کوئی شخص ایسا کرتا ہے تو  وہ بدعت کا ارتکاب کر رہا ہے، وہ سلف صالحین اور سنت نبوی سے متصادم عمل میں مبتلا ہے۔

اس بارے میں مزید کیلیے آپ سوال نمبر: (4033) کا جواب ملاحظہ کر سکتے ہیں۔

رافضی شیعہ گمراہی میں کچھ زیادہ ہی بڑھ چکے ہیں انہوں نے دس محرم کے دن کیلیے بے بنیاد اور بے دلیل انتہائی گھٹیا بدعات  ایجاد کی ہیں جن میں وہ سینہ کوبی، ماتم ، نوحہ گری، زنجیر زنی، تلوار زنی، سر زخمی کرنا ، خون نکالنا اور دیگر عجیب و غریب حرکتیں کرتے ہیں۔

مزید کیلیے آپ سوال نمبر: (101268) کا جواب بھی ملاحظہ کریں۔

مذکورہ بالا تفصیلات کی بنا پر:

شہادت سیدنا حسین رضی اللہ عنہ  پر کسی بھی مسلمان کو شیعہ رافضیوں کیلیے تعزیتی پیغام نہیں بھیجنا چاہیے؛ کیونکہ یہ عمل بدعت اور سنت سے متصادم ہے، نیز ایسا کرنے سے رافضیوں کے باطل نظریات کا اقرار بھی ہے، اسی طرح انہیں یہ بھی کہنا درست نہیں ہے کہ اللہ تعالی تمہیں اجر دے؛ کیونکہ وہ بدعت پر عمل کرنے کی وجہ سے اجر نہیں بلکہ عذاب کے مستحق ہیں۔

واللہ اعلم.

ماخذ: الاسلام سوال و جواب

تاثرات بھیجیں